مطلوب انقلابی روادار کشمیری لیڈر تھے

آزاد کشمیر کو سوگ میں ڈبو کر اس دنیا سے رخصت ہونے والے سابق وزیر تعلیم مطلوب انقلابی  کے ساتھ جموں کشمیر کے حوالے سے میرا نظریاتی اختلاف ہونے کے باوجود آخری دم تک ہماری دوستی قائم رہی۔ بنیادی وجہ اس عظیم انسان کا اخلاق اور رواداری تھی۔

ان کا آبائی تعلق جس علاقہ سے ہے اسے ہماری پہاڑی زبان میں پرلی پٹی اور میرے علاقہ کو اورلی پٹی کہتے ہیں۔  ان دونوں پٹیوں کے درمیان ایک بہت بڑی پہاڑی ہے اور یہی پہاڑی کوٹلی کے حلقہ چار اور پانچ کو آپس میں تقسیم کرتی ہے۔  انہوں نے 2006   میں پرلی پٹی سے اورلی پٹی  آ کر الیکشن لڑا اور پھر کھوئیرٹہ کے مضافاتی گاؤں دھنہ میں مکان تعمیر کر لیا جہاں وہ اب ابدی نیند سو رہے ہیں۔  دھنہ کی پہلی پہچان چوہدری محمد جنگی تھے۔

بچپن میں یورپ چلے جانے اور وہاں بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں قید ہو جانے کے باعث میری اور مطلوب انقلابی کی ملاقات نہ ہوئی۔ میں نے مطلوب انقلابی کا نام پہلی بار جیل میں اس وقت سنا جب وہ حلقہ چار سے آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے۔ جیل میں اخبار میں پڑھا کہ انہوں نے اڑھائی ہزار ووٹ لئے۔ دوسری بار میں نے مطلوب انقلابی کا نام تب سنا جب جیل میں ان کی جانب سے میرے ساتھ رابطہ کیا گیا کہ وہ مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میرے ساتھ ملاقات کے لیے وزیر داخلہ سے خصوصی منظوری لینی پڑتی تھی جس کے لیے ایک طویل وقت درکار ہوا کرتا تھا۔ مطلوب انقلابی کی واپسی سے پہلے ملاقات کا پروسیجر مکمل نہ ہو سکا جس کی وجہ سے ان کی میرے ساتھ جیل میں ملاقات نہ ہو سکی۔ لیکن سترہ مئی 2005 کو جب میں بری ہو کر آیا تو مطلوب انقلابی مجھے میرے گھر ملنے آئے۔ ان کے ساتھ مقامی اخباری نمائندوں کے علاوہ اسلام آباد سے چند ایم اے کے طلبا تھے۔ 

مطلوب انقلابی نے کہا یہ طلبا میری قید اور مسلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مجھ سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔  میرے  ذہن میں خیال آیا کہ شاید مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مطلوب انقلابی خود میرا موقف جاننا چاہتے ہیں لیکن وہ مصلحتاً خود سوال نہیں کرنا چاہتے۔  میں نے جب سوالات کی دعوت دی تو ایک طالب علم نے پوچھا آپ کشمیر کی خاطر جیل میں تھے لیکن آپ کی قید کی تفصیل کیا ہے؟  میں نے کہا نیلسن منڈیلا جب بری ہوا تو جنوبی افریقہ کے ایک پانچ سالہ بچے سے بھی پریس نے جب منڈیلا کی قید کی تفصیل پوچھی تو اس نے تفصیل بتا دی تھی۔ آپ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد  یونیورسٹی میں ایم اے کے طالب علم ہو کر بھی تفصیل مجھ سے پوچھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تحریک آزادی کے ساتھ آپ کی کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ 

ایک اور موقع پر ایک اور طالب علم کے اس طرح کے سوال کے میرے جواب پر پاس بیٹھے ایک سیاسی آدمی نے کہا: "دراصل ان کا تعلق لبریشن فرنٹ سے نہیں ہے۔" میں نے کہا اچھا تو اس کا مطلب ہے جس کا تعلق لبریشن فرنٹ سے نہیں اس کا تحریک آزادی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔  مطلوب انقلابی صاحب نے کہا راجہ صاحب آپ نے ان نوجوانوں کو ایجوکیٹ کرنا ہے۔  مطلوب انقلابی تو اپنی طرف سے حوصلہ افزائی کر رہے تھے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے جواب سب کو شرمندہ کر رہے ہیں، میں اپنے جواب نہ روک سکا۔  میں نے کہا میں اگر جیل سے زندہ واپس نہ آتا تو ان کو کون ایجوکیٹ کرتا۔ آپ تو انقلابی ہیں آپ نے ان کو آزادی کے لیے کیوں ایجوکیٹ نہیں کیا؟ 

