پیپلز پارٹی کایوم تاسیس

1967میں قائم ہونے والی ملک کی اہم ترین جمہوری جماعت پاکستان پیپلز پارٹی آج اپنا53واں یوم تاسیس منا رہی ہے۔اگرچہ آج پیپلز پارٹی ملک کی تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے تاہم اپنی تشکیل کے بعد سے لے کر2013 کے انتخابات تک پیپلز پارٹی ملک کی صف اول کی دو جماعتوں میں شامل رہی ہے۔

 1970کے انتخابات میں اگرچہ پیپلز پارٹی شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے مقابلے میں  دوسرے نمبر پر آئی تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی تنازعات اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے باعث پیپلز پارٹی اپنے پہلے ہی انتخابات کے بعد حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔1977کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں کلین سوئیپ کیالیکن اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔بھٹو شہید کی پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس سیاسی تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج نے ایک بار پھر ملک میں مارشل لاء لگاکر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ غیر جانب دار سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق1977کے انتخابات میں تھوڑی بہت دھاندلی ضرور ہوئی لیکن اتنے بڑے پیمانے پر نہیں کہ پیپلز پارٹی کے لئے دوبارہ جیتنا مشکل ہوتااور شاید یہی وجہ تھی کہ 90دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کرنے والے فوجی آمر ضیاء مختلف حیلے بہانوں سے انتخابات کو ٹالتے رہے۔

