عظیم فٹ بالر ڈیگو میراڈونا انتقال کر گئے

  • بدھ 25 / نومبر / 2020
  • 9460

فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین فٹ بالر ڈیگو میراڈونا ساٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔  انہیں دل کا دورہ پڑا۔ وہ اس دورے سے جانبر نہ ہو سکے۔

وہ دو ہفتے پہلے ہی  میرا ڈونا ہسپتال سے واپس گھر آئے تھے جہاں ان کے دماغ سے خون کا لوتھڑا نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔ میراڈونا نے ارجنٹینا کے 1986 کا ورلڈ کپ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے بوکا جونئیرز، نپولی اور بارسلونا جیسے فٹ بال کلبز کے لیے کھیلا۔ ان کے کیرئیر کی ایک اہم یاد ان کا ہینڈ آف گاڈ کے نام سے مشہور گول ہے جس کے سبب انگلینڈ 1986 کے ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا تھا۔ اس کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا دو ایک سے جیتا تھا۔ دونوں گول میراڈونا نے کیے تھے۔ ہینڈ آف گاڈ کے نام سے مشہور گول میں  گول کرتے ہوئے   ان کا ہاتھ  بال کو چھو گیا تھا جو ریفری نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے  دوسرا گول  66  میٹر  تک گیند کو خود لے جا کر کیا۔ اس دوران انگلینڈ کے پانچ کھلاڑیوں کو ڈاج دیا۔  اس گول کو صدی کا بہترین گول قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے ارجنٹینا کی طرف سے چار ورلڈ کپ کھیلے۔  اور  اپنے ملک کی طرف سے 91 میچ کھیلے اور 34 گول کیے۔ منشیات کے استعمال کی وجہ سے ان کا کیرئیر اتار چڑھاؤ اور مشکلات کا شکار رہا۔ فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک میراڈونا ارجنٹائن کی اس ٹیم کے کپتان تھے جس نے 1986 میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس ورلڈ کپ میں ان کی پرفارمنس بہت اچھی رہی تھی اور انہیں انگلینڈ کے خلاف کوارٹر فائنلز میں ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول کی وجہ سے بہت شہرت ملی۔

ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں میراڈونا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے: ’آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے۔‘ ارجٹائن کے صدر نے ملک میں تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے: ’آپ ہمیں دنیا کی چوٹی پر لے گئے تھے۔ آپ نے ہمیں بہت خوش کیا تھا۔ آپ ان میں سب سے عظیم تھے۔‘  ’دنیا میں رہنے کے لیے شکریہ ڈی ایگو۔ ہم تمام زندگی آپ کو مس کرتے رہیں گے۔‘

انہوں نے فٹبال کے کیریئر کے دوران بارسلونا اور نیپولی کے لیے کھیلا تھا اور اطالوی سائیڈ کے ساتھ دو سیریز اے ٹائٹل بھی جیتے تھے۔ میراڈونا نے 1990 میں اٹلی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ تاہم ارجنٹائین فائنل میں جرمنی سے ہار گیا تھا۔ اس کے بعد 1994 میں امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی وہ بطور کپتان گئے لیکن ایفیرڈین کے ڈرگ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد انہیں واپس بھیج دیا گیا۔

اپنے کیریئر کے دوسرے دور میں میراڈونا کوکین کی لت سے لڑتے رہے اور 1991 میں ایک ڈرگ ٹیسٹ  مثبت آنے کے بعد ان پر 15 ماہ کی پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے 1997 میں اپنی 37 ویں سالگرہ پر پروفیشنل فٹبال کو خیرباد کہا۔ اس وقت وہ ارجنٹائن کی ٹیم بوکا جونیئر کے ساتھ تھے۔

2008 کو میراڈونا کو ارجنٹائن کی قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا لیکن 2010 میں جرمنی کے ہاتھوں ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنلز میں شکست کے بعد انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے متحدہ عرب امارات اور میکسیکو کی ٹیموں کا انتظام سنبھالا اور اپنی موت کے وقت ارجنٹائن کی ٹاپ کی ٹیم جمناسیا ایسگریما کے انچارج تھے۔

برازیل کے عظیم کھلاڑی پیلے نے میراڈونا کی وفات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا: ’ایک دن ہم اوپر آسمان پر اکٹھے بال کو کک لگا رہے ہوں گے۔‘