شطرنج کی تین بازیاں
- تحریر حاشر ابن ارشاد
- اتوار 29 / نومبر / 2020
- 9840
’شطرنج سیکھو گے‘
ابو نے مہرے سمیٹتے ہوئے پوچھا۔
میری عمر کوئی آٹھ سال کے لگ بھگ ہو گی۔ اسکول کی چھٹیاں تھیں۔ چھٹیوں کا کام پہلے ماہ ہی ختم کرنے کے بعد میرے پاس کرنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ٹیلی ویژن کے اکلوتے چینل پر پروگرامز کا دورانیہ چند گھنٹے ہوا کرتا تھا۔ کمپیوٹر کا کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا۔ رابطے کے لیے ابھی لینڈ لائن استعمال ہوتی تھی اور ہمارے گھر ابھی اس کا کنکشن لگنے میں کچھ سال باقی تھے۔
کتاب بینی کی لت اس عمر میں بھی تھی پر ویسی ہی کتابوں کی جیسی کہ اس عمر میں ہونی چاہیے سو ان پر وقت بھی اتنا ہی دیا جاتا تھا جتنا اس عمر میں ممکن تھا۔ اس سارے قضیے میں جو فراغت مجھے نصیب تھی، اس کا علاج ابو نے یہ سوچا کہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا شروع کر دیا۔ کالج جاتے تو میں لائبریرین کے سپرد کر دیا جاتا جو مجھے بھانت بھانت کی کتابوں سے روشناس کرواتا۔ دوستوں کے ہمراہ کرکٹ کھیلنے پہنچتے تو میں باؤنڈری لائن کے باہر سکورر سے سکورنگ کے اسرار سیکھتا اور وقفے میں جو غریب ہتھے لگتا، اس سے گیند پھینکنے اور بلا پکڑنے کے رموز سمجھتا۔
ابو کی اکثر شامیں ان کے ایک دوست شاہد صاحب کے یہاں گزرتیں۔ وہیں ان کے کچھ اور دوست بھی آ جاتے۔ ان شاموں میں حیرت انگیز طور پر کبھی ایسی گفتگو نہیں تھی کہ ایک بچے کا موجود ہونا معیوب ٹھہرتا۔ گہری بحثیں ہوتیں۔ کبھی ادب پر بات ہوتی، کبھی فلسفے سے زور آزمائی ہوتی تو کبھی سیاست اور مذہب کے بخیے ادھیڑے جاتے۔ سب سمجھ نہ آتا پر جو آیا وہ زندگی کرنے کی تربیت میں خشت اول ٹھہرا۔ ان شاموں میں ایک اور لازمہ شطرنج کی بازیوں کا تھا۔ حلقے میں سب شطرنج کے کھلاڑی تھے۔ جب بات چیت سے سانس پھولنے لگتا تو بساط بچھا دی جاتی اور کھلاڑی اور تماشائی سب ایک اور نشے میں غرق ہو جاتے
شروع شروع میں میرے لیے یہ سخت بوریت کا وقت تھا۔ شطرنج کی کچھ سمجھ نہیں تھی۔ بازی لگتی تو سب لے لبوں پر مہر سکوت بھی لگ جاتی۔ ان لمحوں میں سننے کو کچھ ہوتا نہ سیکھنے کو۔ انتظار کرتا کہ کب بازیاں سمیٹیں تو گھر کا رخ کریں۔ لیکن یہ انتظار اکثر کئی گھنٹوں پر پھیل جاتا۔ سمجھ نہ آتا کہ ایک چونسٹھ خانوں کا کھیل اتنا طویل کیسے ہو سکتا ہے اور اتنی طوالت کے باوجود ایسا دل چسپ کیونکر ہے کہ کھیلنے اور دیکھنے والے بساط سے نظر نہیں اٹھا پاتے۔ تجسس نے راہ بنائی تو مہروں کے نام یاد ہوتے گئے۔ چالوں کی ابجد کچھ کچھ پلے پڑتی گئی لیکن ابھی بھی دلی بہت دور تھا۔
کھیل میں اپنے انہماک کے باوجود ابو بھانپ گئے کہ شطرنج سے میرا تعارف ابتدائی مراحل سے آگے نکل گیا ہے۔ کچھ دن شاید وہ مشاہدہ کرتے رہے پھر ایک دن سیدھے پوچھ لیا:
’شطرنج سیکھو گے‘۔
اس کا جواب اثبات کے سوا بھلا کیا ہو سکتا تھا۔شطرنج کے ابتدائی سبق سیکھنے میں کچھ دن لگے، بساط کیسے کھلتی ہے۔ مہروں کا کردار کیا ہے۔ ابتدائی چالوں کے کون کون سے طریق معروف ہیں۔ بازی آگے بڑھانے کے گر کیا ہیں۔ مخالف کی چال کا توڑ کیسے کرنا ہے۔ بازی کھینچی کیسے جاتی ہے۔ کس وقت کون سے مہروں پر انحصار بڑھتا ہے، کب کم ہوتا ہے۔ مہرے ایک دوسرے کا سہارا کیسے بنتے ہیں۔ جوں جوں کہانی کھلتی گئی، شطرنج سے میری دل چسپی بڑھتی چلی گئی۔ مشقوں سے بڑھتے بڑھتے بات وہاں جا پہنچی جب ابو نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے باقاعدہ بازی کھیلنی چاہیے۔
