اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دے دیا

  • بدھ 02 / دسمبر / 2020
  • 5110

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

عدالت عالیہ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت کی۔ دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان نے عدالت میں بیان قلمبند کروایا۔ ڈائریکٹر یورپ دفتر خارجہ مبشر خان نے کچھ دستاویزات پیش کیں جنہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔

مبشر خان نے بتایا کہ میں نے اس عدالت سے جاری نواز شریف کے اشتہارات موصول کیے، جس کے بعد میں نے اشتہارات دفتر خارجہ سے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھیجے۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے 9 نومبر کو دفتر خارجہ کو جواب دیا، رائل میل کے ذریعے نواز شریف کو اشتہارات کی تعمیل کے حوالے سے بتایا گیا۔ مبشر خان کا کہنا تھا کہ 30 نومبر کو رائل میل کے ذریعے اشتہارات کی تعمیل کی تصدیق شدہ کاپی موصول ہوئی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ روزنامہ جنگ لندن کو خط لکھا گیا اور نواز شریف کی طلبی کے اشتہارات تمام اخبارات میں انگریزی میں شائع ہوئے۔ مبشر خان کا بیان مکمل ہونے کے بعد ایف آئی اے کے افسر اعجاز احمد کا بیان قلمبند ہونا شروع ہوا اور انہوں نے بتایا کہ میری سربراہی میں ایف آئی اے پنجاب کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ نواز شریف کے اشتہارات کی جاتی امرا اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں تعمیل کرائی۔ ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف کے گھر گئے تو وہاں سیکیورٹی اسٹاف موجود تھا۔

نواز شریف کے اشتہارات سے متعلق سیکیورٹی اسٹاف کو آگاہ کیا گیا اور بلند آواز میں پکارا گیا، اسی روز ٹیم نواز شریف کے جاتی امرا والے گھر بھی پہنچی اور وہی کارروائی دہرائی۔ ایف آئی اے ٹیم نے کارروائی کے دوران تصاویر بھی بنائیں جو ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔ اعجاز احمد کا بیان مکمل ہونے کے بعد ایف آئی اے کے دوسرے افسر کا بیان ریکارڈ ہوا۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم جاری کردیں گے۔ انہوں نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب سے مکالمہ کیا اور پوچھا کہ ہمیں آگے کیا کرنا چاہیے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ 2 اپیلیں نواز شریف کی ہیں جبکہ 2 اپیلیں نیب کی نواز شریف کے خلاف ہیں۔ سزا بڑھانے کی نیب کی اپیل پر نوٹس جاری ہے جبکہ فلیگ شپ پر نوٹس نہیں ہوا۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ سابق جج ارشد ملک کے خلاف اپیل میں متفرق درخواست دائر ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ اپیلوں پر کیا کرنا چاہیے۔ نیب نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس پر اپیلیں مسترد کرنے کی استدعا کی۔ جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ نواز شریف کی اپیلیں میرٹ پر مسترد ہونی چاہئیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر عدالتی نظیر پیش کریں کہ اشتہاری ملزم کی اپیل کا کیا کیا جانا چاہیے۔ اس پر جہانزیب بھروانہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کرنے پر نواز شریف کو الگ سے سزا ہو سکتی ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ اگر اس میں سزا ہو سکتی ہے تو اپیلوں میں بھی میرٹ پر فیصلہ ہو سکتا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے مریم نواز اور کپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں پر بھی سماعت ہے۔ کیا نواز شریف کی اپیلوں کو بھی انہی اپیلوں کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور کپٹن (ر) صفدر کی اپیلوں کا میرٹ بالکل مختلف ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایک ہی کیس میں فیصلہ ہے دونوں میں، کیس تو پورا کھلے گا، اس عدالت نے ارشد ملک کا کنڈکٹ بھی تو دیکھنا ہے۔ عدالتی ریمارکس پر جہانزیب بھروانہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 5 گواہ پیش کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، دوسری درخواست ناصر بٹ نے دائر کر رکھی ہے وہ بھی اشتہاری ملزم ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ارشد ملک نے بھی ایک بیان حلفی دیا تھا جسے ہم نے انتظامی اختیارات میں ریکارڈ کا حصہ بنا دیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے العزیزیہ اور ایون فیلڈر ریفرنس میں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کا اعلان کیا۔  عدالت نے نواز شریف کی اپیل کی آئندہ سماعت مریم نواز کی اپیل کے ساتھ مقرر کر دی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل پر آئندہ سماعت 9 دسمبر کو کریں گے۔