فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے: عمران خان

  • ہفتہ 28 / نومبر / 2020
  • 3420

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ داخلہ اور خارجہ امور میں تمام پالیسی تحریک انصاف کی ہے۔ اس سلسلہ میں فوج کا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

نجی چینل ایکسپریس نیوز پر خصوصی انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ ہم نے تمام ریاستی اداروں بشمول نیب کو آزاد چھوڑ رکھا ہے۔ ان پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔  جب نیب اپوزیشن کے کسی رہنما کے خلاف کوئی انکوائری کرتی ہے تو وہ چیختے ہیں کہ سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ لیکن یہ ہی لوگ اس وقت خاموش رہتے ہیں جب نیب حکومت میں شامل کسی فرد کے خلاف انکوائری کا حکم دے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف جتنے کیسز ہیں وہ ہماری حکومت نے دائر نہیں کیے بلکہ تمام کیسز سابق حکومتوں کے ادوار میں قائم ہوئے ۔

آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اپنے اپنے دور اقتدار میں ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے۔ عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اپنی حکومت میں نواز شریف کو دوبارہ جیل میں ڈالا تھا، ان کی کرپشن پر تو ڈاکومنٹری بنی اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔  انہوں نے کہا نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں سلیکٹڈ تھے۔

وزیر اعظم  نے کہا کہ مریم نواز کو نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے پارٹی میں عہدہ ملا۔ ان کی اپنی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں ہے۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی پرچی پر ہیں۔  جہانگیر ترین سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین پارٹی میں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی عہدہ ہے۔  جہانگیر ترین کے خلاف شوگر اسکینڈل میں تاحال تحقیقات چل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت کردی تھی۔ لیکن اگر کسی کو عاصم سلیم باجوہ پر اعتراض ہے تو وہ نیب سے رجوع کرسکتا ہے۔

عمران خان نے نعیم بخاری کو پی ٹی ویہ کا چئیرمین لگانے کا دفاع کیا  اور کہا کہ جتنا وہ پی ٹی وی کو سمجھتے ہیں شاید ہی کوئی سمجھتا ہو۔