خدیجہ خانم: گم گشتہ کی تلاش

برصغیر میں اردو اور ہندی کی ارتقا کے حوالے سے اردو کے شہرہ آفاق ماہر غالبیات آنجہانی گیان جند جین  لکھتے ہیں کہ پریم چند جی کے چھوٹے بیٹے مشہور صاحب قلم محترم امرت رائے نے اپنی کتاب   میں لکھا ہے کہ اردو کی تاریخ اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب سے اس کا نام اردو پڑا ہے۔ 1780میں شیخ غلام ہمدانی مصحفی کے یہاں پہلی بار لفظ اردو کا استعمال زبان کے معنی میں کیا گیا۔جب سے ہی  اس میں ہندی عناصر کی جگہ عربی اور فارسی عناصر شامل ہونا شروع ہو ئے۔   

 یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت نے اردو کو قبول نہیں کیا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہندو گھرانوں میں کبھی بھی عورتوں نے اردو نہیں پڑھی۔  پنجاب جیسے صوبے میں بھی عورتیں اردو نہیں پڑھتی تھیں، وہاں ہندی کو بیٹیوں کی زبان کہا جاتا تھا۔ کشمیر سے دہلی اور یوپی میں آئے ہوئے کشمیری پنڈیتوں، کایستھوں اور کھتریوں میں بھی خواتین  عام طور سے  اردو نہیں پڑھتی تھیں، یعنی اردو کی رسائی ہندوؤں کی باہری بیٹھک تک ہی ہو سکی۔ حویلی کے اندر نہ جا سکی، یعنی اردو ہندوؤں کی مادری زبان نہ بن سکی۔ میرا خیال ہے کہ ہندوؤں میں مردوں کی اکثریت بھی اردو نہیں پڑھتی تھی۔ میں اپنے زمانے میں تو دیکھتا ہوں کہ میری پیڑھی کے ہندو، جن کی تعلیم تقسیم ہند سے پہلے ہوئی ہے، ان میں بھی پہلی زبان کے طور پر ہندی پڑھنے والوں کی تعداد  اردو پڑھنے والوں سے زیادہ ہوتی تھی۔ (ایک بھاشا دو لکھاوٹ، دو ادب صفحہ ۳۵۱۔۴۵۱، مصنف: گیان جندجین (

 بھارت میں اردو کے ارتقا کو سمجھنے کے لئے مذکورہ اقتباس کو قبول کرنا بہت ضروری ہے یہ اور بات ہے کہ  یہ کتاب اردو دنیا میں بہت ہی متنازعہ  رہی ہے۔ اردو کے کئی ہم عصر ماہر لسانیات، محققوں اور تنقید نگاروں نے اس کتاب کے کئی اقتباس سے اتفاق نہیں رکھتے۔ نومبر 2019 میں مسقط (عمان) کے ایک مشاعرے میں محترم پروفیسر وسیم بریلوی سے میری تفصیلی ملاقات رہی  جس میں اردو ہندی کی مشترکہ تہذیب کے حوالے سے دوران گفتگو آپ نے بھی یہ ذکر کیا کہ اردو کی رسائی ہندوؤں کے باہری بیٹھک تک ہی محدود رہی۔ لیکن  آج کے مضمون میں جس شاعرہ کے کمال فن پر گفتگو ہونے جا رہی ہے وہ ہندی کے سنگلاخ راستوں اور گوفاؤں سے ہوتے ہوئے، اردو کی حسین وادیوں کے سفر پر اس امید کے ساتھ گامزن ہیں کہ  اردو ادب کے قارئین آپ کو بہت پسند کریں گے۔

