بیگم شمیم اختر جاتی عمرہ میں دفن کردی گئیں

  • ہفتہ 28 / نومبر / 2020
  • 8880

سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کا جسد جاکی لندن سے پاکستان پہنچی۔ ان کی نماز جنازہ شریف سٹی مین ادا کرنے کے بعد انہیں جاتی امرا کے قبرستان میں اپنے مرحوم شوہر کے پہلو میں دفنا دیا گیا۔۔

بیگم شمیم اختر کا جسد خاکی ہفتہ کی صبح لاہور پہنچا تھا۔ ایئرپورٹ پر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے میت کو وصول کیا۔ میت کو شریف میڈیکل سٹی کے سرد خانے منتقل کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں شریف میڈیکل سٹی کے گراؤنڈ میں مفتی راغب نعیمی نے شمیم اختر کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس میں شریف خاندان کے لوگوں سمیت سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نواز اور شہباز شریف کی والدہ کی نماز جنازہ کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ کارکنان کو براہ راست شریف میڈیکل سٹی کے گراؤنڈ میں پہنچنے کا کہا گیا تھا۔ جاتی امرا آنے والی مرکزی شاہراہ کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا تھا اور عام گاڑیوں کا داخلہ ممنوع تھا۔

نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کا جسد خاکی جاتی امرا لے جایا گیا جہاں ان کی تدفین کی گئی۔ خیال رہے کہ نواز اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر 22 نومبر کو 90 سال سے زائد عمر میں لندن میں انتقال کرگئی تھیں۔

15 فروری 2020 کو برطانیہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ہارٹ سرجری کے پیش نظر ان کی والدہ شمیم بی بی بیٹے سے ملاقات کے لیے لندن گئی تھیں۔ ان کے انتقال سے متعلق پارٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ شمیم اختر ایک ماہ یا اس سے زائد عرصے سے بیمار تھیں اور وہ لندن میں 2 مرتبہ علاج کے لیے ہسپتال بھی جاچکی تھیں۔

گزشتہ روز لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ کی نماز جنازہ ریجنٹ پارک کی مسجد میں ادا کی گئی تھی، جس کے بعد میت کو تدفین کے لیے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بیگم شمیم اختر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو گزشتہ روز پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