کوویڈ۔72
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 30 / نومبر / 2020
- 16280
کوویڈ۔ 19 اور کوویڈ 18 کا موازنہ کرتے ہوئے پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ کوویڈ 18، کوویڈ19 سے زیادہ خطر ناک ہے اور وہ کوویڈ18 کے خلاف فیصلہ کُن جنگ کے لیے میدان میں اُتر آئے ہیں۔ کوویڈ18 عمران کا بطور وزیرِ اعظم منتخب ہونا ہے جس نے دو سابقہ حکومتوں کے صاحبانِ اقتدار کے خلاف نیب کو احتساب کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جسے انتقامی سیاسی اقدامات قرار دیا جا رہا ہے۔
نیب کا وجودِ نا مسعود 1999 میں قائم ہوا جس کا سہرا یا طوق جنرل پرویز مشرف کے سر یا گلے میں ہے۔ نیب احتساب سیل کے طور پر وجود میں آیا اور پھر قومی احتساب بیورو بنا دیا گیا جسے پی پی پی اور نون لیگ کی حکومتوں نے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا اور ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے مقدمات بنائے۔زرداری صاحب نے اسی دور میں احتساب کے نام پر جیل کاٹی۔ مسٹر ٹین پرسینٹ بھی کہلائے۔ اب سوال یہ کہ کیا1999 سے 2018 کے دوران نیب نے سیاستدانوں کے خلاف مقدمات بنائے وہ درست تھے یا وہ بھی سیاسی انتقامی کارروائیاں تھیں؟ صورت کوئی بھی رہی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ نیب کو مسلسل اُنیس سال تک حکومتوں نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ یہ ہے نیب کی تاریخ۔
اب اگر کوئی کہے کہ پاکستان میں کرپشن نہیں ہوتی، پاکستان کے سارے سیاستدان صادق، امین اور دودھ کے دھُلے ہیں تو یہ بھی جھوٹ ہے۔ ان سیاستدانوں اور حکمرانوں نے خواہ وہ فوجی تھے یا فوجی اسیٹبلشمنٹ کے سلیکٹڈ، سب نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ کیا نواز شریف کہہ سکتے ہیں کہ وہ سلیکٹڈ نہیں تھے جب کہ وہ سیاست میں جنرل ضیا کی اشیر واد سے آئے، جنرل جیلانی سے اُن کا تعلق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اور یہ بات سب کو یاد ہوگی کہ جنرل ضیا نے سیاستدانوں کو دم ہلا نے والی مخلوق قراردیا تھا ۔ اُن کے بعد چودھری برادران کی قاف لیگ کے سر پر جنرل مشرف کا ہاتھ تھا اور چودھری برادران اُنہیں وردی میں سو بار منتخب کروانے کا اعلان ببانگِ دہل کرتے رہے ہیں۔ ایوب خان کی کنوینشن مسلم لیگ میں جو سویلین بھرتی ہوئے وہ سب سلیکٹڈ ہی تو تھے۔
موجودہ سلیکٹڈ حکومت سے پہلے کے سلیکٹڈ اپنی اپنی ضرورت کے تحت نیب کو استعمال کرتے رہے۔ اور سب کو یاد ہوگا کہ کس طرح شہباز شریف صاحب نے پورے جسمانی ارتعاش کے ساتھ زردای کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت بارآمد کرنے اور اُنہیں ملک کے بڑے شہروں کی سڑکون پر گھسیٹنے کی قسم کھا کر کہا تھا کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ اور قوم ان ساری انتقامی وارداتوں کی گوا ہ ہے۔
انتقام پاکستانی سیاست کا کلیدی استعارہ ہے اور اب ساری پی ڈی ایم عمران خان کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے اور یہ وہی بیانیہ ہے جسے عمران خان نے یہ کہہ کر ایجاد کیا تھا کہ (میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا) اور اب وہی بیانیہ عمران خان کو واپس دیاجا رہا ہے کہ ہم بھی تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ یہ صورتِ حال پورے ملک کو تصادم کی طرف لے جا رہی ہے اور حکومت کی رِٹ کمزور پڑ کر اس قدر لاغر ہو چکی ہے مولانا فضل الرحمان علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ ڈنڈے سوٹے کا مقابلہ ڈنڈے سوٹے سے کیا جائے گا ۔ یہ بغاوت کا اعلان ہے یا مولانا کا نعرہ مستانہ، دونوں صورتوں میں ملک کے لیے کوئی نیک فال نہیں۔ ملک اس وقت کورونا وائرس، مہنگائی، بے روز گاری اور بیڈ گورننس کا شکار ہو کر برِ صغیر کا مردِ بیار نظر آ رہا ہے۔ یہ صورتِ حال ایک دو دن میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ بہتر سال کی بد انتظامی ، غیر ذمہ داری اور ملکی اداروں کی ناا ہلی کی چُغلی کھا رہی ہے کہ ہمارے فوجی اور سول حکمران اس ملک کو وہ مضبوط نظام نہیں دے سکے جو کسی معاشرے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتا ہے۔
