وزیراعظم کی تقریر، کورونا کی تباہ کاری اور معاشی فلاح کا ناقص خواب
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 25 / نومبر / 2020
- 14100
ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان پر منعقد ہونے والی ورک شاپ سے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کو پیش نظر رکھا جائے تو پاکستان صنعتی ترقی کے گھوڑے پر سوار ہوچکا ہے اور تیزی سے منافع بخش معیشت میں تبدیل ہورہا ہے۔ اس خطاب میں وزیر اعظم نے حسب معمول تمام مسائل کی جڑ ماضی میں کئے گئے فیصلوں کو قرار دیا اور واضح کیا کہ 60 کی دہائی کے بعد پہلی بار کسی حکومت نے ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتی فروغ کی طرف توجہ دی ہے۔
عمران خان کا دعویٰ ہے کہ دولت کمانا اور سرمایہ کاروں و تاجروں کو منافع حاصل کرنے کا موقع دینا ہی حکومت کی بنیادی حکمت عملی ہے۔ صنعتی ترقی اور کاروبار ی فروغ کی رہ امیں حائل تمام مشکلات دور کی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’ٹیکسٹائل کے صنعتی مرکز فیصل آباد میں یہ صورت ہوچکی ہے کہ وہاں صنعتوں کو کام کرنے والے مزدور نہیں ملتے‘۔ ایک عالمی فورم پر ملک کے وزیر اعظم کی طرف سے کہی گئی باتوں کو جھٹلانا تو آسان نہیں ہے لیکن یہ سچائی بہر حال نوٹ کی جاسکتی ہے کہ عمران خان کا اقتصادیات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس شعبہ میں انہیں بنیادی نوعیت کی مہارت ہی حاصل ہے۔ اس لئے وہ وہی کہتے ہیں جو انہیں بتایا جاتا ہے یا جو معلومات متعلقہ ادارے وزیر اعظم کے کان میں ڈالتے ہیں۔ کیوں کہ اگرملکی معیشت میں تیزی کا وہی حال ہوتا جس کا اظہار وزیر اعظم کررہے ہیں تو عام لوگ بیروزگاری اور مہنگائی کی دہائی نہ دے رہے ہوتے۔ اگر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس یا منافع کے سبب حکومت پر مالی بوجھ میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے تو حفیظ شیخ ابھی تک آئی ایم ایف سے معاہدہ کے مطابق مالی امداد کی اقساط وصول کرنے کے لئے بات چیت نہ کررہے ہوتے۔ آئی ایم ایف بجلی اور فیول کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کررہا ہے ۔ وہ حکومتی آمدنی میں اضافہ اور ٹیکس و محاصل وصول کرنے کی صلاحیت سے بھی مطمئن نہیں ہے۔ اسی لئے نئے فنڈز دینے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے۔
عمران خان مسلسل ملک کے پہلے فوجی آمر ایوب خان کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو اسی دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ وہ 2020 کے پاکستان کی قیادت کررہے ہیں جب صنعتی پیداوار کے طریقے اور پیداواری اضافہ کے ذرائع تبدیل ہوچکے ہیں۔ اب ساٹھ کی دہائی کے برعکس باقاعدہ تعلیم و تربیت کے بغیر کام کرنے والے مزدوروں سے کام نہیں چلایا جاسکتا بلکہ صنعت و زراعت ہو یا زندگی کے دوسرے شعبے، اب باقاعدہ تربیت یافتہ لوگ ہی مفید اور کارآمد ہوسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے حکومت کو تعلیم پر توجہ دینے، نوجوانوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر عملی تربیت حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اہم ہوگا کہ ملک کے تعلیمی ادارے مذہبی عقائد کی ترویج کی بجائے فنی پہلوؤں پر توجہ دے سکیں اور نوجوانوں کو نفسیاتی اور جذباتی لحاظ سے ناکارہ بنانے کی بجائے انہیں عملی زندگی اور جدید دور کی ضرورتوں کو سمجھنے اور خود کو ان کے مطابق ڈ ھالنے کے قابل بنا سکیں۔