خوش فکر، خوش گفتار  خدیجہ خانم کی نظمیں پہلی بار  2007 ماہنامہ شاعر، ممبئی کے ایک شمارے میں مجھے پڑھنے کا اتفاق ہواتھا۔ تب سے اب تک اردو اور ہندی کے بے شمار رسالوں میں گاہے بگاہے ان کی نظمیں پڑھ رہا ہوں۔  ہندی کے کئی رسالوں اور کم کم ہی سہی اردو کے رسالوں میں بھی کئی ایک نظموں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ یہ نظمیں بنیادی طور پر ہندی ادب کو دھیان میں رکھ کر کہی گئی ہیں۔ مزید دریافت کرنے سے پتہ چلا کہ محترمہ کا اصل ادبی میدان ہندی ساہیتہ ہی ہے تاہم اردو کی دلکشی نے آپ کا دامن تھام رکھا ہے۔ اردو کے کئی ایک ادبی رسالوں میں آپ کی نظمیں شائع ہوئیں ہیں اور کئی کتابوں پر آپ کے نظریاتی تبصروں نے قارئین کو چونکا دیا ہے۔  خط و کتا بت اور کچھ گفت و شنید کی بنیاد پر میں جو کچھ جان سکا ہوں اس سے یہ پتہ چلا کہ محترمہ کی خاندانی جڑیں تو شمالی ہند کی دھرتی میں پیوست ہیں تاہم لائق فائق والدین کے ساتھ ہجرتوں کے طویل سلسلے کے سبب مرکزی ہندکی خانہ بدوشی نصیب ہوئی، بعد ازاں 1989 میں  خورشید خان سے ازدوازی زندگی کی صورت نے جگدل پور (بستر، چھتیس گڑھ) کا مستقیل مکین بنایا۔ محترم خورشید خاں  چھتیس گڑھ حکومت میں معز ز عہدے پر فائیز ہیں، ڈرامہ کے آدمی ہیں، اب مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ ڈرامہ سے فرصت پا کر افسری کرتے ہیں یا افسری سے تنگ آکر ڈرامہ کرتے ہیں۔  بہرحال سنتے آئے ہیں کہ وہ ایک منجھے ہوئے اداکار اور ہدایت کار ہیں،یعنی آپ کا گھرانہ بھی علم و فن سے لیس ہے۔ آس پاس کا ماحول بھی علمی اور ادبی ہے۔ گھر میں چھوٹے سے بڑے سب تعلیم یافتہ ہیں۔ محترمہ خود بھی ہندی ادب میں اعلی تعلیم کی سند رکھتی ہیں۔موصوفہ کی شاعری پر مزید گفتگو کرنے سے پہلے آیئے ایک نظر ان کے کوائف پر ڈالتے ہیں۔

  پورا نام:۔ خدیجہ خانم،  پیدائش1968 بمقام رائسین،(بھوپال)۔ شائع شدہ کتابیں:  سپنا سا لگے۔ ہندی غزلوں کا مجموعہ  سنگت۔ دیوناگری رسم الخط میں نظمیں، آبگینہ۔ نستعلیق رسمالخط میں نظمیں، اس کے علاوہ دس مختلف مجموعہ ہائے انتخاب کلام میں دوسرے شعرا کے ساتھ شامل کی گئیں ہیں۔ آکاش وانی اور دور درشن سے  کئی "ٹاک شو" میں گفتگو اور کلام پیش کرنے کا مواقعے دستیاب ہوئے ہیں۔ کم عمری کا زمانہ تھا جب 1985میں آپ نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا۔                

 خدیجہ خانم نے اپنے کومل کومل ملائم الفاظ اور لہجے سے قارئین کو سہلا دینے والی نظموں کی خالق ہیں جو ہندی ادب کے شعری افق پر روشن ستارے کی مانند درخشاں ہیں۔ نہایت نفیس طبیعت اور خوبصورت سوچ فکر کی  مالک، محترمہ خدیجہ خانم اپنے گھر پریوار کی ذمہ داریوں سے جب بھی کچھ وقت نکالتی ہیں تو اس کو اپنے حسین نغموں کی تخلیق پہ صرف کرتی ہیں۔ آپ کی نظمیں بناوٹ و بنت کے لحاظ سے بہت چست اور مضمون کے حوالے سے بہت ہی دیدہ زیب ہوتی ہیں۔ نظموں کو پڑھتے ہوئے یہ گمان گز رتاہے کہ الفاظ کا استعمال نہایت ہی ناپ تول کر کیا گیا ہے، قدرے چھوٹی چھوٹی نظمیں اپنے قارئین کی بھرپور توجہ کھینچنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔  خدیجہ خانم کی نظمیں اردو رسم الخط میں شائع ہوئی ہیں، تاہم یہ بات بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ خدیجہ کی نظموں کی تہ تک پہنچنے کے لئے ہندی زبان و زبان کی سوجھ بوجھ بہت ضروری ہے۔