پہلی بازی لگی اور چند لمحوں میں ختم ہو گئی۔ شطرنج کی بساط پر پہلا مقابلہ انتہائی مختصر تھا۔ ابھی میں اپنے پیادوں کی چال پر غور کر رہا تھا کہ دائیں بائیں سے گھوڑے وارد ہوئے، ان کے جلو میں وزیر نکلا۔ پیچھے سے فیل کا زور آیا۔ یہ ہوئی شہ۔ یہ ایک اور شہ اور شہ مات۔ اسباق طاق پر دھرے تھے سو دھرے رہے۔ کھیل سمٹا تو معلوم ہوا کہ یہ میدان آسان نہیں ہے۔ چالیں تھیں ہی کتنی کہ ان کے تجزیے میں وقت صرف ہوتا۔ غلطی کہاں ہوئی، کیسے ہوئی، بس یہ سمجھنا تھا۔
اب کے نہیں، شروع شروع کی حماقت کہہ لیجیے۔ دوبارہ نہیں ہو گی۔ دوبارہ مہرے سجائیے۔ ایک بازی اور سہی۔ خوش گمانی کی عمر پھر مختصر نکلی۔ اب کے تو وزیر ہلا بھی نہیں۔ فیل نے پیادے روندے۔ گھوڑے نے شہ دی۔ ذرا دائیں ہوئے تو دوسرا فیل تیار تھا۔ آگے بڑھے تو پیادہ مزاحم تھا۔ معلوم ہوا کہ سمت درست نہ ہو تو شاہ کو ڈھانے کے لیے پیادہ بھی کافی ہوتا ہے۔ لیجیے دوسری بازی بھی تمام ہوئی۔ پہلے دن شاید گھنٹے بھر میں چھ سات بازیاں ہارنے کے بعد اندازہ ہو گیا کہ سنگلاخ زمین میں فتح کے پھول اگانے میں ابھی بہت محنت درکار ہے۔ ابو اچھے کھلاڑی تھے اور ہم بالکل نو آموز اور بساط پر ابو کو صرف حریف دکھائی دیتا تھا۔ رشتوں کا پاس اور بیٹے کی محبت کبھی ان کے آڑے نہیں آئی۔ روز کھیلتا اور روز ہارتا۔ وقت گزرتا گیا پر اس معمول میں تبدیلی نہ آئی۔ خدا جانے ابو بہت اچھے کھلاڑی تھے یا میں انتہائی اناڑی یا پھر کوئی نفسیاتی مسئلہ پر برسوں میں ایک دفعہ بھی ابو سے جیتنے کی نوبت نہ آئی۔
شطرنج کی بساط پر زندگی کے بہت سے سبق بھی سیکھے۔ ایک روز جب سارے مہرے آپس میں گتھے ہوئے تھے تو کوئی مشکل کشا چال نہ پا کر یوں ہی ایک پیادہ آگے بڑھا دیا۔ ابو کچھ دیر چال پر غور کرتے رہے لیکن جب یہ احساس ہوا کہ اس میں غور طلب کچھ ہے ہی نہیں تو پوچھا:
’یہ چال چلنے کی وجہ ارشاد فرمائیے‘۔ طنز اور غصے میں اکثر ابو کی گفتگو لکھنوی سی ہو جاتی تھی۔ احساس ہو گیا کہ معاملہ اب یہاں نہیں تھمے گا لیکن کچھ بتانے کو تھا نہیں۔
’کوئی وجہ نہیں، بس ایسے ہی چل دی‘ ۔ اور کیا کہتا۔
ابو چند لمحے مجھے گھورتے رہے پھر بولے
’یہ ایسے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ زندگی میں ہر قدم کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے، کوئی مقصد ہوتا ہے۔ بعض اوقات لگتا یہ ہے کہ سوچے سمجھے بغیر ایک کام کر لیا گیا ہے لیکن تب بھی تحت الشعور میں کوئی نہ کوئی حساب کتاب چل رہا ہوتا ہے۔ لیکن ایسے لیا جانے والا قدم کسی کھائی میں گرا دے یا کسی چوٹی پر پہنچا دے، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اس لیے پھر سے سوچو اور بتاؤ کہ یہ چال کیوں چلی ہے؟‘
عمر ایسی تھی اور علم اتنا تھا کہ ہمارے فرشتے بھی تحت الشعور کی تعریف سے نا آشنا تھے لیکن ابو سے ڈر بھی لگتا تھا تو سوال در سوال کرنے کے بجائے چال کی کوئی توجیہہ سوچنا مناسب سمجھا لیکن بہت غور و فکر کے بعد بھی اس چال کا کوئی جواز نہیں ملا۔
”’ابو، کوئی وجہ تو نظر نہیں آ رہی۔ بس یہ کہ کہیں کوئی جگہ کھل نہیں رہی تھی اور اس پیادے کے پاس ایک گھر تھا تو چل دیا۔ اب آپ کی جوابی چال کے بعد دیکھتے ہیں‘۔
’یعنی آپ نے اپنی قسمت میری چال پر رکھ دی ہے۔ یہ تو سخت بیوقوفانہ بات ہے۔ اپنی زندگی آپ بنائیے میاں۔ یہ چال واپس لیں۔ اور سوچ کر ایک چال چلیں اور سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی بہترین جوابی چال بھی خود سوچیں اور یہ بھی کہ پھر آپ کیا کریں گے، اس وقت جب میں وہی چال چلوں گا یا اس وقت اگر میں کوئی اور چال چل دوں تو‘۔
