موجودہ حکومت آمریت سے بھی بدتر ہے: یوسف رضا گیلانی
- منگل 01 / دسمبر / 2020
- 5940
سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے ملتان میں کامیاب ساتھ جلسہ کیا. جو کچھ اس حکومت کے دور میں ہو رہا ہے اتنا تو ڈکٹیٹر شپ کے وقت میں بھی نہیں ہوا۔
ملتان میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مولانا فضل الرحمٰن نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکن فتحیاب ہوئے۔ عوام کامیاب ہو گئے۔ ہم نے جب کہا تھا کہ جلسہ ہو کر رہے گا تو اللہ کی مدد سے جلسہ ہو کر رہا، اس لحاظ سے پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادوں نے بھی بڑی قربانی دیتے ہوئے محاذ پر جا کر خدمات انجام دیں۔ اس کی پاداش میں وہ گرفتار بھی ہوئے، پولیس گردی کا نشانہ بھی بنے، ان پر تشدد بھی ہوا، جیل بھی گئے لیکن اللہ نے ان کو عزت و وقار کے ساتھ جیل سے رہائی دی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا یہ نظام آگے بڑھتا رہے گا اور اب ہماری نظریں 13 دسمبر کے لاہور کے جلسے پر ہوں گی۔ 8 دسمبر کو اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہان شریک ہوں گے اور آئندہ کی حکمت عملی طے ہو گی۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کیا کہ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں اگر تمام معاملات میں کوئی غیر متعلقہ ہے تو وہ عمران خان اور اس کی صوبائی حکومتیں ہیں۔ عوام کے معاملات اور حکومتی نظام سے ہی وہ تقریباً لاتعلق ہو گئے ہیں اور یہ پی ڈی ایم کی تحریک کا نتیجہ ہے کہ حکومت غیر مؤثرہو گئی ہے۔
اس موقع پر سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملتان جلسے سے قبل پی ڈی ایم کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ان سے حلف نامے پر دستخط لیے گئے جس پر لکھا تھا کہ اگر کوئی جلسے پر جائے گا، تو حکومت پنجاب کو 10 لاکھ تاوان دے گا۔ یہ ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں پی ڈی ایم کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان نامساعد حالات میں جلسہ کیا اور اسے کامیاب کرایا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے۔ ابھی ہمارے لوگ جیلوں میں ہیں۔ 14سال کے بچوں کو بھی جیل میں ڈالا گیا ہے۔ اتنا تو ڈکٹیٹر شپ کے وقت میں نہیں ہوا جو یہ اب کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے حکومت کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے اسے شکست دے دی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ قلعہ قاسم باغ کے میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور آصف علی زرداری بھی علیل ہیں۔ یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ لیڈرشپ اپنے بچوں کو تو نہیں نکالتے لیکن دوسروں کے بچوں کو ڈھال بنا لیتے ہیں لیکن آپ نے دیکھا کہ میرے بچے بھی موجود تھے، آصفہ بھٹو زرداری پہلی مرتبہ باہر آ کر ایجنڈے کے مطابق اس جلسے میں شامل ہوئیں۔