وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرد

  • جمعرات 26 / نومبر / 2020
  • 4990

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 2 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بنچ نے ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت کراچی سرکلر ریلوے کا معاملہ زیر غور آیا تو چیف جسٹس نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ڈی جی سے سوال کیا  کہ ڈیزائن تاحال نہیں ہؤا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے منظوری دینی تھی جو تاحال نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ایف ڈبلیو او نے تاحال کام کیوں نہیں شروع کیا۔ عدالتی استفسار پر ڈی جی نے جواب دیا کہ ہم نے ڈیزائن بنا کر دیا تھا لیکن سندھ حکومت نے منظور نہیں کیا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرکولر ریلوے کا کام 2 ماہ میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا، صرف اوو ہیڈ برج اور تھوڑا سا دیگر کام ہے لیکن ایف ڈبلیو او نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ہماری آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جائے، 10 ارب روپے کا کام نہیں ہے۔ زیر زمین پل بنانا ہے۔

عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ جبکہ سیکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ 2 ہفتوں میں توہین عدالت نوٹس کا جواب جمع کرائیں۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ نوٹس سرکلر ریلوے کے لیے تعمیراتی کام کے ڈیزائن پر سندھ حکومت کی منظوری نہ دینے پرجاری کیا گیا۔

کیس کی سماعت کو 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا گیا۔