ہمارے طارق صاحب
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 29 / نومبر / 2020
- 7800
آپ نے ٹی ایس فوڈ کا نام بھی سنا ہے اور وہاں جاکر خریداری بھی کی ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ یہ طارق اور سہیل کا مخفف ہے۔ آپ نے اس کے لوگو پر غور کیا ہے؟ کتنا خوبصورت سا ہاتھی بنا ہوا ہے۔ جی میں اسی طارق اور سہیل صاحب کے اس ایمپوریم کی بات کر رہا ہوں جو اپنی نوعیت کا واحد یا چند گنے چنے انداز کاتجارتی مرکز ہے۔
یہ مرکز ہے خریداری کا مگر یہاں سے آپ جب بھی باہر آتے ہیں آپ کسی دوکان سے نہیں لوٹ کر جاتے۔ آپ تھیلے میں خوردونوش کا سامان ضرور اٹھائے نکلتے ہیں مگرساتھ میں آپ کے ذہن میں علم و عمل کا، شعر وادب کا سیاست اور شرافت کاسبق بھی موجود ہوتا ہے۔ جب یہ مرکز اپنی پرانی جگہ پر تھا تو آپ کو یاد ہوگا اس کے برابر میں بھٹو ہاؤس بھی ہوا کرتا تھا۔ جہاں صرف سیاست پر نہیں علم و حکمت کی باتیں ہوا کرتی تھیں، وہاں مشاعرے دعوتیں اور بہت کچھ ہوا کرتا تھا۔ سہیل صاحب اور طاق صاحب ساتھ ساتھ مہمانوں کو خوش آمدید کہتے، انہیں ان کی نشستوں پر بٹھا تے۔ مجھ جیسے سیاست سے نابلد کو بھی اتنی عزت و توقیر دیتے، اسٹیج پر بلا لیتے۔ میرا خیال ہے ٹی ایس فوڈ ایک منافع بخش تجارت سے زیادہ معدے کی بھوک اور روح کی غذا فراہم کرنے کا وسیلہ ہے۔
تو صاحبو یہ ٹی ایس فوڈ ایک مرکز ہے علم و فن کا۔ اب اس کے طارق صاحب جانے کیوں روٹھ کر چلے گئے۔ آج برلن سوگوار ہے۔ صرف 63برس کی عمر میں ہنستے مسکراتے جانے کیوں موت کو گلے لگا لیا انہوں نے۔ طارق صاحب نے کمپری ہنسو ہائی اسکول گجرات سے میٹرک پاس کیا اور پھرگورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوئشن کے بعد آپ برلن جرمنی آگئے۔ یہیں انہوں نے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ عرصہ دراز تک بحیثیت مترجم مختلف سرکاری دفتروں میں فری لانسر کام کرتے رہے۔ پھر دیوانی عدالت کے اعزازی جج بھی رہے۔ 1996میں ٹی ایس فوڈ کا وجود عمل میں آیا۔ جہاں سے انہیں ہر کسی کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا اور ان کی علمی قابلیت، انسان دوستی اور اعلی ظرفی سے روشناس ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ طارق صاحب خدا ترس انسان، سب کے دوست اور پاکستانی کمیونٹی کے در پردہ مدد کرنے والے، تقریبات اور محافل کی جان، انہیں رونق بخشنے والے۔ عوام دوست اور ہر فرد سے اس طرح خندہ پیشانی سے ملتے کہ اسے لگتا کہ وہی ان کے سب سے قریب ہے۔
جب انسان پاکستان سے دیار غیر میں آتا ہے تو جو بھی کام ملے پکڑ لیتا ہے۔ جیسا کہ عموماََ ہوتا ہے، ایک دفعہ ان کے دوستوں نے طارق صاحب کو بتا یا کہ ٹکسٹائل کی ایک فرم میں سب کام کررہے ہیں ہم نے آپ کے لیے بھی بات کر لی ہے۔ کل سے آپ بھی چلیں۔ اس ساتھی کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے یہ کہہ کر فیکٹری کی جاب کرنے سے انکار کر دیا کہ مجھے تو کسی دفتر میں ملازمت چاہئے۔ اور دیکھئے کہ ان کا اعتماد اور و ژن کہ انہوں نے اپنی قابلیت کے مطابق نوکری تلاش بھی کر لی۔
ایک دفعہ جب وہ ریڈکراس میں جاب کر رہے تھے۔ انہیں اطلاع ملی کہ وہاں ایک اسسٹنٹ منیجر کی جگہ خالی ہوئی ہے۔ طارق صاحب نے جھٹ درخواست دے ڈالی۔ سب دوستوں نے کہا کہ وہاں کتنے ہی ملکی اور آپ سے زیادہ قابلیت کے لوگ موجود ہیں آپ کو بھلا یہ جاب کیسے مل سکتی ہے۔ طارق صاحب نے جواب دیا اس پوسٹ کے لیے میں ہی سب سے مناسب فرد ہوں۔ اس جاب کے لیے کسی ڈاکٹر کو درخواست دینے کی کیا ضرورت۔ اور سچ مچ طارق صاحب ہی وہاں اسسٹنٹ منیجرمقرر ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمیں اپنے آپ کو کسی سے کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ جتنی ہماری قابلیت ہے اس کے مطابق نوکری ملنا ہمارا بھی حق ہے۔ ظاہر بات ہے جب کوئی شخص اپنے حقوق کی پہچان نہ رکھے تو وہ کیونکر دوسرے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے گا۔ طارق صاحب حقوق انساں کے علمبرادار تھے۔