میٹنگ میں موجود کچھ افراد نظریں اوپر نیچے کرنے لگے تو مطلوب انقلابی نے کہا نہیں نہیں راجہ صاحب ٹھیک کہتے ہیں۔  یہاں سے مطلوب انقلابی صاحب اور میری دوستی شروع ہو گئی۔  انہوں نے کئی بار مجھے تقریبات میں دعوت دی اور میری جیل کی روداد داستان عزم کی سب سے پہلے انہوں نے کوٹلی شہر میں تقریب رونمائی کروائی۔ کئی بار دائیں بائیں سے پوچھ کر کہ آیا میں گھر ہوں مجھے اطلاع دیے بغیر میرے گھر آ جاتے۔  ایک تقریب  میں انہوں نے بھٹو صاحب کی مسئلہ کشمیر پر خدمات کا ذکر کیا تو میں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا بھٹو صاحب نے  بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کرکے مسئلہ کشمیر کو علاقائی بنایا۔ آزاد کشمیر کی فوج ختم کی اور  فائربندی لائن کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کیا۔  یہ تو کسی بھی لحاظ سے خدمات نہیں۔

مطلوب انقلابی نے کہا بھٹو صاحب نے ایک لاکھ فوجی بھارتی جیل سے رہا کروانے تھے۔ تو میں نے کہا اس کا مطلب ہے پوری ریاست جموں کشمیر کے مستقبل سے ایک لاکھ فوج کی قیمت زیادہ تھی۔ ویسے بھی ان فوجیوں نے جینیوا کنوینشن کے تحت جلد یا بدیر رہا ہو ہی جانا تھا۔  برحال اس طرح کے واضع نظریاتی ختلافات کے باوجود مطلوب انقلابی اور میری دوستی آخر دم تک قائم رہی جس کی سب سے بڑی وجہ  مطلوب انقلابی کے جنازے میں ہمارے بزرگ راجہ نثار احمد خان نے بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک پختہ سیاسی کارکن کے اندر ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں مخالف کی بات سننے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ یہیں سے سیاسی رواداری کا عمل شروع ہوتا ہے۔ 

میرے خیال میں مطلوب انقلابی صاحب کی طرف سے میری باتوں کا برا نہ منانے کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ان کے اندر کا انسان یہ تسلیم کرتا تھا کہ راجہ قیوم حق پر ہے۔ انہوں نے اپنی وزارت کے دوران صدر سے عمر کی نرمی لے کر مجھے یونیورسٹی میں لیکچرر تعینات کروانے کی کوشش کی مگر محکمانہ انٹرویو میں جب مجھے میری سیاست کے بارے پوچھا گیا تو میں نے کہا اگر تحریک آزادی سے وابستگی سیاسی جرم ہے تو مجھے لیکچررشپ نہیں چائیے۔ آخری بار وہ میرے گھر چند ہفتے قبل آئے۔ اس بار بھی انہوں نے مجھے فون نہ کیا بلکہ میری گاڑی میرے گھر کے پاس دیکھ کر آ گئے۔ اور میری اہلیہ سے دودھ کی چائے کی فرمائش کی۔ دو گھنٹے میرے پاس رہے۔  ہم نے سیاسی باتیں کم اور ذاتی زیادہ کیں۔  کہنے لگے یقین جانیں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں لیکن یہاں کا سیاسی معاشرہ بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

جانے سے پہلے میری لائبریری پر نظر ڈالی۔ میری کم سن بچیوں سے ملے اور میری اہلیہ کو کہا شکر ہے آپ کا اپنا مکان بن گیا ہے۔ گھبرانا نہیں۔ اللہ رحم کرے گا۔  بیلا سٹیڈیم کھوئیرٹہ میں لاکھوں لوگ سما سکتے ہیں مگر تیس نومبر کو یہاں گاڑیوں اور عوام کی اتنی تعداد تھی کہ جنازے کے بعد گاڈیوں کو نکلنے میں کئی گھنٹے لگ گے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ ان کا ایک ساتھی توصیف جرال تدفین کے وقت جان کی بازی ہار بیٹھا۔ اللہ تعالی ان دونوں کو غریق رحمت کرے اور سوگوار خاندانوں کو صبرجمیل عطا کرے۔