حکم حاکم۔ چال واپس لے کر بساط کا پھر سے جائزہ لیا۔ ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ۔ بہت سوچنے کے بعد یہی معلوم ہوا کہ خانہ تو وہی ایک خالی ہے جہاں پہلے پیادہ بڑھایا تھا اس کے علاوہ ہر چال نقصان کا سودا تھا۔ لیکن وہ چال چلیں تو پھر کیا ہو گا، یہ اب زیادہ توجہ سے دیکھا۔ گھوڑا ادھر سے بڑھے گا کہ مخالف پیادہ سامنے کھڑا ہو گا۔ یوں ہو گا تو کیا کیا جائے گا اور ووں ہو گا تو کیا پینترا بہتر رہے گا۔ حساب کتاب کیا اور دوبارہ وہی چال چل دی جس سے سارے فتنے کا آغاز ہوا تھا۔
’پھر وہی چال‘ ابو کا پوچھنا تو لازم تھا
’جی، چال تو وہی ہے لیکن اس لیے کہ اس کے علاوہ ہر چال میں نقصان ہے اور اس کے بعد آپ کیا چالیں چل سکتے ہیں، اس کا حساب کرنے کے بعد یہ چال سچ سے بہتر ہے۔ لیکن میں یہ نہیں بتا رہا کہ وہ چالیں کیا ہیں۔ وہ آپ خود سوچیں‘۔
ابو مسکرائے اور یہ کم کم ہی ہوتا تھا
’اب ٹھیک ہے۔ بس اسے زندگی کا سبق سمجھو۔ جو کچھ کرو سوچ سمجھ کر کرو اور اپنی تقدیر کا بوجھ اپنے کندھوں پر رکھو۔ اتنا کر لیا تو کسی سے شکایت نہیں رہے گی اور نہ ہی پچھتاووں کی گٹھری سر پر لے کر چلنا پڑے گا‘۔ اس وقت تو یہ سبق پوری طرح سمجھ نہ آیا لیکن زندگی نے جلد ہی سکھا دیا کہ کھیل سے سیکھی گئی حکمت کیسی زود اثر اور کیسی حقیقت پرور ہوتی ہے۔
اس دوران شطرنج کے حوالے سے حلقہ وسیع ہوتا گیا۔ شد بد کے مراحل سے گزرنے کے بعد ابو کے دوستوں سے کھیلنا شروع کیا۔ شکست اور فتح کے تناسب میں بہتری آتی گئی۔ کچھ ہم عمر بھی مل گئے جو شغف رکھتے تھے۔ اس بہانے کچھ دوستیاں بنیں، کچھ ختم بھی ہوئیں کہ شطرنج کا ایک اپنا مزاج اور رنگ تھا جس کے باہر بسنے والی دنیا سے ہم آہنگی ہونے میں کبھی کبھی تفاوت در آتی۔ اس میں چار پانچ برس گزر گئے۔ اس دوران جہاں بہت کچھ بدل گیا وہاں ابو سے ہارنے کی روایت نہ بدلی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اب بازیاں بہت طویل ہوتیں۔ کئی دفعہ تو یوں لگتا کی جیت بس دو چالوں کی دوری پر دھری ہے لیکن دست طلب دراز ہونے پر وہ اور دور کھسکتی چلی جاتی اور پھر وہی ہوتا جو گویا تقدیر مبرم سے کم نہیں تھا۔
زیادہ لوگوں سے کھیلنے کا فائدہ یہ ہوا کہ کھیل میں یک رنگی نہ رہی۔ اب ہر طرح کا مقابل تھا۔ ہر ایک کا کھیلنے کا طریق فرق تھا۔ چالوں کی ترتیب جدا تھی۔ کچھ ایسے تھے جو رخ اور فرزین کے ساتھ حکمت عملی بناتے تھے۔ کچھ کے لیے اسپ اور فیل مرکزی کردار تھے۔ کئی ایسے بھی تھے جو پیادوں کی ترتیب سے کھیل کا رخ طے کرتے تھے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ کھیلتے کھیلتے میری مہارت بھی بڑھتی گئی اور میرے کھیل کی بنت بھی روایتی سے غیر روایتی ہوتی چلی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دن بھی آن پہنچا جب ابو کے ساتھ طے کردہ ریت بھی ایک دن بدل گئی۔
بارہ برس بعد گھورے کے بھی دن پھر جاتے ہیں۔ میں گھورے سے کچھ بہتر نکلا کہ پانچ برس بعد ہی دن پھرنے کا موقع آ گیا۔ ایسا ہی ایک دن تھا۔ بساط بچھائی تو دونوں جانب سے توقعات میں تبدیلی کا گمان نہیں تھا۔ کھیل آگے بڑھتا گیا۔ بہت سی اور بازیوں کی طرح یہ بازی بھی طویل ہوتی گئی۔ ابو کی بہترین چالیں اسپ کے ساتھ ہوتی تھیں اور ان کی شاگردی کا نتیجہ یہ تھا کہ میرا کھیل بھی اسپ کے گرد گھومتا تھا۔ ابو کی کوشش ہوتی تھی کہ جہاں کھیل پھنسے وہاں اپنا فیل اور میرا اسپ لڑا دیں۔ میں اسپ بچانے کی کوشش میں ہوتا اور شاید اسی کوشش میں کھیل اکثر میرے ہاتھ سے پھسل جاتا۔ کئی اور کھلاڑیوں سے کھیلنے کے بعد کھیل میں جو بہتری اور سوچ میں جو تبدیلی آئی تھی، وہ اس دن اس بازی میں کھلتی چلی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اسپ سے توجہ ہٹا کر رخ اور فیل کے ساتھ حملے شروع کر دیے۔ قلعہ بنا تو اس میں نقب بھی لگ گئی۔ شاہ تھوڑی دیر ادھر ادھر پھرتا رہا پھر ایک کونے میں محصور ہونے پر مجبور ہو گیا۔ پیادے آگے بڑھے اور وہ راستہ بھی مسدود ہو گیا۔ ابو کا دفاع پر مجبور ہونا ان کے لیے غیر متوقع تھا۔ اسی میں وہ ایک غلطی کر بیٹھے۔ غلطی کے بعد میری جارحانہ پیش قدمی بڑھتی گئی۔ شروع سے لاتعلق اسپ باہر نکلا۔ ایک شہ۔ دوسری شہ۔ اور یہ شہ مات۔
کچھ دیر تو یقین ہی نہ آیا کہ یہ کیا معجزہ ہو گیا ہے۔ ابو دونوں ہاتھوں میں سر تھامے شاید پچھلی چالیں ذہن میں دوبارہ چل رہے تھے۔ پر جو بے یقینی میری آنکھوں میں تھی، وہی ان کی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے بھی صاف پڑھی جاتی تھی۔ یہ تو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ شطرنج کی بساط پر ابو رشتے کا پاس رکھنے کا عادی نہیں تھے۔ زندگی میں ہر قدم پر وہ میری کامیابی سے شاداں ہوتے تھے۔ جب بھی کسی میدان میں ان سے آگے نکلا تو ان سے زیادہ خوش میں نے کسی کو نہیں پایا۔ البتہ شطرنج میں ان کے لیے میں بیٹا نہیں، ایک حریف تھا۔ ایک ایسا حریف جسے سکھایا بھی انہوں نے تھا سو ان کے لیے میرا ہارنا ان کی مہارت پر مہر تصدیق تھی پر میرا جیتنا کھیل پر ان کی گرفت کمزور ہونے کا اشارہ اور یہ ان کے لیے ناقابل قبول تھا۔
’ایک بازی اور‘
اس سے پہلے کہ میں کمرے سے باہر نکل کر فتح کے جشن کا کوئی انتظام کرتا۔ اور کچھ نہیں تو صحن میں بھنگڑا ہی ڈال لیتا یا شمی کپور کی طرح یاہو کا نعرہ مستانہ لگاتا، ابو نے بساط پر مہرے لگانے شروع کر دیے۔ ان کے لیے میری جیت گویا ایک غیر معمولی واقعہ تھا، ایک معجزہ، ایک خلاف فطرت واقعہ، ایک سائنٹیفک اناملی۔ جسے درست کرنا ضروری تھا اور اس میں تاخیر تباہ کن ہو سکتی تھی۔ خیر صاحب۔ دوسری بازی لگی۔ اس دفعہ ابو نے ہر چال میں طویل وقفے لیے۔ شاید ہر چال سے پہلے پانچ چالیں آگے کی سوچیں تو مہرے کو ہاتھ لگایا۔ ہوتے ہوتے دوسری بازی بھی طویل ہوتی گئی۔ مہرے بساط پر رقص کناں تھے۔ فرزیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، رخ فیل کے ناکام تعاقب پر مجبور، اسپ سرپٹ طوفان بنے ہوئے۔ ایک شاہ قلعہ بند تو دوسرا کھلے میدان میں خیمہ زن۔ پیادے بڑھتے گئے، گرتے گئے۔ بازی سمٹی تو نتیجے نے بتایا کہ فطرت نے ارتقا کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ ابو کی آنکھوں میں دوسری ہار کی بے یقینی پہلی ہار سے کم تھی، شک کی لو دھیمی تھی پر چراغ اب بھی جلتا تھا۔
’آخری بازی‘
اب مجھے بھی جشن سے زیادہ اس میں دل چسپی تھی کہ میری نفسیاتی حد کیا واقعی مسمار ہو گئی ہے۔ کیا میرا یقین اپنے پر پہلے سے سوا ہونے کا لمحہ آ گیا ہے یا نہیں۔ ایک گھنٹے کی بات تھی۔ تیسری مسلسل فتح کے بعد شک کی گنجائش ختم ہو گئی۔ ابو نے بساط سمیٹی۔ مہرے ڈبے میں بند کئے۔ اٹھنے سے پہلے نظر بھر مجھے دیکھا اور بولے:
’گڈ گیم، کل پھر کھیلتے ہیں‘
اس کے بعد کئی کل آئے۔ کئی بازیاں سجیں لیکن شاید ابو کی مہارت ایک جگہ تھم گئی تھی اور میری سیکھ میں صرف بہتری ہی ممکن تھی۔ اس دن کے بعد ابو کبھی مجھ سے نہیں جیتے۔ ہماری بازی اب ایک نئی طرح کی ریت تھی جس میں فتح اور شکست نے اپنی نشستیں گویا ہمیشہ کے لیے تبدیل کر لی تھیں۔ جس طرح ابو نے شطرنج کی بساط پر مجھے کبھی رعایت نہیں دی تھی ،اسی طرح میں بھی یہ قرض لوٹاتا چلا گیا۔ بغیر کسی رو رعایت میرا کھیل جارحانہ ہوتا چلا گیا۔ رفتہ رفتہ بازیاں طویل کے بجائے مختصر ہو گئیں۔ میری فتح اور ابو کی شکست اب ایک ان لکھا اصول تھا جس کا سکرپٹ ہم بار بار دہراتے۔
