بلین ٹری منصوبے پر سپریم کورٹ کی شدید نکتہ چینی، تمام ریکارڈ طلب کرلیا

  • منگل 01 / دسمبر / 2020
  • 4610

سپریم کورٹ نے دریاؤں و نہروں کے کناروں پر شجر کاری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بلین ٹری سونامی منصوبے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے دریاؤں، نہروں کے کناروں پر شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس دوران وفاقی و صوبائی سیکریٹریز جنگلات، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے حکومت کے بلین ٹری سونامی منصوبے کا نوٹس لیتے ہوئے منصوبے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں جنگلات کی بحالی کے لیے 5 سال کے عرصے میں 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈائریکٹر جنرل ماحولیات سے پوچھا کہ اسلام آباد میں 5 لاکھ درخت کہاں لگائے گئے ہیں؟ اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں، آپ نے سارے درخت بنی گالہ میں ہی لگائے ہوں گے۔ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس معاملے پر ‏تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرادی جائیں گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ بڑی مغرور ہے۔ اگر توہین عدالت کا نوٹس ملا تو ساری جمع پونجی ختم ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں درخت کٹ رہے ہیں، کشمیر ہائی وے پر بے ترتیب درخت لگے ہیں، ‏درخت خوبصورتی کے بجائے بدصورتی پیدا کررہے ہیں۔ درخت قوم کی دولت اور اثاثہ ہیں لیکن ‏اسلام آباد سے کراچی تک جائیں، دریا کنارے کوئی جنگل نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا کا بلین ٹری سونامی کہاں ہے۔ صوبے میں لاکھوں درخت کاٹے جاتے ہیں، نتھیا گلی میں درخت کٹ رہے ہیں۔ ناران کاغان کچرا بن گیا ہے۔ کمراٹ، مالم جبہ، پشاور کہیں درخت نہیں؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے بتایاکہ مجموعی طور پر 73 لاکھ درخت لگائے ہیں اور 3 کروڑ 90 لاکھ لگانے کا پلان ہے۔

اس موقع پر عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے جھیلوں اور شاہراہوں کے اطراف درخت لگانے سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ سندھ کے افسران جیل بھی جائیں گے اور نوکری سے بھی جائیں گے۔ عدالتی حکم عدولی پر سندھ کے افسران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔

پنجاب کا معاملہ آیا تو سیکریٹری آبپاشی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں کینال کے علاقے میں 3 لاکھ درخت لگائے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 25 ہزار میل کینال روڈ کے علاقے میں 3 لاکھ درخت کچھ بھی نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ‏کاغذوں میں آدھا پاکستان جنگل ہے، اصل میں جنگل کہیں نہیں۔ سماعت کے دوران کوئٹہ شہر سے متعلق چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں کبھی کوئٹہ کے پہاڑوں پر درخت ہوا کرتے تھے۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ کوئٹہ کے پہاڑوں پر درخت نہیں لگتے، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئٹہ شہر کے پہاڑ چٹانیں ہیں؟

سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے  عدالت کو بتایا کہ 430 ملین (43 کروڑ) درخت ملک بھر میں لگائے جاچکے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ 430 ملین درخت کہاں لگے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 430 ملین درختوں کا لگنا ناقابل فہم ہے۔ اگر 430 ملین درخت لگ چکے ہوتے تو پاکستان کی تقدیر بدل جاتی، اتنے درخت لگنے سے ہمارا موسم بالکل تبدیل ہوجاتا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ 430 ملین درخت کہاں سے لائے گئے؟ جس پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے جواب دیا کہ اپنے ملک کی نرسریوں سے تمام درخت منگوائے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عجیب بات ہے اتنے زیادہ درخت نرسریوں میں کیسے پڑے ہوئے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کے مختلف شہروں میں سانس لینا مشکل ہے، اتنی گندگی ہے ملک میں کہ بندہ سانس نہیں لے سکتا۔ ہم پورے ملک میں مجسٹریٹ بھجوا کر 430 ملین درخت لگنے کی تحقیقیات کروائیں گے۔

عدالت میں پیش ہونے والے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ گزشتہ برس سے 10 بلین ٹری سونامی پر کام کا آغاز کیا، دو برسوں کے دوران 430 ملین درخت ملک کے مختلف شہروں میں لگا چکے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ درخت کتنے رقبے پر لگے ہیں۔ سیکریٹری نے کہا کہ ایک ملین (10 لاکھ) ہیکٹرز پر درخت لگائے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنگلات سے متعلق اختیارات تو صوبوں کے پاس ہیں۔ وفاق کی تو کوئی سنتا ہی نہیں، جس پر سیکریٹری نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں صوبوں کے ساتھ 50 فیصد شراکت داری وفاق کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری جنگلات پنجاب اور سندھ بتائیں کہ 430 ملین درخت کہاں لگے ہیں۔ جس پر پنجاب کے سیکریٹری جنگلات آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 4 برسوں میں 46 کروڑ درخت لگائیں گے جبکہ اب تک 9 کروڑ درخت لگا چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 9 کروڑ درخت اتنے بڑے پنجاب میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں، چھانگا مانگا کا حال ہم دیکھ چکے ہیں۔ کلر کہار کی پہاڑیوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔

عدالتی ریمارکس پر سیکریٹری جنگلات پنجاب نے کہا کہ کلر کہار میں کچھ نجی پہاڑیوں پر تعمیرات ہوئی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کلر کہار میں مزید تعمیرات آج سے بند کر رہے ہیں۔ عدالت نے کلر کہار کی پہاڑیوں پر تعمیرات روکنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں زمین پر لگے درخت نظر آنے چاہئیں، شہروں میں گندگی ہونے کے باعث زیادہ درخت لگائے جائیں۔ ہماری آئندہ نسل کے لیے سانس لینا دشوار ہوگا۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ کرنا ہے۔ ہم اس ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری پلاننگ، چاروں صوبائی سیکریٹریز جنگلات کو طلب کرلیا اور کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