پی ڈی ایم کارکنان نے ملتان کی جلسہ گاہ پر قبضہ کرلیا

  • ہفتہ 28 / نومبر / 2020
  • 5050

حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر جلسوں کی اجازت نہ دینے کے باوجود اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے کارکنان ملتان جلسے سے 2 روز قبل ہی رکاوٹیں توڑ کر جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ نے 30 نومبر کو ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم انتظامیہ نے اس کی اجازت نہ دیتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ خبروں کے مطابق آج پیپلزپارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی کی قیادت میں گھنٹہ گھر چوک پر ایک ریلی پہنچی۔ جہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد اس ریلی شامل ہوئی۔ جس کے بعد شرکا جلسہ گاہ کی طرف گئے۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ فریقین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

تاہم ریلی کے شرکا رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ میں تالے توڑ کر داخل ہوگئے اور وہاں استقبالیہ کیمپ لگا لیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی قیادت عبدالرحمٰن کانجو نے کی اور وہ بھی اسٹیڈیم میں موجود رہے۔ شرکا کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے ایک کرین بھی لائی گئی تھی جسے ملتان پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس موقع پر علی موسیٰ گیلانی اور حیدر گیلانی نے اعلان کیا کہ حکومت نے جو کرنا ہے کرلے، یہ جلسہ ہوکر رہے گا۔ علی موسیٰ گیلانی نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ہم جلسہ گاہ میں آچکے ہیں اور اب 30 نومبر تک یہیں پر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کے تمام کارکنان جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں اور 30 نومبر کو یہیں جلسہ ہوگا اور ہم اپنے قائدین کا یہیں انتظار کریں گے۔ علی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ یہی پلان اے، بی اور سی ہے، کارکنان اسٹیڈیم میں ہی بیٹھیں گے۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ڈان کو بتایا کہ یہ جلسہ ہر صورت قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر نے کہا کہ جلسے میں حادثہ ہو سکتا ہے۔ حکومت بتائے اب تک اس حوالے سے کیا کیا گیا ہے، سیکیورٹی پر توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ حکومت کا زور پکڑ دھکڑ پر ہے۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کیا متعلقہ وزیر نے یہ بات کابینہ کو اور ایجنسیوں کو بتائی؟

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جنریٹر والوں کو کہا کہ جلسہ گاہ کے لیے بجلی کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی تو کوئی جنریٹر فراہم نہ کرے۔ گرفتار کارکنوں سے پولیس زبردستی بیان حلفی لے رہی ہے کہ اگر انہوں نے جلسے میں شرکت کی تو وہ پنجاب حکومت کے خزانے میں 10 لاکھ جمع کرائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے گھر کے باہر کنٹینر لگا دیئے گئے ہیں جبکہ ورکرز کی فہرستیں بنا کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے 30 نومبر کے جلسے کو روکنے کے لئے قلعہ کہنہ قاسم باغ کے اطراف میں کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ جلسہ گاہ کے باہر پولیس بھی تعینات ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے اسٹڈیم کے اطراف 30 کنٹینرز لگائے گئے تھے جبکہ شہر کے راستوں کی بندش کے لیے مزید کنٹینرز منگوائے گئے تھے۔

گزشتہ روز پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی فہرست بھی متعلقہ تھانوں کو فراہم کی گئی تھی۔ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے قاسم گیلانی نے ایک ٹوئٹ میں شجاع آباد سے گرفتار کارکنان کی تصویر بھی ٹوئٹ کی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومںٹ اب تک گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جلسے کرچکی ہے جبکہ ان کے 30 نومبر کو ملتان اور 13 دسمبر کو لاہور میں مزید 2 جلسے ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جلسے اور جلوسوں پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم اس کے باوجود پی ڈی ایم نے بغیر اجازت کے پشاور کا جلسہ کیا تھا اور اب مزید 2 جلسے کرنے کےلیے تیار ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ خبردار کیا ہے کہ جلسے کے منتظمین اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی واضح کیا تھا کہ حکومت اپوزیشن کو ملتان اور دیگر شہروں میں جلسے منعقد کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اپوزیشن رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ ملتان کا جلسہ ہر قیمت پر ہوگا۔ اگر انہوں نے قلعہ کہنہ قاسم باغ کو نہ کھولا تو پورے ملتان میں جلسہ ہوگا جبکہ اگر ایسا ہوا کہ تو قائدین کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اس حکمران ٹولے پر ہوگی۔  اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو ایف آئی آر میں وزیر اعظم عمران خان کو نامزد کریں گے۔