وقت گزرتا گیا۔ سکول سے کالج، کالج سے یونیورسٹی، یونیورسٹی سے کام کی دنیا، شادی، بچے، لاہور سے ہجرت، واپسی، پھر ہجرت، ایک سوئے ہوئے شہر میں ہمکتی ہوئی زندگی کی تگ و دو اور اس کے بیچ شطرنج کے کچھ پرانے، کچھ نئے حریف، کم کم، کبھی کبھی، لو دھیمی ہو گئی پر چراغ جلتا رہا۔ زندگی کی مصروفیت کا بہانہ کہئے، محبتوں کی بدلتی رتوں کا زمانہ یا سود و زیاں کے نئے پیمانوں کا شاخسانہ، پر ابو کے ساتھ نشستیں کم سے کم ہوتی گئیں۔ بعض اوقات مہینوں بعد ملاقات ہوتی۔ وقت کم سے کم، پر اس وقت میں ابو ایک آدھ بازی کی گنجائش نکال ہی لیتے، اس آس پر کہ بیتا وقت شاید پھر لوٹ آئے، اس راہ نہ سہی، اس راہ سہی۔ پر پلوں کے نیچے اب پانی ایک ہی سمت بہتا تھا۔ نہ وقت کی رفتار الٹی نہ ہماری بازیوں کا میزان۔ ہر بازی کے بعد میری فتح کا تناسب اور ابو کی ہار کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔
ابو سے میرے رشتے میں ہمیشہ وہی جھجک اور وہی خلیج حائل رہی جو ہمارے معاشرے میں باپ کے احترام اور بیٹے کی فرمانبرداری کے نام پر ہمیشہ سے زندگی میں ایک دراڑ کی صورت موجود رہتی ہے۔ باپ اور بیٹا دریا کے وہ دو کنارے رہ جاتے ہیں جن کے بیچ محبت کا دریا اور شفقت کا پانی بہتا تو ہے لیکن کناروں کی دوری کو ملانے والا بے ساختگی، بے تکلفی اور دوستی کا پل کبھی نہیں بن پاتا۔ سوائے شطرنج کی بساط کے، ہم دونوں بھی زندگی بھر وہی دو کنارے رہے۔ محبت کہیں دبے پاؤں، دھیمے دھیمے کانوں میں سرگوشی کی صورت رہی، کبھی ایک خوش آہنگ نغمے میں نہ ڈھل سکی جس کی دھن پر ہم قدم ہو کر باپ بیٹا رقص کر سکتے۔ شطرنج کا کھیل البتہ دو ایسے حریفوں کے بیچ ہوتا جو ایک دوسرے کو برابر جانتے اور برابر سمجھتے ہوئے زور آزمائی کرتے۔ ان لمحوں میں تکلف کی سب دیواریں منہدم کر دی جاتیں۔ جھجک کے سب پردے اٹھا دیے جاتے۔ ہمارے درمیان دوستی کے بس یہی چند لمحے تھے، دشمنی کی بس یہی چند ساعتیں تھیں۔ شاید اسی لیے ہم اس کھیل سے ہمیشہ جڑے رہے۔
لاہور سے ہجرت ہوئی تو انہی دنوں میں ابو کی بیماری شدت اختیار کر گئی۔ بیماری لاعلاج تھی پر لوگ اس کے ساتھ بہت برس بھی گزار دیتے تھے۔ ابو کو لیکن سسک سسک کر جینے سے کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی۔ زندگی انہوں نے اپنی شرطوں پر، بہت وقار سے گزاری تھی۔ خاندان کے بڑے بھی انہیں اپنے سے بڑا سمجھتے تھے۔ وہ ایک ایسا چھتنار درخت تھے جو صرف دوسروں کو سایہ دینے کے لیے تخلیق ہوا تھا۔ ہم تک آنے والی ہر بے مہر دھوپ اس درخت سے یوں چھنی تھی کہ ہم تک محض زندگی کی ضامن گرمائش ہی پہنچی۔ اس گھنے درخت کی گتھی ہوئی شاخوں نے ہر طوفان میں کھڑے ہو کر ہم تک بوندوں کی دل جو جلترنگ کا راستہ بنایا پر گرتی ہوئی کوئی بجلی، برستا ہوئی کوئی ژالہ ہم تک نہیں پہنچنے دیا۔ ابو کو شاید لگتا تھا کہ وہ عمر بھر اسی قد سے کھڑے رہیں گے۔ یہ نہ انہوں نے گمان کیا تھا نہ ہم نے سوچا تھا کہ درخت کو دیمک بھی لگ سکتی ہے۔
