ٹرمپ کی انتخابی دھاندلی کی سب درخواستیں مسترد

  • جمعرات 03 / دسمبر / 2020
  • 6260

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعینات کردہ ایک وفاقی جج نے گزشتہ ہفتے صدارتی انتخابات میں دھاندلی سے متعلق صدر کی  ایک درخواست مسترد کر دی۔

وفاقی جج اسٹیفنوز بباس نے ریاست پینسلوینیا میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور نتائج کی تصدیق سے متعلق درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا تھا کہ ’ناانصافی کے الزامات سنگین ہیں لیکن انتخابات کو محض غیر منصفانہ قرار دینے سے یہ حقیقت نہیں بن جاتی‘۔ اکاون سالہ وفاقی جج بباس صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ پہلے جج نہیں جنہوں نے اُن کی انتخابی جعلی سازی کی درخواست مسترد کی ہے۔

نارتھ ڈسٹرکٹ آف جارجیا کے اسٹیون گرمبرگ سمیت ری پبلکن ادوار میں مقرر ہونے والے کئی جج صدر ٹرمپ کی انتخابی عذرداریوں کے خلاف فیصلے دے چکے ہیں۔ وفاقی جج بباس نے اپنے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جرم کے لیے الزامات اور پھر ثبوت درکار ہوتے ہیں لیکن ہمارے سامنے تو ایسا کچھ نہیں۔

مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ریاست پینسلوینیا میں دائر درخواست مسترد ہونے پر صدر ٹرمپ کی کمپین کو عدالتی محاذ پر ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر اور اُن کے حامیوں نے کئی ریاستوں میں تین درجن سے زائد انتخابی عذرداریاں دائر کی تھیں جن میں انتخابات میں دھاندلی، لاکھوں غیر قانونی ووٹ ڈالے جانے اور ووٹوں کی غلط گنتی جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے۔

کئی ریاستوں میں صدر اور اُن کے حامیوں کی بیشتر عذرداریاں مسترد ہو چکی ہیں۔  کیلی فورنیا سپریم کورٹ کے سابق ایسوسی ایٹ جج جوزف گروڈن نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم کے باوجود عدلیہ کی آزادی اب بھی زندہ و جاوید ہے۔ وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ججز قانون کی پیروی کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جسٹس بباس نے صدر ٹرمپ کے عذرداری کو میرٹ پر پورا نہ اترنے پر خارج کیا۔