مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 29 / نومبر / 2020
- 6270
مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور خودمختاری کے تناظر میں عمران خان کی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں سے ہٹ کر کوئی اچھی مثال قائم نہیں کرسکی۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف کی سیاست میں مقامی حکومتوں کے نظام کی خود مختاری او رمضبوطی کو اپنی اہم سیاسی تر ترجیحات کے طور پر پیش کرتے تھے۔ لیکن اقتدار کی سیاست کا بڑا المیہ یہ ہی ہوتا ہے کہ سیاست دان حزب اختلاف او رحزب اختلاف کی سیاست میں دو مختلف چہرے رکھتے ہیں۔
یہ ہی طرز عمل ہمیں موجودہ عمران خان کی حکومت میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔اگرچہ عمران خان کی حکومت مقامی حکومت کے نظام کی سیاسی چیمپین تو بنتی ہے مگر عملی طور پر وہ بھی حکمرانی کے نظام کی درستگی میں ایک روائتی اور فرسودہ طرز کی سیاست سے جڑی نظر آتی ہے۔مسئلہ عمران خان کی حکومت کا ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی حکومتوں نے مقامی نظام حکومت کے حوالے سے جمہوری قوتوں کو مایوس کیا ہے۔ ایک عمومی مسئلہ یہ ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر اختیارات کی سیاسی، انتظامی او رمالی تقسیم کے حامی نہیں اور عملی طور پر مرکزیت یعنی زیادہ سے زیادہ اختیارات کو ایک خاص دائرہ کا رتک محدود کرکے حکمرانی کے نظام کو چلانا چاہتے ہیں۔ 18ویں ترمیم جس میں مرکز سے صوبوں کو زیادہ بااختیار کیا گیا مگر اب صوبے کسی بھی شکل میں اپنے نیچے ضلعوں، تحصیل یا مقامی کونسلوں کو بااختیار بنانے کے لیے بالکل تیار نظر نہیں آتے۔صوبائی خود مختاری کی بحث اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک نچلی سطح تک اختیارات منتقل نہیں ہوتے۔یعنی ہمیں شفاف حکمرانی کے نظام کے لیے مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کی ضرورت ہے۔
سیاست او رجمہوریت میں مقامی حکومتوں کے نظا م کو سیاسی جمہوری نرسریاں قرار دیا جاتا ہے۔لیکن سیاسی قیادت اور اقتدار میں شامل طبقہ ان جمہوری نرسریوں کو اپنے سیاسی مفادات میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔اول اس ملک کی حکمرانی میں مقامی حکومتوں کے نظام کو کئی کئی برسوں تک پابند سلاسل رکھ کر ان کے انتخابات اور تشکیل سے مکمل انحراف کیا گیا۔دوئم جب کبھی سیاسی اور قانونی ضرورتوں یا عدالتی دباؤ کی صورت میں ہمیں مقامی نظام کی تشکیل کرنا پڑی تو ہم نے ان اداروں کو سیاسی طور پر مفلوج کرکے ان کو کسی بھی سطح پر اختیارات نہ دینے کی پالیسی پر عمل کرکے کمزور کیا۔اب جب کہ 18ویں ترمیم اور مقامی نظام حکومت کیونکہ صوبائی معاملہ ہے تو صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسلسل انتخابات سے گریز کی پالیسی سیاسی و جمہوری کمٹمنٹ کی کمزوریوں کے پہلووں کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکومتی سطح سے مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی کی ایک بھاری قیمت جہاں جمہوریت کو دینی پڑرہی ہے وہیں حکمرانی کے نظام میں موجود بدترین خرایبوں کی سزا براہ راست عوام کو ملتی ہے۔ملک میں جو حکمرانی کا شدید ترین بحران ہے اس کی ایک بڑی وجہ مقامی نظام حکومت سے مسلسل انحراف کی پالیسی بھی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسلسل انحراف کی پالیسی پر عملا یہ حکومتیں کسی بھی سیاسی یا قانونی پلیٹ فارم پر جوابدہ نہیں۔عدلیہ بھی اس معاملے پر خاموش نظر آتی ہے او رکوئی ایسا ٹھوس اقدام کے لیے تیار نہیں جو فوری طور پر چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی پر کوئی نوٹس لے یا حکومتوں کو جوابدہ بنائے۔سیاسی محاذ پر سیاسی جماعتوں او ر ارکان اسمبلی کی سطح پر بھی کوئی بڑی مزاحمت اس نظام کی عدم موجودگی پر نظر نہیں آتی۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان اس مقامی نظام کو اپنی سیاسی او رمالی طاقت کی کمزوری کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اس وقت ملک کا جمہوری نظام چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام سے محروم ہے۔ لوگ مقامی حکومتوں کا نظام چاہتے ہیں لیکن اہل سیاست اس نظام کے خلاف نظر آتے ہیں۔کیونکہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی معاملہ ہے تو وفاقی حکومت کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں کہ وہ صوبوں پر ان اداروں کی تشکیل کو یقینی بنانے کے لیے کچھ کرسکے۔اب سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں پر کیسے دباؤ ڈالا جاسکے کہ وہ انتخابات کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔ مرکز میں کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پنجاب، خیبر پختونخواہ میں ان کی صوبائی حکومتیں ہیں جبکہ بلوچستان میں وہ مخلوط حکومت کا حصہ ہیں۔ اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ بنیادی ذمہ داری تو بنتی ہے کہ سیاسی جماعت جو بھی اقتدار کی سیاست کا حصہ ہے وہ مقامی انتخابات کو ترجیحی بنا کر اپنی صوبائی حکومتوں کو پابند کرے کہ وہ انتخابات کے انعقاد کو فوری طور پر یقینی بنائے۔خود وزیر اعظم کو تمام صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کریں۔تاکہ مقامی لوگوں کو یہ جمہوری حق مل سکے کہ وہ مقامی سطح پر اپنے منتخب نمائندوں کو براہ راست انتخاب کی مدد سے چن کرمقامی مسائل کو بہتر طور پر حل کرسکیں۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرے کے کمزور طبقات یا وہ لوگ جو زیادہ مسائل کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے مقامی ادارے زیادہ فعالیت اور شفاف انداز میں ان کی حکمرانی کا حق ادا کرتے ہیں۔کیونکہ مقامی اداروں پر مقامی لوگوں کی آسانی سے رسائی ہوتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی مدد سے لوگوں کی ترجیحات کو بہتر طور پر نمٹا جاسکتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ مقامی نظام پر سیاسی نعرے تو بہت لگاتے ہیں مگر ان کو اس بات کا سنجیدگی سے تجزیہ کرنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ ان کی اپنی دو صوبائی حکومتیں پنجاب او رخیبر پختونخواہ اس نظام کے ساتھ پچھلے ڈھائی سال سے ناروا سلوک کررہی ہیں۔ ا ور کیوں انتخابات کے انعقاد میں ٹال مٹول کی جارہی ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمرا ن خان یہ نظام چاہتے بھی ہیں تو اپنی صوبائی حکومتوں یا ارکان اسمبلی کے سامنے بے بس ہیں۔
مقامی حکومتوں کا نظام محض ایک سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایک قانونی تقاضہ بھی ہے۔ اس سیاسی اور قانونی تقاضہ کے بغیر ملک میں مکمل سطح کی جمہوریت کا دعوی بھی بے معنی ہوگا۔ 1973کے دستور کی شق 140اے اور 32تما م صوبائی حکومتوں کو آئینی طور پر پابند کرتی ہے کہ وہ مقامی اداروں کی تشکیل، انتخابات کو یقینی بنائیں، ان کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات دیے جائیں او ریہ اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کو دینے ہوں گے۔لیکن اس کے باوجود ہماری صوبائی حکومتیں جمہوریت او رآئین دونوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہیں۔لیکن اس سیاسی، جمہوری او رقانونی خلاف ورزی یا مقامی نظام سے انحراف کرنے کی پالیسی پر ہمیں سیاسی و قانونی محاذ پر مزاحمت کے پہلو بھی کمزور نظر آتے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کو صوبوں کی جانب سے مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم تشکیل کی پالیسی پر خود کو بھی او راپنی صوبائی حکومتوں کو بھی ہر سطح پر جوابدہ بنانا ہوگا۔کیونکہ تحریک انصاف کو بطور جماعت اپنے آپ کو ماضی کی حکومتی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن سے مختلف ہونا چاہیے تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ تحریک انصاف بھی روائتی سیاست میں جکڑی ہوئی ہے اور فیصلہ کرنے والوں میں وہی لوگ غالب ہیں جو مقامی نظام حکومت کو مفلوج بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ہمیں تحریک انصاف سمیت تمام بڑی جماعتوں کی سیاست پر ایک مضبوط سطح کی سیاسی و قانونی مزاحمت درکار ہے جو مقامی نظام حکومت پر ان صوبائی حکومتوں پر دباؤ ڈال سکے۔