دنیا کے ریکارڈ توڑ جنازے

ہمارے سوشل میڈیا پر ان دنوں بڑے بڑے جنازوں کے حوالے سے بحث چل رہی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کے حوالے سے بیان کیا جا رہا ہے کہ ہمارے حق پر ہونے کے فیصلے ہمارے جنازے کریں گے۔

امام صاحب نے جن مخصوص حالات کے تناظر میں یہ بات کہی تھی ہم اس کی بحث میں نہیں جانا چاہتے مگر تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ ضرور عرض کیے دیتے ہیں کہ چھوٹے یا بڑے جنازے قطعی معیار حق نہیں ہوتے۔ یہاں بڑی بڑی عظیم الشان ہستیاں ہو گزری ہیں جن کے جنازوں میں شرکاء کی تعداد گنتی کے چند افراد سے زیادہ نہ تھی۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے نام گنوائے جائیں تو لوگوں کو یقین نہیں آئے گا جبکہ ان کے برعکس ایسے افراد کی ان گنت مثالیں موجود ہیں جنہوں نے سماج میں منافرت کے بیج بوئے اور جوڑ کی بجائے توڑ کا کام کیا یا شدت پسندی کو فروغ دیا مگر پیروکاروں کی تعداد کے حوالے سے وہ جس طرح زندگی میں چھائے رہے۔ اس طرح مرنے کے بعد ان کے جنازوں کے شرکاء ریکارڈ توڑ رہے۔ انڈین سٹیٹ مہاراشٹر میں شیوسینا کے نیتا بال ٹھاکرے کی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔

آج ہم سوچیں کہ انڈین سماج میں بال ٹھاکرے کے اس قدر پاپولر ہونے کی وجہ کیا تھی؟ انڈین ہندو سماج اپنی اصل میں جنگجو نہیں بلکہ شکستی و شانتی کا سماج ہے۔ ہندو مذہب میں عاجزی، انکساری اور منکسر المزاجی کو سابقہ پانچ چھ ہزار سال سے انسانیت کے اعلیٰ ترین اوصاف کی حیثیت سے اپنایا جاتا رہا ہے۔ بلاشبہ ان کے درمیان بھی حق وباطل کے یودھ یا معرکے ہوئےمگر انڈین یاہندو سماج میں سادھو یا بھکشو ہونا ہی پیہم معیار عظمت رہا ہے۔ اس حوالے سے جائزہ لیتے ہوئے زیادہ قدیمی ادوار میں جانے یا یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ صدیوں کی تاریخ میں کبھی ان لوگوں نے کسی ہمسایہ ملک پر چڑھائی یا جارحیت نہیں کی۔ حالانکہ ہندوستان پر بیرونی حملے ہمیشہ تابڑ توڑ ہوتے رہے ہیں۔

اشوکا نے ایک وقت میں اگرچہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگیں لڑیں مگر بدھا کی تعلیمات کے زیر اثر وہ ایسا تائب ہوا کہ ایک سادھو اور بھکشو بن کر رہ گیا۔ ابھی کل کی بات ہے جب جدید ہند میں ان کے بابائے قوم نے یہ کہا کہ ہم گردنیں کٹوائیں گے مگر مزاحمت یا جارحیت نہیں کریں گے۔ ان تمامتر وچاروں کے باوجود کچھ حقائق اتنے تلخ ہوتے ہیں ، شدت پسندوں کے کچھ کرتوت اتنے سیاہ ہوتے ہیں کہ گونگوں کو بولنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگر یہ قانون فطرت ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ شیوجی مہاراج کی فوج کے نیتا بال ٹھاکرے اسی ردعمل کی پیداوار تھے۔ مودی جی کی بی جے پی کا ظہور یا نیا جنم بھی اسی پس منظر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

درویش کو یہ سچائی تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ان کے برعکس ہمارا سماج بنیادی طور پر جنگجو، بہادر، جارح اور جہادی نہ صرف صدیوں سے چلا آ رہا ہے بلکہ آج بھی اسی سوچ کے زیر اثر آگے بڑھ رہا ہے۔ تاریخی طور پر ہمارے ہیروز بھی بالعموم سائنسدان، فلسفی یا دانشور نہیں بلکہ عسکریت پسند جہادی جنگجو یافاتحین ہی رہے ہیں۔ اور آج بھی ہمارے روایتی مسلم سماج میں عمومی پذیرائی ان لوگوں کو ملتی ہے جو عاجزی یا صلح جوئی کی بجائے کافروں کے سینوں پر مونگ دلنے کی سوچ کے حامل ہوتے ہیں جو اقوام غیر کے ساتھ صلح جوئی یا جوڑ کی بجائے منافرت اور توڑ بلکہ بٹوارے کی بات کرتے ہیں، جو دیوانے عشق و مستی میں گردنیں تن سے جدا کرتے ہیں یا جدا کرنے کے نعرے لگاتے ہیں۔