بیماری نے ایک دبنگ انسان کو نحیف ڈھانچہ بنانے میں دیر نہیں دکھائی۔ لیکن اس ڈھانچے کو ایک زندہ لاش میں ایک اور حادثے نے بدلا۔ امی اور ابو کا رشتہ بڑا غیر روایتی رشتہ تھا۔ دنیا میں ایک دوسرے کے وہ سب سے گہرے دوست بھی تھے اور ایک دوسرے کے سب سے بے رحم ناقد بھی لیکن ان کی محبت کی گہرائی کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب ابو کی لاعلاج بیماری کا غم امی کو ان سے پہلے کھا گیا۔ ادھر امی گئیں، ادھر ابو نے جینے کی ہر خواہش چھوڑ دی۔ امی کے بعد ابو کے علاج کی ہر سبیل آزما لی گئی۔ چھوٹے بھائی نے اپنے جسم کا ایک حصہ ودیعت کر ڈالا کہ ابو کی ٹوٹتی سانسوں کو کچھ اور دن کی مہلت مل سکے، کون سا ہسپتال، کون سا طبیب، کون سی دوائی، کون سا آپریشن، امید کے ہر راستے پر ابو کو ہم اپنے کاندھوں پر اٹھائے گئے لیکن ابو نے کسی راہ پر پیر نہیں دھرے۔
امی کو گئے چھ ماہ ہو گئے تھے۔ ابو کے علاج کے لاحاصل کوششیں صبح دم میرے گھر کی دہلیز سے شروع ہوتی تھیں اور شام گئے اسی دہلیز پر اس آس پر دھری ملتی تھیں کہ شاید آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہو۔ کسی کسی دن ابو بس اتنی ہمت جٹا پاتے تھے کہ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر کے لیے تکیوں کے سہارے لاؤنج کے صوفے پر نیم دراز ہو جاتے تھے۔ ہمارے لیے برے اور اچھے دن میں بس یہی فرق تھا۔ تو وہ بھی ایک اچھا دن تھا۔ ابو صوفے پر نیم دراز تھے اور میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔ ان دونوں ہمارے پاس کہنے سننے کو شاید کچھ بچا نہیں تھا اس لیے دونوں خاموش ایک دوسرے کو دیکھتے تھے، اس انتظار میں کہ شاید دوسرا شخص کہیں سے گفتگو کا کوئی سرا اٹھا لے۔
’ایک بازی ہو جائے‘
مجھے لگا میرے کان بجے ہیں
’جی، آپ نے کچھ کہا‘
’ہاں، ایک بازی ہو جائے‘
ابو سے شاید آخری دفعہ مجھے کھیلے ایک یگ بیت گیا تھا یا شاید ایک جنم۔ لیکن اس حالت میں شطرنج۔ کھیل بساط کا ہی سہی پر ابو کے اندر اتنی رمق مجھے نظر نہیں آتی تھی پر انکار کیونکر کرتا۔ اندر گیا، بساط لایا اور میز پر بچھا دی۔ ابو کے پیچھے دو اور تکیے لگائے تاکہ وہ بساط کے اتنے قریب آ جائیں کہ مہرے چل سکیں۔ بازی شروع ہوئی۔ میرے اندیشوں کے برعکس، ابو کا لاغر ہوتا جسم کئی تکیوں کے سہارے ہی سہی، مگر جم کر بیٹھا تھا۔ حسب عادت ان کی عینک کھسک ناک کی پھننگ پر کھسک آئی تھی۔ کمزوری کے باعث ان کی بڑی بڑی آنکھیں یوں اندر دھنس گئی تھیں کہ پپوٹوں کی درز سے بمشکل پتلی کی سیاہی دکھائی دیتی تھی پر اس باریک سی درز سے بھی میں ان کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھ سکتا تھا جو نہ جانے کتنے زمانوں بعد لوٹی تھی۔
کچھ دیر بعد شاید ہم دونوں بھول گئے کہ ان کی زندگی کی گنتی اب سالوں کی نہیں، دنوں کی بات ہے۔ ہم یہ بھی فراموش کر گئے کہ بیماری نے انہیں اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ وہ اپنے سہارے کھڑا ہونا تو دور، اپنی مرضی سے کروٹ لینے سے بھی قاصر ہو جاتے ہیں۔ اور ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ان کی سانسیں شطرنج میں خرچ ہونے والی توانائی کو بھی سہارنے سے قاصر ہوں گی۔ ان لمحوں میں ہم وہی حریف تھے جو بیس سال سے مقابل تھے۔ پانچ سال ان کے، پندرہ سال میرے۔ نہ میں اپنی زمین چھوڑنے کو تیار تھا نہ وہ اپنی آس۔ بازی طویل ہوئی تو گھر کے اور لوگوں نے بھی ادھر ہی ڈیرہ لگا لیا۔ کچھ کی آنکھوں میں پریشانی تھی، کچھ کی خاموشی میں خدشے لیکن کوئی کچھ نہیں بولا۔ سب دم سادھے بازی دیکھتے رہے۔
بازی میں اب انتظار یہ تھا کہ پہلے غلطی کون کرے۔ میں حسب عادت جارحانہ چالیں چل رہا تھا اور ابو بہت سوچ سمجھ کر دفاع میں مصروف تھے۔ ادھر سے میں نے فیل آگے بڑھایا۔ ادھر سے رخ تک پہنچنے کا رستہ ابو نے پیادے سے مسدود کر دیا۔
