ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ، جد و جہد جاری رکھنے کا اعلان

  • سوموار 30 / نومبر / 2020
  • 8120

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ  کےسربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور حکمرانوں کے خلاف سفر آگے بڑھے گا۔ وہ ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بہن آصفہ بھٹو زرداری نے کہا سلکیٹڈ حکومت کے ظلم و جبر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جس پر وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے فیصلہ دے دیا سیلیکٹڈ کو جانا ہوگا۔

حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے ملتان میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جسے حکومت نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور گزشتہ روز سے ہی شہرکے مختلف علاقوں میں کنٹینرز لگا کر اسٹیڈیم جانے والے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں تھیں۔ تاہم مقدمات، گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے قلعہ کہنہ باغ کے قریب گھنٹہ گھر چوک میں میدان سجا لیا اور ٹرک پر اسٹیج تیار کیا گیا۔

حکومت مخالف حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے کہا کہ آج عوام نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا، اب حکومت کو جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلیکٹڈ حکومت سے عوام کو بچائیں گے۔ ملتان جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرنے والی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پارٹی کی بنیاد عوامی جمہوری اور فلاحی ریاست کے لیے رکھی تھی اور وہ اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کا مشن جاری رکھا اور اس راہ میں شہادتیں قبول کیں۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے 18ویں ترمیم کے ذریعے عوامی جدوجہد جاری رکھی۔

انہوں نے کہا کہ میں ایسے وقت پر آپ کے سامنے آئی ہوں جب پارٹی چیئرمین اور میرے بھائی بلاول کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ ایم آر ڈی کی طرح پی ڈی ایم کی تحریک میں بلاول بھٹو زرداری کا ساتھ دیں گے۔ ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے، اگر ہمارے بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تو پیپلز پارٹی کی ہر عورت اپنی گرفتاری دینے اور اس عمل میں جدوجہد کے لیے تیار ہے۔

اپوزیشن اتحاد کے جلسے کی میزبانی پیپلزپارٹی نے کی اور اِس جلسے کا انعقاد پیپلز پارٹی کے 54 ویں یوم تاسیس کے موقع پر کیا گیا تھا۔ آصفہ بھٹو کی تقریر سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین بلاول بھٹو کی بہن آصفہ بھٹو اپنے گھروں سے پاکستانیوں کے حقوق کی خاطر باہر نکلیں ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ چند روز قبل اُن کی دادی کا انتقال ہوا لیکن وہ عوام کے درد کی خاطر اس جلسے میں شرکت کر رہی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ عوام کا درد ان کے ذاتی درد سے زیادہ ہے۔ حکومت کی جانب سے جلسے جلوسوس کی پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا وائرس کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ حکومت اپوزیشن کے جلسوں پر لاک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے لیکن یہ عوام عمران خان پر لاک ڈاؤن کرنے والے ہیں۔

مریم نواز  کا کہنا تھا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں دشمن بھی ملا تو کم ظرف ملا۔ یہ صرف نا اہل نہیں ہیں، بلکہ اِن کے دماغوں میں غلاظت ہے۔ میری ماں جب اسپتال کے آئی سی یو میں داخل تھی تو  پی ٹی آئی والے اُس کے کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہو گئے۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے حالیہ بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون وزیر نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی ماں کی لاش پاکستان پارسل کر دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف جیسا کوئی فرمانبردار بیٹا ڈھونڈ کر تو دکھاؤ۔ ’میرے والد لندن میں کوئی کاؤنٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے کہ مرتی ہوئی ماں کے پاس نہ آتے‘۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی چڑھانے کے بعد ان کے گھر والوں کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں جاتی اور اُنہیں جلدی دفنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اِسی طرح بلوچستان میں اکبر بگٹی کو قتل کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔  پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے اور اُن کے قاتلوں کو ملک سے باہر فرار کرا دیا جاتا ہے۔ جلاوطنی کے دنوں میں جب میرے دادا کا انتقال ہؤا تو منتخب وزیراعظم کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ ایک طرف منتخب حکومتوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے اور دوسری طرف بندوقوں کے زور پر دس دس اور بیس بیس سال حکومتیں کی جاتی ہیں۔ کیا کوئی مشرف کو ایک دن بھی جیل میں رکھ سکا؟ کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ مشرف کو پاکستان واپس لا سکے؟ عاصم سلیم باجوہ جو ایک سرکاری ملازم ہے، اُس نے اربوں روپے کا کاروبار کیسے بنا لیا؟۔

اسرائیل سے متعلق بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اچانک اسرائیل کی حمایت میں تحریک کیسے شروع ہو گئی۔ اِس مہم کے پیچھے کیا سلیکٹرز اور سلیکٹڈ بھی ایک صفحے پر ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کی شاہراہوں اور چوراہوں کو بند کیا گیا۔ اُن کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر تشدد کیا گیا لیکن آخرکار ہم ہی کامیاب ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملتان میں تشدد کے خلاف جمعہ اور ہفتہ کو پورے ملک میں احتجاج ہو گا۔ ہم آپ کی حکمرانی کو جبر کی حکمرانی کہتے ہیں اور جبر کے خلاف لڑنا ہمارے اکابر کی سنت ہے۔ ہم جلسہ نہیں کریں گے تو غریب کی آواز کون بنے گا، ہم پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں آئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے ملتان میں ہونے والے جلسے سے قبل بہاولنگر میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے 37 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملتان کے تھانہ لوہاری گیٹ پولیس نے اسٹیڈیم پر حملہ اور قبضہ کرنے پر 80 افراد نامزد اور 1800 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ مقدمے میں عبدالغفور حیدری، یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹوں، جاوید ہاشمی کے داماد زاہد بہار ہاشمی اور عبدالرحمان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

ملتان انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ملتان کے علاقے گھنٹہ گھر چوک پر دکانیں، کاروباری مراکز اور ملتان میٹرو بس سروس بند کر دی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو کے مطابق ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث شہر کی بیشتر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جب کہ شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسے کو روکنے کے لیے مختلف اضلاع سے پنجاب پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا جب کہ کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں منگوا لی گئی ہیں۔

ملتان روانگی سے قبل لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ملک میں تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کے جلسے ہو رہے ہیں، وہاں کورونا نہیں پھیل رہا، کیا سارے ایس او پیز اپوزیشن کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 تو چلا ہی جائے گا، لیکن کووڈ 18 کا نکالنا ضروری ہے، اس حکومت کو اپنا گھر جاتا نظر آ رہا ہے۔ اب اس حکومت کے آخری چند دن ہیں۔