عمران خان انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کا دعویٰ ضرور کرتے رہے ہیں لیکن برسر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے روحانی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ حیرت ہے وہ عوام کو قوت ارادی اور روحانیت و مذہب کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن عالمی اقتصادی فورم سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی حکومت کو زر پسند دنیا دار کے طور پر پیش کرتے ہیں جو دولت کمانے کے سب راستوں کو آسان بنانے کی تگ و دو کررہی ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ ہے کہ تمام بیورو کریسی اور مشکل قانونی طریقوں کو ختم کرکے سرمایہ داروں اور تاجروں کے لئے سہولتیں پیدا کی جارہی ہیں تو دوسری طرف نیب کسی بدمست ہاتھی کی طرح جس شخص کو چاہے گرفتار کرنے اور طویل مدت تک قید میں رکھنے میں آزاد ہے۔ تحقیقاتی کمیٹیاں بنا کر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور پیداوار میں کردار ادا کرنے والے لوگوں اور اداروں کو مافیا قرار دے کر نکو بنانے کی سرکاری پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم خواب دکھا رہے ہیں کہ ان کی حکومت پاکستان میں دولت اور منافع کمانا سہل کررہی ہے۔
پاکستانی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ اسی شعبہ سے اس کی آبادی کو کھانے پینے کی اشیا ملتی ہیں اور یہی شعبہ آبادی کی بہت بڑی تعداد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ حکومت اسی شعبہ کے مطالبات کو ناجائز سمجھ کر احتجاج کرنے والوں پر بے دریغ تشدد کرنا ضروری سمجھتی ہے لیکن تاجروں کے وفود سے ملاقاتوں میں انہیں ہر قسم کی مراعات کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ جب تک ملکی معاشی حقیقت و زمینی حقائق اور قومی مالی ضروریات میں کوئی تال میل پیدا نہیں کیا جائے گا ، کوئی بھی جامع معاشی پالیسی تیار نہیں کی جاسکتی۔ زراعت کو نظرانداز کرنے ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہو رہی ہے اور جس فیصل آباد کو وزیر اعظم ایک صدی پہلے کا مانچسٹر بنانا چاہتے ہیں، اس کی ٹیکسٹائل صنعت کو چلانے کے لئے سوت درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ملکی سطح پر پیدا ہونے والی گندم کی مناسب قیمت مقرر کرنے سے انکار کیا جاتا ہے لیکن بیرون ملک سے مہنگی گندم درآمد کرنے میں کوئی تردد دیکھنے میں نہیں آتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کسی ٹھوس معاشی حکمت عملی پر عمل پیرا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے کوئی واضح اہداف ہیں۔ وزیر اعظم اور حکومت معیشت کو بھی اسی طرح نعروں سے کامیاب بنانا چاہتے ہیں جس طرح وہ بزعم خویش سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگا چکے ہیں۔ معیشت کو بنیادی اہمیت دینے والی کوئی بھی حکومت نہ ملک میں گروہ بندی کی حوصلہ افزائی کرے گی اور نہ ہی انتہا پسندی کو پنپنے دے گی۔ وہ قومی سطح پر تصادم اور ٹکراؤ کی صورت حال بھی پیدا نہیں کرے گی بلکہ بدترین سیاسی مخالفین کوبھی ساتھ لے کرچلنے کا کوئی راستہ تلاش کرے گی۔ پاکستان میں اس وقت جو حالات ہیں ان میں چند ہزار لوگوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے والا کوئی گروہ حکومت کو ایک بڑے یورپی ملک کے خلاف باقاعدہ معاہدہ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے ۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر اپنے ملک میں عقیدہ کی بنیاد پر ہونے والی قتل و غارت گری پر توجہ مبذول کرنے کی بجائے، فرانس میں آباد مسلمانوں کے حقوق کے لئے سر پر کفن باندھ کر میدان میں کود پڑتی ہیں۔