دس سالہ دور آمریت میں پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیاجس نے کسی بھی شکل میں یا تو آمریت کی مزاحمت کی یا کسی بھی سطح پر پیپلز پارٹی اور بھٹو شہید کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔دس سالہ دور آمریت میں بھٹو صاحب کو جسمانی طور پر ختم کرنے سمیت پیپلز پارٹی کا جسمانی و نظریاتی وجود ختم کرنے کی پوری کوششیں کی گئیں لیکن 1988 کے انتخابات کے نتائج نے واضح کر دیا کہ نہ تو لوگوں کے دلوں سے بھٹو کو نکالا جا سکا اور نہ پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت ختم کی جا سکی۔دس سالوں میں آمرانہ طاقتوں کے ہاتھوں زیر عتاب رہنے والی پیپلز پارٹی  1988کے انتخابات میں آمریت کے دودھ پر پلے ہوئے سیاسی پہلوانوں کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے دوبارہ حکومت بنا نے میں کامیاب رہی۔پیپلز پارٹی نے وفاق میں تیسری بار 1993 جب کہ چوتھی اور آخری بار 2008میں حکومت بنائی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف ادوار میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے کچھ غلط فیصلے بھی ہوئے جن کا پارٹی کو ٹھیک ٹھاک سیاسی نقصان بھی چکانا پڑا تاہم مجموعی طور پر ان ادوارمیں پیپلز پارٹی نے متعدد محازوں پر ملک اور معاشرے کو آگے کی سمت لے جانے کے لئے قابل ذکر اقدامات کئے۔پیپلز پارٹی نے اپنے پہلے دور حکومت میں ملک کو متفقہ آئین  دینے کے علاوہ جوہری پروگرام کا آغاز کیا۔اکہترکی جنگ میں بھارت کی قید سے 90ہزار جنگی قیدیوں کو باعزت رہائی دلوائی۔ غریب کسانوں میں زمینیں تقسیم کیں۔پاکستان اسٹیل مل کا قیام اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا شروع کئیں۔ 1988 سے 1990اور1993سے1996کے درمیان اپنی دو نامکمل حکومتوں میں بے نظیر بھٹو نے خواتین کے پولیس اسٹیشنز قائم کرنے، کاروبار کے لئے قرض فراہم کرنے، خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کرانے اور اعلی عدلیہ میں خواتین ججز کا تقرر ممکن بنانے سمیت خواتین کو ہر میدان میں آگے لانے کے لئے قابل ستائش اقدامات کئے۔2006میں پاکستا ن کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہندو خاتون رتنا بھگوان داس چاؤلہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئیں۔ اس کے علاوہ ملکی تاریخ میں پہلی بار خاتون اسپیکرکی تقرری اور پہلی بار کسی خاتون سیاسی رہنما کو قائد حزب اختلاف بنانے کے اعزازات بھی پیپلز پارٹی جیسی ترقی پسند جمہوری جماعت کے حصے میں آئے۔صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختون خوا کرنا بھی ایک اہم قدم تھا۔پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں اضافہ کر کے اور گوادر پورٹ پر ترقیاتی کام کا اغاز کر کے صوبے کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرنے کے علاوہ آئین میں 18ویں ترمیم منظور کرانے جیسے بڑے اقدامات بھی یقینی بنائے۔پیپلز پارٹی کی قیادت سے ہونے والے نامناسب فیصلوں میں سوشلزم کا صنعتوں پر سوچے سمجھے بغیر نفاذ، جاگیرداروں کو پارٹی میں لانے اور سیاسی مخالفتوں کو دشمنی سمجھ لینے کی فاش غلطیاں سرفہرست ہیں۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ایک وقت میں پاکستان کے "چاروں صوبوں کی زنجیر"کہلانے والی جماعت آج محض ایک صوبے کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اور قیادت کے خلاف ہر دور میں نہ صرف محلاتی سازشیں ہوتی رہی ہیں بلکہ پارٹی اور اس کی قیادت اسٹبلشمنٹ اور  عدلیہ کے ہاتھوں بھی زیر عتاب رہی ہے لیکن محض محلاتی سازشوں اور اداروں کو قصوروار قرار دے کر خود احتسابی سے گریز کرنا دانش مندی نہیں۔تجزیہ نگاروں کے مطابق پیپلز پارٹی نے ایک لمبے عرصے سے تنظیم سازی اور تنظیمی ڈھانچے میں بہتری کے لئے قابل ذکر اقدامات نہیں کئے۔پیپلز پارٹی کا دوسرا مسئلہ لیڈر شپ بحران ہے۔ اگرچہ اب بلاول موثر انداز میں پارٹی کی قیادت کر رہا ہے لیکن بے نظیر بھٹو کی اچانک شہادت سے پارٹی میں آنے والے لیڈر شپ بحران کا نتیجہ پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا برائے نام رہ جانا بھی پارٹی کی پوزیشن خراب کرنے کا باعث بنا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے غیر پنجابی ہونے کے باوجود صوبہ پنجاب میں انتخابی معرکے سر کئے تھے لیکن آج پیپلز پارٹی پنجاب کے سرکردہ رہنماؤں کا پنجاب سے جیتنا غیر یقینی نظر آتا ہے۔پیپلز پارٹی کی مقبولیت کم ہونے کی ایک اہم وجہ پارٹی قیادت پر لگنے والے کرپشن کے الزامات ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن مقتدر حلقوں کا بیانیہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بیانیہ کم از کم پنجاب کی حد تک اپنا اثر دکھا چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی مقبولیت کم ہونے کی ایک اور اہم وجہ بری میڈیا سٹریٹیجی اور مینجمنٹ اور عدم تشہیر کی پالیسی ہے۔موجودہ دور میں سندھ حکومت نے وسیع و عریض صحرائی علاقے میں صاف پانی کی فراہمی سمیت صوبے بھر میں جدید ترین ہسپتالوں (دل، لیور اور سائبر نائف) کا جال بچھا دیا ہے لیکن ناقص میڈیا سٹریٹیجی کے باعث نہ صرف عام عوام ان منصوبوں سے بے خبر ہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے زیادہ تر کارکنان بھی ان سے صیح طرح سے اپ ڈیٹڈ نہیں۔

 پارٹی کے پیچھے رہ جانے کی ایک اور وجہ گاہے بگاہے وقتی مفادات کے حصول کے لئے مفاہمانہ طرز سیاست اختیار کرنے کے باوجودسیاسی فوائد سے محروم رہ جانا بھی ہے۔ماضی قریب میں سینیٹ میں صادق سنجرانی کو چیئرمین بنوانا اور بلوچستان حکومت گراناجب کہ حال ہی میں کراچی انکوائری رپورٹ کا خیر مقدم کرنا ناکام مفاہمانہ عمل کی چند مثالیں ہیں۔