توہینِ مذہب قانون کا غلط استعمال 90 فی صد تک کم ہوا ہے: طاہر اشرفی کا دعویٰ
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- جمعہ 27 / نومبر / 2020
- 6210
وزیرِ اعظم پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مشرقِ وسطیٰ اُمور حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کے باعث مذہبی قوانین کا غلط استعمال ہؤا ہے۔ اور جبراً مذہب کی تبدیلی کے واقعات ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں حافظ طاہر اشرفی نے بتایا کہ حکومت مذہب کے نام پر ہونے والے جرائم کے حالیہ واقعات پر ایک رپورٹ تیار کر رہی ہے جس میں جبراً مذہب کی تبدیلی، توہینِ مذہب قانون کے غلط استعمال، غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی سمیت مذہبی اور مسلکی اختلافات کے واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
طاہر اشرفی نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو خاطر خواہ حد تک روکا کیا گیا ہے۔ شق 295 سی کے تحت غلط مقدمات کے اندراج کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والے تنازعات زیادہ گھمبیر نہیں ہیں اور انہیں بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مطابق ملک میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز اور غیر مسلموں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں سے متعلق تنظیموں کی تشویش پر حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ یہ ادارے ملک و قوم کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کو خوش کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جبری شادیوں کے حوالے سے اقلیتوں میں پائے جانے والے خوف کو ختم کرنے کے لیے وزارتِ انسانی حقوق مؤثر قانون سازی پر مشاورت کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی فرد کی ذاتی خواہش کی تکمیل کے لیے دینِ اسلام کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی سکتی ہے۔
وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی طاہر اشرفی نے کہا کہ آئین کے تحت احمدی غیر مسلم ہیں لیکن بطور ریاست کے شہری انہیں تمام حقوق حاصل ہیں۔ ریاست کے شہری کے حق سے حکومت پر اُن کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اور تمام علما احمدیوں سمیت مذہب کی بنیاد پر ہونے والے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اگر کوئی توہینِ مذہب کا مرتکب ہوتا ہے تو 295 سی کا قانون اسی لیے بنایا گیا ہے۔ اس قانون کی موجودگی میں اگر کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو یہ قطعاً درست نہیں ہے۔
طاہر اشرفی نے بتایا کہ انہوں نے بطور حکومتی رہنما ننکانہ صاحب اور پشاور میں احمدی افراد کے قتل کی اعلانیہ مذمت کی اور وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو احمدیہ جماعت کے حالیہ افراد کے قتل کی تحقیقات کرنے کی ہدایات دی ہیں جس پر پیش رفت سامنے لائی جائے گی۔ ملک میں غیر مسلموں کی سرکاری عہدوں پر تعیناتی اور عوامی ردعمل کے باعث فیصلے واپس لینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ جس ملک میں رہیں، اس کے آئین کو تسلیم کرنے سے اعلانیہ انکاری ہوں۔ احمدی پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں تو تمام مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔
طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کے تحت یہاں مسلمان کو بھی رہنا ہے اور غیر مسلم کو بھی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ اس ملک میں رہیں اور اس کے آئین اور قانون کو تسلیم کرنے سے اعلانیہ انکار کریں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے لیکن احمدی برادری اپنے کو آپ غیر مسلم تسلیم نہیں کرتی۔ اور خود کو ملک میں موجود دیگر اقلیتوں ہندو، عیسائی یا سکھوں کے ساتھ شمار کرنے پر رضامند نہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ کسی اقلیتی رکن کے حکومتی عہدے پر تعیناتی پر اعتراض نہیں ہے بلکہ اعتراض یہ ہے کہ وہ آئین کو تسلیم نہیں کرتے جس کے تحت حکومت کام کرتی ہے۔ ریاست میں مذہب کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام مذہب کی بنیاد پر ہوا ہے اور آئین میں درج ہے کہ قرآن و سنت سپریم لا ہو گا جس کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اسی لیے مدینہ ریاست کی بات کرتے ہیں کیوں کہ خواتین اور غیر مسلموں کو جو حقوق ریاست مدینہ نے دیے ہیں وہ کسی اور مذہب یا معاشرے میں نہیں ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ سعودی عرب، اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل نہیں نکل آتا۔ اُن کے بقول پاکستان عالمی اُمور میں اسلامی تعاون تنظیم کے بانی رکن کی حیثیت سے مسلم ممالک سے مشاورت ضرور کرتا ہے لیکن کوئی ملک پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکتا۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے ان پر دباؤ ہے۔ انہوں نے ملک میں سعودی عرب اور ایران کی مداخلت کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ 'دشمن' جامع منصوبہ بندی کے تحت اُمتِ مسلمہ کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایران یا سعودی عرب دہشت گردی یا فرقہ ورانہ تشدد فروغ نہیں دے رہے بلکہ یہ سازش بھارت کر رہا ہے۔ پاکستان کی فوج اور حکومت بھارت پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا ذمہ دار ہے جس کے لیے افغان سرزمین کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن بھارت اور افغانستان، پاکستان کے ان الزامات کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ مختلف مسالک کے درمیان مشترکہ چیزیں زیادہ ہیں، جب کہ اختلافی اُمور اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اختلافات دُور کرنے کے لیے مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان بات چیت کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ پاکستان کے عوام اور مذہبی طبقات بہت محبت کرنے والے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپس کے اختلافات اور غلط فہمیوں کو دور کریں تاکہ ہر پاکستانی اپنے عقیدے کے مطابق آئین میں دیے گئے حقوق اور آزادیوں کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