سیاسی سطح پر یہ صورت ہے کہ اپوزیشن حکومت کی پابندیوں اور انتباہ کے باوجود پشاور میں جلسہ کرچکی ہے اور اب 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کیا جائے گا جسے تادم تحریر ملتوی کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ ملک میں جس رفتار سے کورونا کی دوسری لہر آئی ہوئی ہے، اس کے دوران اس قسم کے عوامی اجتماعات عمومی صحت کے لئے مہلک اور قومی معیشت کے لئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن ہفتہ عشرہ پہلے تک وزیر اعظم خود جلسے منعقد کرکے اپوزیشن کی مقبولیت کا پول کھولنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے دوران کورونا ایس او پیز کا خیال رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
ملک کا کوئی قابل ذکر سیاسی گروہ حکومت کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کو غیر فعال اور ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ ملک کو سیاسی تصادم کی موجودہ صورت تک لانے میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے رویے، غیر سیاسی طرز عمل اور الزام تراشی سے بھرپور بیان بازی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر اپوزیشن بات چیت سے انکار کرتی ہے تو حکومت بھی کوئی ایسا فورم تشکیل دینے میں دلچسپی نہیں رکھتی جہاں اپوزیشن کو انگیج کیاجاسکے۔ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کا خواب دیکھنے یا دکھانے والے وزیر اعظم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے اور اشتعال دلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ معیشت کی مبادیات پر نگاہ رکھنے والا کوئی بھی شخص بتا سکتا ہے کہ ایسی سیاست اور یہ طرز عمل اختیار کرنے والی حکومت اقتصادی بہتری کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں کرسکتی۔
وزیر اعظم کو کورونا کی دوسری لہر سے پریشانی ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں ’ترقی‘ کی رفتار نہ رک جائے۔ اقتصادی فورم سے خطاب میں انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ پاکستان چونکہ کورونا کی پہلی لہر سے کامیابی سے باہر نکلنے میں کامیاب رہا تھا ، اس لئے عوام اس وبا کی دوسری لہر کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ اس طرح ملکی معیشت کے لئے خطرات پیدا ہورہے ہیں۔ حالانکہ جناب وزیر اعظم اگر غور کریں تو عوام کو کورونا کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے پر خود عمران خان نے آمادہ کیا تھا۔ سندھ حکومت کی کورونا حکمت عملی کو مسترد کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے عوام کے روزگار اور غربت کا اعلان کرتے ہوئے ہر قسم کی پابندی کو عوام دشمنی قرار دیا تھا۔ ان نعروں کو سننے والے لوگ اب کیوں یہ مانیں گے کہ کورونا کی دوسری لہر زیادہ مہلک اور نقصان دہ ہوسکتی ہے؟
کورونا کا پھیلاؤ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح پاکستانی عوام اور معیشت کے لئے شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے قومی یک جہتی اور مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس ملک میں اپوزیشن حکومت کی تجویز پر غور کرنے کی بجائے جلسوں پر اصرار کررہی ہو یا لانگ مارچ کی تیاریاں کی جارہی ہوں اور حکومت سیاسی مکالمہ کی بجائے دھمکیوں اور طعنوں پر اتری ہوئی ہو ، وہاں کس طرح حالات کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ کوورنا سے پیدا ہونے والی صورت حال کا تقاضہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد غیر معینہ مدت کے لئے سیاسی احتجاج کا سلسلہ روک دے۔ لیکن کیا حکومت اسے سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی بجائے وسیع تر قومی مقصد کا منصوبہ سمجھتی ہے؟ اور تعاون و مفاہمت کے لئے ایک قدم آگے بڑھا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب نہ میں دینے والی حکومت معیشت کو تباہ تو کرسکتی ہے ، اس کے پاس تعمیر کا کوئی سامان نہیں ہوسکتا۔