انسانیت پر ان کا اعتماد غیر متزلزل تھا۔ وہ بلا تفریق مذہب و ملت انسانی حقوق کی بات کرتے تھے۔ ان کا تمام مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں عزت واحترام اور مشفقانہ رویہ ہوتا تھا۔ ان کے دوست احباب، ملازم سبھی مختلف طبقہ فکر اور مذاہب کے ماننے والے ہوتے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی نسلی، قومی یا کسی اور امتیاز ی حیثیت کو نہیں مانا۔
اردو، انگریزی، جرمن اور فاسی زبان پر ان کو ایسے عبور تھا جیسے سب ان کی مادری زبانیں ہوں۔ طارق صاحب نے بے شمار پی پی کے جلسے کیے سہیل صاحب کے ہر جلسے میں پیش پیش رہتے۔ مگر انہوں کبھی کسی پارٹی عہدے کی نہ خواہش ظاہر کی نہ خود کو پیش کیا۔ اس قدر خوش اخلاق اور ملنسار کہ میں نے ان کی تیوری پر کبھی بل نہیں دیکھا۔ ان کی شاپ میں ملازمین کی بھر مار ہے۔ مگر کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔ہر آنے والے کو چائے سموسہ پیش کیا جاتا اور ان کے ملازم جانتے تھے کہ کب وہ چائے کے لیے کہیں گے اور وہ دم بھر میں چائے لیے چلے آرہے ہوتے۔ میں جب بھی ان کے ساتھ بیٹھا کچھ سیکھ کر ہی اٹھا۔ ان کا مطالعہ اتنا گہرا تھا کہ آپ ان سے مذہب، سیاست، فلسفہ اور سائینس اور ٹکنالوجی ہر موضوع پر بات کر سکتے تھے۔ وہ ایک بے ضرر انسان تھے۔ میں عرصے دراز سے انہیں جانتا ہوں۔ میں نے بہت مرتبہ گھنٹوں ان سے بات چیت کی۔ ہمارا موضوع ہمیشہ عالمی رہا کبھی بھی کسی طرح کی کوئی ذاتی بات چیت نہیں کی۔
وہ اپنی بات کو دلیل اور حوالے سے اس طرح پیش کرتے کہ ذہن فوراََ تسلیم کر لیتا۔ مذہب کے موضوع پر جب بھی ہماری بات ہوئی طارق صاحب کہتے سرور آپ قران میں دیکھ لیں اس بات کا قران میں اتنی مرتبہ ذکر آیا ہے۔ حالانکہ وہ مذہبی جماعتوں کے نہ حامی تھے، نہ تبلیغ سے ان کا کوئی واسطہ تھا۔ مگر علم اور مطالعہ انتہائی گہرا تھا۔ انہوں نے پتہ نہیں کتنی کتابوں کا مجھ سے تعارف کرایا۔ سرور یہ پڑھیں، اس مصنف کو پڑھیں۔ ٹالسٹائی کو آپ نے پڑھا۔ فرائیڈ کی یہ بات آپ بھی جانتے ہوں گے۔ میں ہر بار سوچتا رہ جاتا کہ یہ کب اتنی کتابیں پڑھتے ہیں۔ دن بھر تو اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں۔
مجھے یہ بات قطعی نہیں معلوم تھی کہ وہ میرے فیس بک اور دیگر اخبار میں چھپنے والے مضامین بغور پڑھا کر تے تھے۔ مگر ایک دن باتوں باتوں میں جب وہ کہنے لگے کہ آپ نے وہ بات بڑی دلچسپ لکھی ہے تو مجھ پر عقدہ کھلا۔وہ فیس بک پر نہ کمنٹ کر تے تھے ناہی اور طریقے سے خود کو پوز کرتے تھے۔چھوٹوں سے شفقت اور خواتین سے نہایت احترام سے ملتے۔ اورخواتین کا احترام صرف سامنے ہی نہیں۔بلکہ پیٹھ پیچھے بھی۔ وہ کبھی کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کرتے تھے جو وہ اس کے سامنے نہ کر سکتے ہوں۔
اتنے خوش مزاج، زندہ دل اور ہنس مکھ طارق صاحب کو جب فرشتہ اجل لینے آیا ہوگا تو وہ بھی سوچ میں پڑ گیا ہو گا کہ خدا نے کسی اور کو لینے تو نہیں بھیجا۔ طارق صاحب جیسے لوگ احمد ندیم قاسمی کے اس شعر کی تفسیر ہوتے ہیں َ
کون کہتا ہے موت آئی تو مرجاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا۔
طارق صاحب آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