 خدیجہ خانم سے کبھی بھی میری  ملاقات نہیں ہوئی ہے، تاہم ہر تخلیق اپنے تخلیق کار کی ظاہری، باطنی اور ذہنی عناصر کا آئینہ ہوتا ہے۔ تخلیق کار اپنے اطراف سے جو کچھ حاصل کرتا ہے اس کو اپنے ذہن و دل کی بھٹی میں  سینچ کر اپنی  استعداد کے مطابق تخلیق   تیار کرتا ہے۔ خدیجہ کی نظموں کو بھی مجموعی طور پر میں اسی کسوٹی پر رکھ کر دیکھتا ہوں، جہاں خا موش سمندر کی تہ میں محبت، سماجیات، قدرتی مناظر اور زمانے کی بے راہ روی کی لہریں ایک دوسرے کو آپس میں کاٹتی ہوئی ایک جہاں آباد کر تی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اور اسی ماحول میں تخلیق کار اپنی آواز کی تلاش میں دنیا کے ساحل پر ہوا خوری کرتا ہے۔

 برصغیر میں عورت کے مسائل ایک بہت بڑا مضمون ہے، جو خدیجہ خانم کی کئی نظموں میں نظر سے گزرتا ہے۔ ان نظموں میں کبھی مہادیوی برما کی بلند آواز ہے، تو کبھی پروین شاکر کی طرح کسی دوشیزہ کی پنہاں کسک اور کہیں مدھم انداز گفتگو میں بلند فکر اور حسین قدرتی مناظر کا تصور ابھرتا ہے، جس کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ خدیجہ کی شاعری سماج کا وہ سیاہ کمرہ ہے، جس کی دیواروں پر شاعرہ اپنی فکر کے قلم سے  خوش نما مصوری کی کوشش کر رہی ہے۔ خدیجہ خانم نے اپنی اس کوشش میں اپنے ہی جیسی تمام عورتوں کے مسائل کو دنیا کے اسٹیج پر پیش کر نے کا جتن کیا ہے۔ جس کے سائے میں ایک خوش فکر اور لبرل سماج کا وجود آباد ہوتا ہے۔ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ کچھ نظمیں، ابھی کچھ اور بہاروں اور کھلی فضا کی متقاضی ہیں، جوشاعرہ میں وقت گزرنے کے ساتھ ضرور ظہور پزیر ہوں گی۔

ان  کی نظموں کوا ایک ایک کر کے جائزہ لینے سے بہتر ہے کہ مند جہ ذیل اقتباس سے اتفاق کیا جائے جو کچھ مہینے پہلے دہلی کی ایک ویب پورٹل صدا ٹوڈے میں محترم اسلم چشتی  کے مضمون  " خدیجہ خانم کی نظمیہ شاعری"  کے عنوان سے نظر نواز ہوا۔ وہ لکھتے ہیں کہ خوش فکر، خوش شکل، سراپا سندر، خدیجہ خانم مرکزی ہند کی مشہور شاعرہ ہیں۔ ان کی شہرت اب اپنے علاقے کی سرحدوں کو پار کر چکی ہے، ہندی ساہتہ کے کویتا جگت میں جانی پہچانی جاتی ہیں لیکن اردو کے شعری حلقوں میں بھی یہ گمنام نہیں۔اس کی وجہ ان کی سہل ہندی ہے جس میں اردو کے الفاظ سلیقے سے استعمال ہو کر سونے پر سہاگا کا کام کرتے ہیں۔ ان کی زبان اور ان کے شعری فن پر ہندی ساہتہ کے مشہور ترین کوی راجیش جوشی نے لکھا ہے کہ "خدیجہ خانم کی کویتا میں ان کی زبان کا ایک الگ تیور ہے۔ اپنے سکھ دکھ میں ہمارا اپنا چہرہ ہے اور اس میں ہمیں اپنی آواز سنائی دیتی ہے"

  ڈاکٹر فرحت نادر رضوی،" خدیجہ خانم کی نظم گوئی  "کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھتی ہیں کہ "خدیجہ خانم کی شاعری مخصوص حسی ارتعاشات کی حامل ہے۔ ہندی شاعری کے راستے سے اردو شاعری کی دنیا میں قدم رکھنے کے سبب ان کا شعری آہنگ روایتی اردو شاعری کے آہنگ سے قدرے مختلف ہے، ہاں انگریزی شاعری سے ان کی طرز ادا متاثرمحسوس ہوتی ہے۔ ان کی لفظیات بھی اردو یا ہندی کے بجائے ہندوستانی کہی جائیں تو بہتر معلوم ہوگا۔