مسلمانو!رحمت اللعالمینؐ کا نام بدنام نہ کرو؟
- تحریر ابوذوالکفل محمد مسیح
- اتوار 29 / نومبر / 2020
- 9300
اے میرے خدا تیرے مقدس نام پر اتنی نفرت! نہیں یہ تیرے نام پر پھیلائی گئی نفرت نہیں ہے یہ دراصل تیرے محبوب کے نام پر گلی گلی ،قریہ قریہ، شہر شہر زہر اگلا جا رہا ہے۔ تیری پیاری مخلوق اشرف المخلوقات کے برخلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔
اے ابراہیمؑ اور محمد ؐ کے خدا! تجھے لوگ نہیں مانتے تو مسلمانوں کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تیرے پاک نام پر طنز و تنقید کی جائے، وہ شاید قابل برداشت ہے مگر تیرے حبیبؐ کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھے مسلمان ایسی آنکھوں کو پھوڑ دینا چاہتے ہیں کیونکہ وہ تیرے سے زیادہ تیرے نمائندے (رسولؐ) کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔انہیں شاید دلی طور پر تجھ پر بھی غصہ ہے کہ تو کیسا عاشق رسولؐ تھا جب تیرے محبوب کے لاڈلے نواسے حسینؓ ابن علیؓ کو میدان کربلا میں خاندان سمیت ذبح کیا جا رہا تھا، ان کی گردنیں کاٹی جا رہی تھیں ان کی مظلوم لاشوں پر گھوڑے دوڑائے جا رہے تھے، اس وقت تو اور تیری بادشاہی کہاں تھے؟
جب تیرے محبوب کی لاڈلی بیٹی فاطمہؑ بنت محمدؐ سوگ میں بال کھولے اپنے سر میں خاک ڈال رہی تھی۔ جب جگر گوشہ بتولؓ کو بے یارومددگار پردیس میں بے دردی سے خاندان سمیت شہید کیا جا رہا تھا۔ کیا یہ تیرے پیارے رسول کا خاندان نہیں تھا؟ جب مظلوم حسینؓ بے کسی و بے بسی میں بار بار تیرے آسمان کی طرف دیکھتا تھا تب قطار اندر قطار میدان بدر میں نازل ہونے والے فرشتے کہاں چلے گئے تھے؟ تجھے اپنے محبوب اور اس کی لاڈلی بیٹی کے دکھ درد کا ذرا بھی احساس و ادراک نہ ہوا؟ اس کائنات میں کون صاحب اختیار محبت کرنے والا ہے جس کے محبوب پر ذرا سی آنچ آئے اور وہ سکون سے بیٹھا رہے؟ خاندان نبوت کے شیر خوار بچے علی اصغر کے گلے میں تیر پیوست ہو رہے تھے مگر تیری بادشاہی میں کوئی ارتعاش پیدا نہ ہوا۔ جبکہ ایک طرف تیرا یہ دعویٰ ہو کہ ’میں اپنے نیک بندوں کی ہر مشکل میں مدد کرتا ہوں‘۔
جب تیرے پیارے بندے ابراہیم ؑ کو لوگوں نے دہکتی آگ کے الاؤ میں پھینکا تیرا برحق فرمان ہے تو نے آگ کو حکم فرمایا کہ اے آگ تو میرے ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی خیز ہو جا۔ تیرا ہی فرمانا ہے کہ تو نے موسیٰ پر مشکل کی گھڑی میں بحر کی موجوں کو حکم دیا کہ جہاں ہو وہاں رک جاؤ، خبردار موسیٰ ؑ اور اس کی قوم بنی اسرائیل کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے۔ تیرا ہی یہ فرمان ہے کہ تو اپنے نبی یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے بھی زندہ و سلامت نکال باہر لایا۔ تو نے اپنے عذاب کے امڈتے طوفان میں نوح ؑ نبی کی جان بچائی اس کے نافرمانوں کو برباد کر کے رکھ دیا۔ ایسے ہی جیسے حضرت محمدؐ کے نافرمانوں کو برباد کیا۔ تیرا سچا دعویٰ ہے کہ تو نے اپنے لاڈلے نبی عیسیٰ ؑکی جان صلیب پر بھی بچا لی۔ تیرا قرآن یہی کہہ رہا ہے کہ اسے صلیب ہوئی ہی نہیں اور نہ ہی اسے مارا جا سکا۔ دشمنوں کی تمام چالیں تو نے اپنی خدائی طاقت سے ناکام بنا دیں، اپنے نیک بندوں کو ہر امتحان میں کامیاب کروا دیا۔
اسماعیل ؑ کو چھری کے نیچے سے بغیر کسی خراش کے نکال لیا اور ذبح ہونے کیلئے فوراً اپنی جنت سے دنبہ بھیج دیا۔ مگر اپنے سب سے لاڈلے نبی اپنے محبوب کے نہ صرف میدان احد میں دندان مبارک شہید کروا دیے بلکہ کربلا میں اس کے پیارے نواسے کو کنبے سمیت بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ مخالفین ان کی بدترین تضحیک کرتے رہے، ان کی بوٹیاں نوچتے رہے مگر اے رحمن و رحیم، اے قادر و عادل تجھے ذرا رحم آیا، نہ تیرے عدل و انصاف کا کوئی مظاہرہ ہوا۔ اس میں ایسی تیری کونسی حکمت تھی جو باشعور انسانیت کو اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود آج تک سمجھ نہیں آ رہی؟ شاید یہی وجہ ہے کہ تیرے خلاف جتنے مرضی نعرے لگ جائیں، جیسے چاہیں فتنے کھڑے ہو جائیں سوائے وہابیوں کے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مگر تیرے رسولؐ کے خاندان کو جو اذیتیں دی گئیں ان کے باعث کوئی بھی راسخ العقیدہ مسلمان یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے کہ دنیا میں کہیں بھی تیرے رسولؐ کی توہین ہو اور وہ ایسے شاتم کے خلاف بے تاب نہ ہو جائے۔
