اسرائیل اور یہود و ہنود دشمنی ؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 27 / نومبر / 2020
- 10940
ان دنوں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے خبریں پیہم میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ اور ہمارے اردو میڈیا میں بھی کچھ نہ کچھ اس نوع کی بحثیں چل رہی ہیں کہ مملکت اسرائیل کو ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے؟
پاکستانی وزیراعظم، وزیر خارجہ اور حکومتی ترجمانوں کی طرف سے بار بار اس نوع کے بیانات جاری کئے جاتے ہیں کہ ہم کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے، وہ ایک ناجائز ریاست ہے، ایک ناسور ہے، ایسا خنجر ہے جو عربوں یا عالم اسلام کے سینے میں گاڑا گیا تھا۔ ہمارے بابائے قوم جناح صاحب نے سات دہائیاں قبل ہمیں یہ تلقین کی تھی کہ میرے پاکستانیو! اسرائیل مذہب کے نام پر قائم کی جانے والی ایک یہودی و صیہونی ریاست ہے، اسے کبھی تسلیم نہ کرنا۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم پر شدید عالمی دباؤ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لو کیونکہ پاکستان عالم اسلام کا انتہائی اہم اور واحد نیوکلیئر ملک ہے جس کی مسلم امہ میں بڑی قدر ومنزلت ہے۔ اس لئے بڑی طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان اسرائیل کے وجود کی سلامتی کیلئے اسے تسلیم کر لے مگر دوسرے ہی سانس میں یوٹرن لیتے ہوئے یہ ہانکی جاتی ہے کہ ہم پر کسی نوع کا کوئی عالمی دباؤ نہیں ہے، کسی نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ تم اسرائیل کو تسلیم کر لو اس لیے ہم اپنے روایتی اصولی موقف پر قائم ہیں۔
کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ چاہے ساری دنیا اسرائیل کو تسلیم کر لے مگر ہم کبھی اس ناسور اور ناجائز ریاست کو تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا اصولی موقف ہے اور کبھی پینترا بدلتے ہوئے یہ بھاشن شروع کر دیا جاتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کا قاتل ہے جس نے پون صدی سے فلسطینیوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں، جب تک ہمارے فلسطینی بھائیوں کے حقوق بحال نہیں کئے جاتے اور ان کی بھی اسی طرح کی متوازی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، تب تک ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ یعنی بالواسطہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ فلسطینیوں کو ان کا حق دے دے تو پھر ہم بھی اس کے زندہ رہنے کے حق کو ماننےکا سوچ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر ہم نے تو اپنے پاسپورٹ پر باضابطہ طور پر یہ عبارت لکھوا رکھی ہے کہ یہ پاسپورٹ پوری دنیا کیلئے کارآمد ہے سوائے اسرائیل کے، یعنی اس پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے اسرائیل کا سفر کیا جا سکتاہے نہ کسی نوع کا کوئی ایسا تعلق واسطہ رکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کو پوری دنیا میں ’خصوصی عزت و محبت‘ کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
یہ تو ہے پاکستانی سرکار کا موقف، رہ گئی پاکستان کی سیاسی قیادت، دینی و مذہبی طبقات یاپاکستانی میڈیا، یہاں بھی تقریباً پچانوے فیصد اسی ذہن اور سوچ کے حاملین پائے جاتے ہیں۔ جو اس کے برعکس سوچتے ہیں وہ بھی بھاری عوامی دباؤ یارائے عامہ کا پریشر یہی سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے کسی قسم کی نرم بات نہ کی جائے ورنہ پاکستانی مذہبی قیادت اور بنیاد پرست میڈیا ہمارے لتے لیں گے۔ ہمیں یہود و ہنود کا ایجنٹ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔
ہمارے پاکستانی مسلم سماج میں ایک معمولی اقلیتی سوچ یہ ہے کہ اسرائیل سے ہماری براہ راست کوئی لڑائی یادشمنی نہیں ہے، نہ مفادات کا کوئی ٹکراؤ ہے تو پھر یہ نام نہاد دشمنی کیسی؟ یہ دشمنی و نفرت ایسی بڑھی ہوئی ہے کہ ضیاء دور کا واقعہ ہے یو این کے تحت کوئی عالمی وفد پاکستان آ رہا تھا جس کے ایک ممبر کا نام اسرائیل تھا۔ پاکستانی دفترخارجہ نے اس نوع کا مطالبہ کر دیا کہ یا تو یہ وفد پاکستان نہ آئے یا اس نام کے ڈیلیگیٹ کا نام اس سے خارج کیا جائے۔ عالمی ادارے اس نفرت پر حیرت زدہ ہو کر رہ گئے جو پاکستان میں اسرائیل کے متعلق پائی جاتی ہے۔
اس نوع کی سوچ رکھنے والے ایسے پاکستانی بھی ہیں جو بین الاقوامی معاملات کو اصولوں کی بنیاد پر نہیں، محض مفادات کے زیر اثر دیکھتے یا سوچتے ہیں۔ ان کا بیانیہ ہے کہ اسرائیل اگرچہ حجم کے لحاظ سے کافی چھوٹا ملک ہے لیکن عالمی اثر و رسوخ اور جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کے حوالوں سے بہت آگے ہے۔ ہمارا روائتی حریف بھارت اس کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر بھرپور فائدے اٹھا رہا ہے۔ ہم نے خواہ مخواہ کی دشمنی پال کر سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں کیا ہے لہٰذا نیشنل انٹرسٹ یا عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم بھی ا سرائیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرتے ہوئے اپنے ملک کے فائدے کا سوچیں۔
ان دنوں اس نوع کے مباحث اس لیے بھی تیز ہو گئے ہیں کہ حال ہی میں تین اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اپنے اپنے قومی مفادات کو امہ کے مفادات پر ترجیح دی ہے۔ اور اب اس سب سے بھی بڑھ کر امہ کا سب سے اہم ملک سعودی عرب بھی اسرائیل کے بہت قریب چلا گیا ہے۔ اس نے نہ صرف اسرائیل کی ایئر لائنز کیلئے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں بلکہ کئی قدم آگے بڑھ کر اسرائیلی قیادت سے کھلی یا خفیہ ملاقاتیں تک شروع کر دی ہیں۔ بیان کیا جا رہا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کیاہے جس میں سعودی کراؤن پرنس ایم بی ایس کے ساتھ ان کی طویل ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے موضوعات کیا تھے۔ اس حوالے سے گو تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں مگر عالمی حالات پر نظر رکھنے والوں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اسے سعودی ایران دشمنی میں بھی دیکھا یا سمجھا جا سکتا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ عرب حکمرانوں میں ہی نہیں عرب عوام میں بھی اتنی یہود دشمنی نہیں رہی ہے جتنی شیعہ دشمنی گہری جڑیں بنا چکی ہے۔ حقائق کو ہم اچھا کہیں یا برا مگر ان کا منہ نہیں چڑا سکتے۔ ایک وقت تھا جب اسرائیل یا یہود سے امن و دوستی کی بات کرنے والوں کو قابل گردن زدنی سمجھا جاتا تھا مگر اب صورتحال اس قدر بدل چکی ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا بے معنی ہونے کو ہے۔
حالیہ برسوں کے عالمی حالات میں پاکستان جس تیزی کے ساتھ غیر اہم ہوا ہے، اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ ہماری احمقانہ خارجہ پالیسی نے ہمیں دنیا میں بے توقیر کر دیا ہے۔ ہم قدامت پرستی میں پھنسے لوگ بدلتی دنیا کے ساتھ چلنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم نےتلخ زمینی حقائق کا ادراک نہ کیا تو نفرت و تشدد کی شاہکار پالیسی ہمیں مزید ڈاؤن کر دے گی۔ ہم یہود و ہنود کے خلاف راگ الاپتے رہیں گے لیکن مہذب دنیا میں گیریژن سٹیٹ کے طور پر پہچانے جائیں گے۔ اگر ہم نے حقائق کا درست ادراک نہ کیا تو آج متحدہ عرب امارات نے ہمارے شہریوں پر جو پابندیاں لگائی ہیں ان پابندیوں کا فرانس اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی سوچ سکتے ہیں:
وقت کے ساتھ چلا جو وہ مرد ہے
پیچھے رہ گیا جو وہ راستے کی گرد ہے