بجلی اور گیس قیمتیں اور آئی ایم ایف کی چاپ
- تحریر
- ہفتہ 28 / نومبر / 2020
- 6090
اگر دسمبر تک سرکلر ڈیبٹ کو زیرو کرنا ہے تو حکومت کو ماہانہ فیول قیمت اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ دونوں کا بوجھ صارفین پر ڈالنا ہوگا۔ مگر ایسا ہونا اس لئے ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان نے جنوری میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کووڈ19 کی وجہ سے اس اضافے کو نا منظور کر دیا۔
وزیر اعظم کے مشیرِ خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابرنے اپنے تئیں سرکلر ڈیبٹ زیرو کرنے کا ٹارگٹ مس ہونے کی وضاحت کی۔ وزیر اعظم کے اس فیصلے کا عوام کو جو فائدہ ہوا سو ہوا لیکن ان کے بقول یہ فیصلہ حکومتی خزانے کو بہت مہنگا پڑا۔ پونے تین سو ارب روپے کا ملبہ تو ماہانہ فیول پرائس اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں گرا۔ اس کے علاوہ دو سو ارب روپے کا خسارہ روپے ڈالر کی شرح مبادلہ میں کمی کے ہاتھوں ہو گیا۔ حکومت نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کو بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا وعدہ کر رکھا تھا مگر وزیر اعظم کے فیصلے کی وجہ سے ایسا ہو نہ سکا۔
دوسری ہی سانس میں موصوف نے جو وضاحت کی، اس سے یہ اطلاع دینا مقصود تھی کہ اب حکومت آنے والے کچھ سالوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں دھیرے دھیرے اضافہ کرے گی تاکہ ریونیو میں پڑنے والا 470 ارب روپے کا یہ شگاف پورا ہو سکے۔ بقول ان کے ن لیگ کی حکومت نے جاتے جاتے ریگولیٹرز کی جانب سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں منظورشدہ اضافہ صارفین کو منتقل نہیں کیا۔ عوام تو خوش ہو گئے لیکن اس فیصلے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی حکومت نے دوسو ارب روپے کے لگ بھگ بجلی قیمتوں میں اضافے اور گیس سیکٹر میں 192 ارب روپے کا گردشی قرضے کا ملبہ چھوڑ کر موجودہ حکومت کو زیربار کر دیا۔
سرکلر ڈیبٹ کلب میں پہلے صرف بجلی کی مناپلی تھی مگر اب کچھ سالوں سے گیس کا گردشی قرضہ بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بجلی کے گردشی قرضے کا کل حجم کبھی چار پانچ سو ارب روپے تھا، مسلم لیگ ن نے گزشتہ دور میں حکومت میں آتے ہی اس کے دو تہائی کا بندوبست کرکے اپنے تئیں سرکلر ڈیبٹ کا سرکل توڑڈدالا مگر یہ منحوس سرکل ٹوٹنا تھا نہ ٹوٹا۔ اس وقت سرکلر ڈیبٹ کا کل حجم دو ہزار ارب روپے سے بھی زائد ہوچکا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ہی سرکلر ڈیبٹ کی سرکوبی کے لئے ہاتھ پاؤں مارے بلکہ اس کے خاتمے کی تاریخ بھی دے ڈالی۔ یہ دعویٰ کرنے والے وزیر کا قلمدان تبدیل ہوگیا مگر سرکلر ڈیبٹ میں اضافے کی روش تبدیل نہ ہوئی۔
سرکلر ڈیبٹ کیا ہے؟ آسان زبان میں اس کی حقیقت یہ ہے کہ بجلی کی جو قیمت پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نتیجے میں واجب الادا بنتی ہے وہ صارفین سے وصول نہیں ہو پاتی۔ چوری، سینہ زوری کے ساتھ چوری، سیاسی زورآوری، کرپشن اور فرسودہ تقسیم کاری نظام کی وجہ سے وصولی کم ہوتی ہے۔ یوں ہر آن عدم وصول بقایاجات کا غبارہ پھولتا چلا جاتا ہے۔ بجلی پیداوار کمپنیوں اور ماہرین کی سنیں تو ان کے خیال میں سارا قصور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے فرسودہ نظام اور کرپشن کا ہے۔ کچھ حد تک بات صحیح بھی ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔
بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز نجی شعبے کے بڑے بڑے ملکی اور غیر ملکی کاروباری گروپس کا حصہ ہیں۔ سرکار دربار میں رسائی ان کے لئے معمول کی بات ہے۔ میڈیا پر موقع ملے تو ان کے بہترین تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ماہرین اپنی چرب زبانی اور یک طرفہ اعدادوشمار کے کرشمے سے خود کو معصوم اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو خطا کار بنا ڈالتے ہیں۔ یوں سالہاسال سے بننے والی ٌ ہوا ٌ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ہی واحد قصوروار قرار دینے کی بنی۔
دو روز قبل ہی وزیر اعظم نے ورلڈ اکنامک فورم پراعتراف کیا کہ ماضی میں اپنائی گئی غلط انرجی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں خطے کی نسبت بجلی 25% تک زائد مہنگی ہے۔ اس مہنگی بجلی کی وجہ سے انڈسٹری اور زراعت ان گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں جو ان سے سرزد ہی نہیں ہوئے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم سرکاری کنٹرول میں ہے، واپڈا کی چھاؤں چھتر میں درجنوں ادارے اس مناپلی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ورلڈ بنک نے گزشتہ تیس سالوں سے کروڑوں ڈالرز کی امداد دی کہ صاحب! ان اداروں کی اصلاح کیجئے اور نج کاری کرکے کچھ بوجھ ہلکا کریں۔ اصلاحات کے ایجنڈے پر ہر دو چار سال بعد یلغار ہو تی ہے مگر پنچوں کی بات بھی سر ماتھے پر ہے اور پرنالہ بھی وہیں کا وہیں ہے۔
واپڈا اور اس کے ماتحت اداروں کے کارنامے اپنی جگہ مگر اس ملک کے ساتھ بڑے بڑے سرمایہ کاروں اور حکومتوں نے بھی انرجی پالیسیوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ میں کسر نہیں چھوڑی۔ 1994 کی انرجی پالیسی میں ناقابل یقین مراعات پر مبنی معاہدے کئے گئے۔ کیپیسٹی چارج، فیول معاہدے اور ڈالر سے منسلک ٹیرف۔ ساٹھ فی صد پن بجلی اور چالیس فیصد تھرمل بجلی پیداوار کا بھلا چنگا مکس دیکھتے دیکھتے الٹ ہو گیا۔تیل کی امپورٹ نے ادائیگیوں کا توازن برباد کئے رکھا مگر آئی پی پیز کی تجوریاں بھرتی گئیں۔ سیاسی سرپرستی نے اس گھناؤنے کھیل کو پالیسی اور قواعد کی چھتری فراہم کی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے آنکھیں بند کرکے اربوں ڈالرز کے کوئلے اور امپورٹڈ گیس پر ڈالر سے منسلک ٹیرف اور گارنٹی منافع کے منصوبے لگا کر اگلے پندرہ بیس سالوں کے لئے نئے پروجیکٹس کی مہنگی بجلی کا نیابوجھ لاد دیا۔
بجلی اور گیس کی لنکا میں جو بھی پالیسی شاہکار نکلا وہ باون گز کا ہی نکلا۔ تجوریاں بھرنے والے کچھ اپنا حصہ بھر کر لے گئے اور باقی اصل کے ساتھ سود اور منافع کھرا کر رہے ہیں۔ کرپٹ اہلکار اور صارفین بھی مزے میں ہیں مگر باقاعدگی سے پورا بل دینے والے ان سب کی چاکری کرنے پر مجبور ہے، سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔ سننے میں تو آیا کہ اب نئے معاہدے ہوں گے اور سینکروں اربوں کی بچت ہو گی مگر اس رادھا کے لئے نہ نومن تیل کا بندوبست ہوتا دکھائی دے رہا اور نہ رادھا کے ناچنے کا کوئی امکان دکھائی دے رہا ہے۔ ہاں البتہ آئی ایم ایف کے آنے کی چاپ پھر سے سنائی دے رہی ہے۔