اس خاکسار نے تیری پیاری امت مسلمہ کو بہت سمجھایا ہے کہ تم ہر مسئلے میں ٹانگ نہ اڑایا کرو۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش نہ کیا کرو، کیا تم لوگوں کو اپنے خدا کی خدائی طاقتوں پر اعتماد نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے نافرمانوں کو بندر بنا سکتا ہے یا ان پر پتھروں کی بارش برسا سکتا ہے تو تم لوگ کیوں پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے کی طرح مرے جا رہے ہو؟ محبوب خدا کے دادا عبدالمطلب کو تو آپ بھی جانتے ہوں گے، جنہوں نے ابراہ کو صاف صاف کہہ دیا مجھے میرے اونٹ واپس لوٹا دو۔ باقی رہ گیا کعبے کے وجود یا ناموس کا معاملہ: تم جانو اور کعبے والا جانے، اگر اس نے اپنا گھر بچانا ہو گا تو اپنے معمولی پرندوں ابابیلوں سے تم کیا تمہارے ہاتھیوں کو بھی مروا دے گا۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مگر آج پندرھویں صدی کے مسلمانوں کو شاید اپنے خدا پر یقین ہے نہ اس کی خدائی طاقتوں پر ایمان و بھروسہ ہے۔ وہ نادان یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ہمارا محافظ نہیں ہے نہ وہ اپنے محبوبؐ اور اس کی عزت و ناموس کا محافظ ہے بلکہ ہم خدا کے ’محافظ‘ ہیں۔
ہمارے بغیر اس کی خدائی کہیں گر پڑے گی اور اس کے محبوبؐ کی ناموس بھی (معاذ اللہ) خراب ہو جائے گی۔ کیا واقعی ہمارا خدا اتنا کمزور پڑ گیا ہے یا اس کی اپنے محبوب سے محبت میں فرق آ گیا ہے؟ کیا واقعہ کربلا سے ہم نے لاشعوری طور پر کہیں یہی سبق تو نہیں سیکھا ہے کہ یا تو خدا بے بس تھا یا پھر اس کی اپنے حبیب سے سچی محبت میں کوئی فرق آ گیا تھا؟ اس لئے اس سانحہ کے بعد اس کے محبوب کی امہ نے خدا پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر توہین رسالت کے مرتکب کو خود انہوں نے اٹھ کر سزا نہ دی اس کی گردن تن سے جدا نہ کی تو کچھ نہیں بچے گا۔ توہین کرنے والے دن بدن طاقتور ہوتے چلے جائیں گے، نہ فرشتے آئیں گے نہ ابابیل۔ یہ سب افسانوی باتیں اور گھڑے ہوئے قصے ہیں ، الامان و الحفیظ۔
اے میرے پیارے مسلمانو! تھوڑی دیر کیلئے ٹھنڈے پیٹ سوچو! تم جس طرح بیان کرتے ہو کہ رسول خدا نے یہ ابدی حکم دے رکھا ہے کہ جو میری گستاخی یا توہین کرے اس کا تن ہمیشہ سر سے جدا کر دینا۔ ایک یہودی خاتون نے ان کے خلاف کوئی شعر پڑھا تو انہوں نے اس یہودی عورت کے سینے میں خنجر پیوست کروا دیا، جبکہ اس کا شیر خوار بچہ اس کی چھاتی پر لیٹا دودھ پی رہا تھا۔ کیا آپ کے دین میں خواتین اور بچوں کے یہ حقوق ہیں؟ اس کے بعد جب اسی ہستی کے متعلق تم دنیا کو یہ بتاؤ گے کہ وہ رحمۃ اللعالمینؐ ہے تو وہ اس کے کارٹون بنائیں گے یا احترام میں جھک جائیں گے؟
یہ اوچھی حرکتیں کر کے تم اپنے رسولؐ کی عزت بڑھا رہے ہو یا گھٹیا بن کر زمانے بھر کو ان کا مخالف بنا رہے ہو؟ کیا آپ لوگوں کو رسول خداؐ پر کوڑا پھینکنے والی یہودی عورت کا واقعہ معلوم نہیں ہے۔ اس توہین کرنے والی عورت کے بیمار ہونے پر آپ ؐ اس یہودی عورت کی عیادت کرنے چلے گئے۔ بجائے کوئی طعنہ یا سزا دینے کے۔ یکطرفہ پروپیگنڈا کرنے والے مافیا کے کارندو! کون لوگ ہو تم؟ جو دوسروں کی زندگیاں چھینتےہو یا ان میں زہر گھولتے ہو اور جواب دینے کا حق بھی نہیں مانتے ہو۔ دلیل سے بات کرو اور دلیل کو سننے کا حوصلہ پیدا کرو اور خدا کے واسطے محبوب خداؐ کا نام بدنام نہ کرو:
سلام اس پر جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
سلام اس پر جس نے خون کے پیاسوں کو عبائیں دیں