ہمارے لیے، خاص طور پر عام پاکستانی کے لیے یہ ملک بہتر سال سے کوویڈ 72 میں مبتلا ہے جس نے اک ملک کو ملک بننے ہی نہیں دیا، اس معاشرے کو تعمیر ہونے ہی نہیں دیا۔ ہم نے تحریک پاکستان کی احتجاجی سیاست کے جھولے میں جنم لیا، تقسیم کی بد ترین قتل و غارت گری سے گزرے، ، تین جنگیں لڑیں اور ملک دو لخت ہوگیا۔ یہ وہ وارداتیں ہیں جس نے اس قوم کو سکھ کو سانس لینے ہی نہیں دیا۔ اگر کسی نے سکھ کا سانس لیا تو وہ سیاسی ، عسکری اور مذہبی سلاطین ہیں جنہوں نے اپنی خاندانی اور نجی معیشت کو لوہے کے مضبوط حصار میں نا قابلِ تسخیر بنا کر خود کو ، اپنے خاندانوں کو، اپنے لواحقین کو، اپنے عزیز و اقارب کو اور اپنے سہولت کاروں کو تو خوش حالی کی جنت میں لا آباد کیا مگر ملک کے غریب عوام کو مصائب اور مفلسی کے دوزخ میں دھکیل دیا۔ اور یہ سب کچھ دو سالوں میں نہیں بہتر سال میں ہوا ہے۔ اور اس کے ذمہ دار وہ سب ادارے اور اور اُن پر مسلط جن ہیں جنہوں نے اس معاشرے کو سول معاشرہ بننے ہی نہیں دیا۔ یہ ہے ہماری جمہوریت کی کہانی ہماری تاریخ کی زبانی۔
اور تازہ ترین صورت یہ ہے کہ ہم سب مل جل کر ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہم اس ملک کو بدترین خلفشار کی مثال بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہم ڈائیلاگ، گفتگو اور دلیل و دانش سے کام لینا جانتے ہی نہیں۔ اور کوئی یہ سوچنا ہی نہیں چاہتا کہ ہم کیوں اتنے بد اخلاق، ہو چکے ہیں۔ ہم غُنڈہ مزاج اور ہاتھا پائی کے دلدادہ ہیں۔ ہم نے ہر شعبے میں الزامات، دشنام طرازی اور بہتان تراشی کی روایت قائم کر لی ہے اور اب ہم یوٹرن لے کر واپس اخلاق اور تہذیب کی پناہ میں آنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ ہماری معاشرتی بد قسمی اور قومی المیہ ہے۔
ہم نے اسلامی اقدار کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا ہے اور ایک متبادل مذہبی بیانیے میں گرفتار ہیں جو صرف قول پر تکیہ کرتا ہے اعمال پر نہیں۔ ہمارے مذہبی رہنما باتیں کرنے والے قولوی ہیں مولوی نہیں لیکن وہ اپنے مولوی ہونے کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔ اس قسم کی کی مخلوق کے بارے میں بُلھے شاہ نے کہا تھا:
مُلّاں اتے مشالچی، دونویں اِکّو چِت
لوکاں ونڈن چاننا تے آپ ہنیرے وچ
ایسا لگتا ہے کہ ان بہتر سالوں میں ہماری فکری نظریاتی، مذہبی سیاسی اور قومی تربیت نہیں ہوئی ہم میں سے بہت سوں نے لکھنے پڑھنے کا ہنر تو سیکھ لیا لیکن علم کے مطابق زندگی بسر کرنے کا فن نہیں سیکھا۔ اور ہمیں سکھاتا کون؟ سیاست دان؟ وہ سیاستدان جن کے لیے سیاست مذہب بھی ہے اور کاروبار بھی۔ جگہ جگہ سیاسی صنم خانے کھلے ہیں جن میں سیاسی بتوں کی پوجا ہوتی ہے۔ میاں کا بُت، بھٹو کا بُت، عمران کا بُت، مولوی فضل الرحمان کا بُت، علامہ خادم حسین رضوی کا بُت، اور شیخ رشید نے خود اپنا بُت اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں نصب کر رکھا ہے جہاں وہ پُجاری بھی خود ہی ہیں ۔ ان سب کے ہوتے ہوئے پاکستانی معاشرے پر لاقنونیت کے آسیب کا سایہ ہے ۔
لوگ اللہ کو ماننے کے لیے نعرہ ء تکبیر کو ہی کافی سمجھتے ہی، عمل کی ضرورت کا ادراک نہیں کرتے۔ اور شاید نہیں جانتے کہ زمین پر زندگی انسان کا بنیادی حق ہے، جس کی تفصیل حقوق العباد کے چارٹر میں درج ہے۔ ریاستوں کا قیام اس حق کی ضمانت کے لیے عمل میں لایا جاتا ہے جس میں حکومت والدین ہوتی ہے اور عوام بچے۔ لیکن ہماری ریاست میں عوام کی اکثریت یتیم ہے ۔ ریاست کے قیام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو دووقت کی روٹی عزت سے میسر ہو، ہر شخص کے بدن کی برہنگی میانہ روی سے ڈھکی رہے، دکھ یا بیماری میں علاج کی سہولت دستیاب ہو اور پھر انسان کا اپنے بارے میں وہ علم حاصل ہو جسے انسانیت کہتے ہیں۔ اور ریاست اپنا کام چلانے کے لیے حکومت قائم کرتی ہے ۔ حکومت اپنے طرز حکمرانی سے لوگوں کو حقوق بہم پہناچتی ہے اور جب حکومت اپنے کام احسن طریقے سے کرتی ہے تو حکومت کی رِٹ قائم ہوتی ہے۔ لوگ حکومت کی وضع کردہ پالیسیوں کا احرام کرتے ہیں اور معاشرہ امن کے ماحول میں ترقی کرتا ہے اور خوش حالی سے ہمکنار ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں حکومت کی رِٹ کو کئی چیلنج درپیش ہیں، جن کی وجہ سے ملک کے سر پر غیریقینی کی سی کیفیات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ آنے وال کل ہمارے لیے کس المیے کی خبر لائے۔ دعاؤں پر تکیہ کرنے والے لوگ بہت سادہ لوح ہیں اور نہیں جانتے کہ عمل کے بغیر دعا کارگر نہیں ہوا کرتی۔
اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