دیانتداری سے اگر حقائق کو تسلیم کیا جائے تو مملکت پاکستان کی سات دہائیوں پر محیط تاریخ میں سب سے بڑا ریکارڈ توڑ جنازہ اس شخص کا تھا جس نے بلا سفیمی کے نام پر ایک گورنر کو قتل کیاتھا اور آج اس کا ریکارڈ ’’نگاہ عشق و مستی‘‘ رکھنے والے اسی فکر و سوچ کے حامل ایک ایسے مذہبی آدمی نے توڑا ہے جس کی مخالفت میں ہم جیسے لاکھوں دل جلے قلم توڑ رہے ہیں۔ مگر پاکستانی مذہبی ذہن نے لبیک اسی کی آواز پر کیا ہے۔ آپ کہتے رہیں کہ شریعت میں ’’اللھم لبیک ‘‘ ہے مگر ہمارے مذہبی الذہن عوام نے لبیک اسی ہستی کیلئے ثابت کردیا ہے جس کے نعرے یہ خادم دین لگا رہا تھا۔ حسد ایک بری بلاہے حسد کسی کو بھی کسی سے نہیں کرنا چاہیے البتہ تفکر سے کام ضرور لینا چاہیے۔

مملکت پاکستان میں اہل فکر و دانش کو تدبر کے ساتھ یہ غور ضرور کرنا چاہیے کہ یہاں وقت کے ساتھ شدت پسندی کو جو بڑھاوا ملاہے اس کی وجوہ یا بنیادیں کیا ہیں؟ آج پوری مہذب دنیا میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کسی کو محض ا س کے عقیدے کی وجہ سےمارا جا سکتا ہے نہ نفرت و حقارت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا کوئی بھی نظریہ انسانیت کی مسلمہ بنیادی اقدار کے خلاف ہے جس کا نتیجہ سوائے انسانی سماج کی بربادی کے اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ غضب خدا کا ایک پندرہ سال کا بچہ کسی اقلیتی فرقے والے کے گھر کی بیرونی گھنٹی بجاتا ہے اور دروازہ کھلنے پر سامنے نمودار ہونے والے 35 سالہ ڈاکٹر کے سر میں گولی مار کر اسے موقع پر قتل کر دیتا ہے۔ فائرنگ کی آواز سن کر مقتول کا باپ چچا اور دیگر گھر والے بھاگ کر سامنے آتے ہیں اور اسی راسخ العقیدہ کی گولیوں سے زخمی ہو کر گرتے ہیں۔ بعد ازاں پکڑے جانے پر وہ 15 سالہ لڑکا یہ استدلال کرتا ہے کہ اس گھر والوں کا تعلق فلاں اقلیتی فرقے سے تھا جو گستاخ واجب القتل ہیں۔ اس لئے میں نے تو اپنا مقدس فریضہ ادا کیا ہے۔

اب ہم ٹھنڈے دل و دماغ سے غو ر کریں کہ ایک معصوم ذہن میں ایسی زہریلی سوچ ابھارنے یا بھڑکانے کے عوامل کیا ہیں؟ ہماری اجتماعی قومی دانش، ہمارا ریاستی بیانیہ، ہمارا آزاد اور ذمہ دار میڈیا کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری ہیومن رائٹس کی وزارت چلانے والی دوشیزہ کو فرانسیسی بچوں کی کس قدر فکر ہے جس کیلئے وہ سفارتی ادب آداب یا حدود و قیود کو بھی پامال کر دینا چاہتی ہیں لیکن اپنے بچوں کا ذہنی استحصال وہ کس لیول پر پہنچا چکی ہیں ان کی بلا سے، اپنی نسلیں برباد ہو رہی ہیں تو ہو جائیں مگر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔

بات شروع ہوئی تھی بڑے بڑے جنازوں کی روداد سے، کس کس کا تذکرہ کریں، شاید سب سے بڑا جنازہ تو ہم نے اپنے اس پاک پاکیزہ یا مقدس ملک میں انسانیت اور اس سے جڑی اقدار کا نکال دیا ہے، عقل شعور، حریت فکر یا آزادی اظہار کا نکال دیا ہے۔ اتنا بڑا جنازہ تو جناح صاحب کا بھی نہیں تھا اور جو خود کو قائد عوام کہتا تھا اس کا بھی نہیں تھا۔ جو آئین کو چند اوراق کا کتابچہ کہتے ہوئے اسے پھاڑ پھینکنے کی بات کرتا تھا، اس مرد مومن کا جنازہ خادم انسانیت محترم عبدالستار ایدھی سے کہیں بڑا تھا۔

کہا جاتا ہے دنیا میں سب سےبڑا جنازہ مائیکل جیکسن کا تھا جس میں کوئی نصف کروڑ لوگوں نے شرکت کی۔ پرنس ڈیانا کا جنازہ بھی بڑے عالمی جنازوں میں سے ایک تھا۔ مسلم دنیا میں اب تک کے بڑے جنازوں میں مصرکے ڈکٹیٹر جمال عبدالناصر کے جنازے کو سب سے بڑا قرار دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ہمارے لاہور کے حالیہ جنازے سے لگتا ہے غیر مسلموں کے نہیں تو کم از کم اس نے مسلمانوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