’فرزیں کو دائیں سے لاؤں تو دوسرے فیل کا رستہ کھلے گا۔ ابو کی توجہ اگر فرزیں پر رہی تو فیل شہ کے لیے نکل سکے گا۔ ابو کو لگے گا کہ وہ دو چالوں میں میرا فرزیں اٹھا لیں گے لیکن ادھر شہ در شہ کے بعد انہیں موقع کہاں ملے گا۔ رخ آگے آئے گا تو فرزیں کا راستہ بھی کھل جائے گا۔ ادھر سے بھی شہ۔ یہ پیادہ ادھر سے آگے بڑھے گا۔ دونوں فیل برابر کھڑے ہوں گے۔ ادھر سے فرزیں آگے اور شہ مات‘۔
پورا خاکہ واضح تھا۔ بس مجھے فرزیں آگے چلنا تھا اور یہ توقع رکھنی تھی کہ ابو اس کو جال میں پھنسانے کی کوشش کریں گے۔ یہ لیجئے۔ میں نے فرزیں اٹھایا اور دو خانے آگے رکھ دیا۔ اب میں منتظر تھا کہ ابو اس حربے میں آتے ہیں یا نہیں۔ چارہ لگا دیا گیا تھا۔ کانٹا اب پانی میں تھا۔ مچھلی دھوکا کھاتی ہے یا نہیں۔ میں نے انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائیں اور ٹھوڑی ان میں دھر کر انتظار شروع کر دیا۔ ترغیب بڑی تھی، جال بڑی ہوشیاری سے بچھایا گیا تھا۔ دام ہمرنگ زمین ہو تو باز سی آنکھ بھی دھوکا کھا جاتی ہے۔ ابو کی نظر اور قوی تو پہلے ہی بہت کمزور ہو چکے تھے۔ بازی کے فیصلہ کن مراحل میں انہوں نے چال کے انتخاب میں کچھ وقت لیا لیکن جو چال انہیں چلنا چاہیے تھی اس کے بجائے وہ وہی چال چل بیٹھے جو میں چاہتا تھا۔
فیل کو ہاتھ میں پکڑا۔ چالیں گنیں۔ چھ چالوں میں بازی تمام تھی۔ لیکن چھ چالیں اتنی آگے کی داستان تھی کہ ابو کی نظر سے اب بھی اوجھل تھی۔ ابو کی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا وقت آن پہنچا تھا۔ میرے ہونٹوں پر خفیف سا فاتحانہ تبسم پھیل گیا۔ ابو کو دیکھا کہ ان کی توجہ اب بھی فرزیں پر ہی تھی۔ شاید دل میں وہ اپنی چالیں سوچ رہے تھے۔ ان چالوں میں فرزیں کی موت اور اس کے ساتھ ہی میرے دفاع کا ڈھے جانا یقینی تھا اس لیے ابو اس منظرنامے کے باہر لکھی جانے والی مات سے بے خبر تھے۔ لیجیے جناب، یہ رہی بے خبری کی سزا۔
فیل میرے ہاتھ میں تھا اور میری نظریں ابو کے چہرے پر۔ ابھی مہرہ آگے بڑھانے کو تھا کہ ابو کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کھل گئی۔ بچوں کی سی معصوم مسکراہٹ۔ چھ ماہ سے ہم میں سے کسی نے ابو کو مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔ اس مسکراہٹ میں ان کی چہرے کی ساری نقاہت، بیماری کی تمام تھکن، دستک دیتی ہوئی مردنی، آنکھوں کی زردی اور ہاتھوں کا رعشہ سب گھل گیا۔ صرف وہی مسکراہٹ باقی رہ گئی۔ اس مسکراہٹ میں برسوں بعد بساط پر نظر آتی فتح کی چاشنی تھی، عمر رفتہ کا ہر لمحہ مسرت تھا، خوشی کی ہر کرن وہیں ان دو ہونٹوں پر ابھرنے والی کمزور سی مسکراہٹ میں جھلکتی تھی۔ اب فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں تھی۔ میں نے فیل ہاتھ سے رکھا اور پیادے کو آگے چل دیا۔
ابو کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔ اگلی چال فرزیں پر اسپ کا وار تھا۔ فرزیں کے پاس ایک ہی گھر تھا۔ پیچھے ہٹا تو پیادے نے جگہ بنائی اور فرزیں کے سارے گھر مسدود ہو گئے۔
’آہا۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے‘ ابو کی مسکراہٹ اب ایک قلقاری میں ڈھل گئی تھی۔
ادھر ابو نے فرزیں اٹھایا ادھر بازی چار پانچ چالوں میں سمٹ گئی۔ ایک کے بعد دوسری شہ اور مات۔ پندرہ برس بعد باپ نے بیٹے کو شکست دی۔ زندگی کا دائرہ بیس برس پہلے بساط کے جس نقطے سے شروع ہوا تھا۔ اسی پر وقت کی پرکار کی نوک پھر لوٹ آئی تھی۔ ابو کی مسکراہٹ قلقاری سے ہوتے ہوئی ایک قہقہے میں بدل گئی۔ تماشا دیکھنے والوں نے الگ شور مچا دیا۔ سب کو پتہ تھا کہ یہ نتیجہ کیسا حیران کن، کیسا غیر متوقع تھا۔
’گڈ گیم، ابو‘
’اوہ یس، ویری گڈ گیم۔ پر ہار گئے تم‘ ابو نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
