ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہو کر رہے گا: مولانا فضل الرحمٰن
- اتوار 29 / نومبر / 2020
- 4590
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے 30 نومبر کو ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ ہوکر رہے گا۔ اگر کل جلسہ نہ کرنے دیا گیا تو پاکستان کا ہر ضلع جلسہ گاہ بن جائے گا۔
ملتان میں اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ جلسے کے حوالے سے خصوصی مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ تمام جماعتوں کے کارکنان، یوسی کی سطح کے ذمہ داران کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ عوام کو دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر جلسے میں شرکت کی تو جرمانہ کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے تمام کارکنان کو پیغام دیا کہ تمام رکاوٹیں توڑ کر جلسے میں شریک ہوں اور جہاں جہاں پولیس یا کوئی بھی قوت راستے میں آئے تو اس کے گھیرے کو توڑیں۔ اگر وہ ڈنڈوں کا استعمال کریں تو آپ کو بھی ڈنڈا استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بھرپور مزاحمت کے ساتھ کل کی کارروائی ہو کر رہے گی۔ ہم نے اس تمام صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ ہتھکنڈے کیوں استعمال کیے جارہے ہیں؟ گزشتہ 2 سالوں میں عوام کی حالت ابتر کردی گئی، غریب کے منہ سے نوالہ، لوگوں کے گھر، روزگار چھین لیے گئے۔ آج کسان، مزدور محنت کش، تاجر، غریب دکاندار رو رہے ہیں جن کی ہم آواز بننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ اگر عوام کی آواز روکنے کی کوشش کریں گے تو ان کی آواز بننا ہمارا حق ہے۔ ہم کسی قسم کی لاقانونیت، کسی قیمت پر پولیس گردی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر نہ کرسکے تو جیلوں کا رخ کر کے تمہاری جیلیں بھردیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ملتان میں انتطامیہ نے جو رویہ رکھا ہے اس کے خلاف آئندہ جمعہ اور اتوار کو پورے ملک کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر مظاہرے کیے جائیں گے۔ ہم چاہتے تھے کہ تحریک آہستہ آہستہ آگے بڑھے لیکن حکومت کی حماقتوں کی وجہ سے ہماری تحریک بہت جلد آگے بڑھے گی۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم جنوری میں لانگ مارچ کریں گے لیکن شاید حکومت چاہتی ہے کہ ہم جلد اسلام آباد کی جانب مارچ کر کے انہیں بتائیں کہ تمہاری کیا اوقات ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ رات کو جلسہ گاہ میں جو کارکنان کام کررہے تھے وہاں انتظامیہ نے دھاوا بولا اور علی قاسم گیلانی سمیت سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا۔ ایف آئی آر درج نہیں کی گئیں اس کے باوجود انہیں حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے جبکہ کچھ کو جیلوں میں لے گئے۔ سیاسی تحریکوں میں گرفتاریاں اور آزمائشیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ہمیں ان سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔
جلسہ گاہ میں انتظامیہ کی کارروائیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کل دیکھا جائے گا، میدان گرم ہوجائے گا۔
اس موقع پر مریم نواز کو حکومت کی جانب سے جلسے میں شرکت کی اجازت اور ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مریم نواز کو حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی ہم نے یہ تحریک حکومت کی اجازت سے شروع کی تھی۔ کل مریم نواز ہر قیمت پر تمام رکاوٹیں توڑ کر ملتان پہنچیں گی۔ انہوں نے تمام جماعتوں کے رضاکاروں کو کہا کہ وہ جہاں بھی موجود ہوں فوری طور پر ملتان پہنچ جائیں اور جلسے کے انتظامات سنبھالیں۔
استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب حکومت نے جنگ چھیڑ دی ہے تو ہم نے بھی جنگ چھیڑ دی اب کوئی ترتیب نہیں، جو کچھ ہوگا جب ہوگا سامنے آتا رہے گا۔
کورونا ایس او پیز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی طریقہ ہے کہ پشاور میں ہمیں جلسہ کرنے سے منع کردیا جائے اور سوات میں ایک سیاسی جماعت (جماعت اسلامی) کو جلسے کی اجازت دی جائے۔ آج ملتان میں ہمارے جلسے کے لیے کورونا ہے اور دیر اور لاہور میں جلسہ ہورہا ہے۔