کیا قومی مکالمہ ممکن ہے؟
- تحریر سلمان عابد
- منگل 24 / نومبر / 2020
- 6400
قومی مکالمہ یا ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ یہ مکالمہ کسی ایک یا دو فریق کے درمیان نہیں بلکہ ریاست یا سماج سے جڑے تمام فریقین جو فیصلہ سازی کے عمل میں اہمیت رکھتے ہیں کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت سے اہل علم یا اہل سیاست کے بقول ملک میں جو بحران موجود ہے اس کا ایک بڑا حل یا اس کی ابتدائی کوشش قومی ڈائیلاگ سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ سوچ اور فکر کوئی نئی نہیں اس سے قبل بھی ہم بہت سے اہل دانش کی جانب سے اس تجویز کو سن چکے ہیں۔ لیکن سیاسی ماحول میں بداعتمادی کے سبب ڈائیلاگ کو بہت پیچھے چھوڑ دیاگیا ہے۔جو لوگ عمومی طور پر مختلف فریقین کے درمیان ڈائیلاگ پر زور دیتے ہیں ان کے سامنے دو رائے ہیں۔ اول اس ڈائیلاگ میں فوج، عدلیہ،بیوروکریسی، بارایسوسی ایشن، میڈیا سمیت حکومت او رحزب اختلاف اس کا حصہ ہوں۔ جبکہ دوسرے طبقہ کے بقول ڈائیلاگ صرف حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہی ہونا چاہیے او رہر اس عمل سے گریز کرنا چاہیے جو آئینی حدود سے تجاوز کرے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک داخلی اور خارجی محاذ پر لاتعداد سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے۔ مسائل کی نوعیت ایسی ہے کہ کوئی بھی فریق سیاسی طور پر تنہائی میں یہ معاملات حل نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے اتفاق رائے یامتفقہ طور پر اجتماعی سطح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔
پچھلے دنوں تواتر سے مختلف افراد کی جانب سے ڈائیلاگ کی بات سامنے آئی۔ مریم نواز نے بھی بی بی سی کو ایک دیے گئے ایک انٹرویو میں فوج یا اسٹیبلیشمنٹ سے بات چیت کرنے کا عندیہ دیا۔ مولانا فضل الرحمن کے بقول اگر ڈائیلاگ ہوگا تو یہ حزب اختلاف کسی ایک جماعت سے نہیں بلکہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوگا۔مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کے بقو ل یہ ڈائیلاگ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا اور نئے شفاف انتخابات جو اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت سے پاک ہوگا اسے ہی قبول کیا جائے گا۔یعنی اسٹیبلیشمنٹ پہلے عمران خان کو گھر بھیجے تو ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔اگرچہ بہت سے لوگ تردید کرتے ہیں کہ مریم نواز نے اسٹیبلیشمنٹ سے حکومت کو گھر بھیجنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ اگر ان کی یہ بات درست ہے تو پھر وہ کس سے مطالبہ کررہی ہیں کہ ڈائیلاگ تب ہی ممکن ہوگا جب حکومت کو گھر بھیجا جائے گا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ فوج یا عدلیہ خود کیسے ڈائیلاگ کی طرف قدم بڑھاسکتی ہے۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اس کے پاس قانونی طور پر کیا اختیار ہے کہ وہ اس میں پہل کرے او رکیوں کرے۔ ڈائیلاگ اگر ہونا ہے اور سیاسی فریقین اس کی ضرورت او راہمیت کو تسلیم کرتے ہیں تو اس کی پہل بھی اہل سیاست کو ہی کرنی ہوگی۔ بنیادی طور پر کوئی بھی ڈائیلاگ موجودہ صورتحال میں حکومت کو باہر نکال کر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔اگر ڈائیلاگ ہونا ہے تو اس کی پہل خود حکومت کو ہی کرنی ہوگی اور ایجنڈا بھی واضح کرنا ہوگا۔ اس کے بعد حکومت کو ہی حزب اختلاف سمیت دیگر فریقین کو بھی اس ڈائیلاگ کے لیے دعوت دینی ہوگی۔ڈائیلاگ کا ایجنڈا بھی اہل سیاست کو بیٹھ کر خود طے کرنا ہوگا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ڈائیلاگ کی حامی نہیں یا سردمہری رکھتی ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو ہی قبول کرنے سے منکر ہیں تو ڈائیلاگ کیسے ممکن ہوگا۔
نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جب براہ راست فوج کے سربراہ، ڈی جی آئی ایس آئی، عدلیہ میں موجود ججوں، نیب کے سربراہ پر تنقید کرتے ہیں او ران کو ہی صورتحال کا براہ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں تو پھر ڈائیلاگ کیسے ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حزب اختلاف تو فوج اور عدلیہ میں سیاسی تقسیم کاکھیل کھیلنے کی کوشش کررہی ہے تو ایسے میں کیونکر یہ ادارے کسی ایسے ڈائیلاگ کا حصہ بننا چاہیں گے جو اداروں کومتنازعہ بنارہا ہے۔ اسی طرح یہ کیسے ممکن ہے کہ ادارے کسی ایسے ڈائیلاگ کا حصہ بنیں جس میں حزب اختلاف کے بقول حکمران جماعت سے ڈائیلاگ ہوہی نہیں سکتا۔ڈائیلاگ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب حکومت حزب اختلاف کو اورحزب اختلاف حکومت کے وجود یا مینڈیٹ کو قبول کرے گی۔کیا کوئی حکومت ایسے کسی ڈائیلاگ میں پہل کرے گی جس کا مقصد ہی ان کی حکومت کا خاتمہ ہو،ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔
اس لیے ڈائیلاگ کے ہونے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا سیاسی فریقین سمیت سب ادارے ایک میز پر موجودہ سیاسی صورتحال اور حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم یا ٹکراؤ کے ماحول میں مل کر بیٹھ سکیں گے؟ اسی طرح یہ کیسے ممکن ہوگا کہ پہلے حزب اختلاف یہ مطالبہ کرے کہ ڈائیلاگ ان کی شرائط پر ہی ہوں گے۔حکومتی اور حزب اختلاف کی شرائط کے درمیان کون باہمی انڈرسٹینڈنگ پیدا کرے گا۔کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے بقول وہ ڈائیلاگ کے حامی ہیں لیکن اس سے قبل حزب اختلاف کی شرائط کو تسلیم کرنا یا پیشگی ایجنڈا مسلط کرنے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ملک چار بڑے مسائل سے دوچار ہے۔ اول علاقائی یا خطہ کی سیکورٹی کی بڑھتی ہوئی سنگین صورتحال، بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی او رجنگی ماحول کو پیدا کرنا، افغان بحران کا حل، سی پیک سے جڑے معاملات، ملک کی معاشی بدحالی، اداروں اور یزب اختلاف کے درمیان ٹکراو کا ماحول، حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم جس میں نفرت یا سیاسی تعصب بھی بالادست ہوسے کیسے نمٹا جائے۔
ایسی صورتحال میں ڈائیلاگ کی خواہش اپنی جگہ لیکن تناؤ کا بھی پہلے تجزیہ کرنا ہوگا۔ ڈائیلاگ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب آپ اداروں کے وجود او راس میں موجود افراد کو قبول کریں۔براہ راست اداروں او ران کے سربراہان پر تنقید سے ڈائیلاگ کے امکانات کم اور ٹکراؤکا ماحول غالب ہوجاتا ہے۔حکومت او رحزب اختلاف دونوں محاذ پر جو سخت گیر مزاج کے لوگ ہیں وہی اس وقت بحران کو آگے بڑھانے میں براہ راست ذمہ دار ہیں۔سیاسی ماحول میں تناؤ کو سیاسی لوگوں نے ہی بیٹھ کر حل کرنا ہے اور کسی ادارے سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اس میں پہل کرکے کچھ ان کے حق میں کرسکے گا، ممکن نہیں ہوگا۔وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے تناظر میں حزب اختلاف کو مذاکرات کی جو پیش کی اسے بھی ٹھکرادیا گیا ہے۔
اس لیے ڈائیلاگ کی طرف بڑھنا ہے تو پہلے اہل سیاست کو اپنی موجودہ پالیسی پر جو ٹکراؤ کی ہے اس کی نفی کرنا ہوگی۔ ابتدائی طور پر پارلیمنٹ کو اس ڈائیلاگ میں پیش رفت کے لیے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔لیکن سوال وہی بنیادی نوعیت کا ہے کہ اس ڈائیلاگ کا نکتہ آغاز کیا ہوگا اور عملی طور پر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔جب ڈائیلاگ کو خوف کی بنیاد پر کسی بھی فریق پر مسلط کیا جائے گا تو کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔اس طرز عمل میں ڈائیلاگ بہت پیچھے چلا جاتا ہے اور بداعتمادی کی سیاست کو ہی غلبہ حاصل ہوتا ہے۔