’جی۔ آپ کو انڈر ایسٹیمیٹ کر گیا‘
’استاد استاد ہی ہوتا ہے‘ ابو اب بھی مسکرا رہے تھے۔
’دریں چہ شک۔ ایک گیم اور‘
ابو نے ایک گہری سانس لی ’نہیں یار، میں بہت تھک گیا ہوں، اب اور بیٹھ نہیں سکتا۔ مجھے اندر لٹا دو‘۔
’جی ابو‘ بھائیوں کے ساتھ مل کر ابو کو سہارا دیا اور اندر بستر پر لٹا دیا۔ کئی کئی دن بغیر سوئے کام کرنے والا شخص اب اتنا ناتواں تھا کہ شطرنج کی ایک بازی کی تھکن بھی اس کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ لیٹنے کے کچھ لمحے بعد ہی ابو بے سدھ سے ہو گئے۔ یہ وہ دن تھے جب ان کی نیند اور بے ہوشی میں فرق کرنا مشکل تھا۔ بھائی کمرے سے گئے پر میرے قدم وہیں جم گئے تھے۔ پہلے کھڑا ابو کی اس مسکراہٹ کو دیکھتا رہا جس کا شائبہ اب بھی ان کے ہونٹوں پر موجود تھی پھر کرسی کھینچی اور ابو کے سرہانے بیٹھ گیا۔
عمر بھر جس شخص کے سائے میں زندگی بسر کی تھی، اب میرے سامنے بستر پر اس کا بس ایک ہیولہ سا تھا۔ چند لمحوں میں گویا ساری عمر آنکھوں کے آگے پھر گئی۔ ابو کے سفید بالوں پر نظر گئی تو بچپن کے وہ دن یاد آ گئے جب ابو کا سر دبانا روز کا معمول ہوتا تھا۔ سر دبانے کی رسم کا آخری مرحلہ بھی جب ابو کی فرمائش پر ان کے بال کھینچے جاتے۔ اس کے بعد ان کے بے ترتیب بال انگلیوں سے سیدھا کرنا بھی میری ذمہ داری تھی۔ بڑا ہوا تو یہ کام چھوٹے بھائیوں نے باری باری سنبھالا۔ اب کتنے ہی سالوں بعد میری انگلیاں انہیں بے ترتیب بالوں کو چھو رہی تھیں۔ انگلیاں پھیر کر ابو کے بال سنوارنے شروع کیے تو پتہ نہیں کیوں حلق میں ایک گولہ سا پھنس گیا۔ اپنے پر قابو رکھنے کی دو لمحے ناکام کوشش کی پھر بلک بلک کر رو دیا۔ کچھ دیر بعد آنسو تھمے تو زندگی میں پہلی دفعہ ان کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے نکل آیا۔
چند دن کی بات تھی کہ ابو بھی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ شطرنج کی وہ بازی ان کی زندگی کی آخری بازی تھی۔ اس کے بعد ان کی نقاہت اس قدر بڑھ گئی کہ وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ شطرنج کھیل سکیں۔ بے ہوشی اور نیم بے ہوشی کے بیچ ان کے کرب کے آخری کچھ روز مجھے یاد نہیں ہیں کیونکہ میں نے انہیں کبھی یاد رکھنے کی کوشش نہیں کی، صرف بھلانے کی محنت کی ہے۔ لیکن شطرنج کی اس آخری بازی میں ابو کی مسکراہٹ مجھے آج بھی بس چند لمحے پہلے کی بات لگتی ہے۔ ان کی زندگی کی آخری بازی میں جیتی ہوئی ایک مسکراہٹ، موت سے چھینی ہوئی آخری مسکراہٹ اور اس کے بدلے ایک شکست جو سو جیتوں پر بھاری تھی۔ عمر بھر میں اس سے اچھا سودا کبھی نہیں کیا۔
ابو کو گئے بائیس سال ہو گئے ہیں۔ میرے بالوں میں ویسی ہی چاندی اتر آئی ہے جیسی کبھی ابو کے بالوں میں اتری تھی۔ آئینہ دیکھتا ہوں تو کبھی کبھی، بس ایک لحظے کو ابو دکھائی دیتے ہیں، اس لیے آئینہ بھی کم کم دیکھتا ہوں۔ کچھ زخم بھرنے کے لیے نہیں ہوتے، یہ امی اور ابو کے جانے کے بعد معلوم ہو گیا تھا۔ کچھ تنہائیاں کسی انجمن، کسی محفل سے دور نہیں ہوتیں، یہ بھی بائیس برس سے جانتا ہوں۔ بس کبھی کبھی جب اس تنہائی سے دل بہت گھبرا جاتا ہے تو گھر کے کونے میں خاموش پڑی ایک گرد آلود بساط کو نکالتا ہوں، مہرے سجاتا ہوں، بازی شروع ہوتی ہے اور دونوں طرف سے میں خود کھیلتا ہوں۔ ایک چال میری، ایک چال ابو کے نام کی۔ بائیس سال ہو گئے ہیں، میں دوبارہ ابو سے نہیں جیت پایا۔ جانتے ہیں کیوں۔ کیونکہ میری ہر ہار کے بعد ابو اب بھی مسکرا دیتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)