بین الافغان مذاکرات میں پیش رفت

  • جمعرات 03 / دسمبر / 2020
  • 5570

طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان بین الافغان مذاکرات کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دینے کے معاہدے کو امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے سراہا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ فریقین اہم معاملات کی جانب بڑھیں گے جس میں جنگ بندی پر بات چیت بھی شامل ہے۔ افغانستان میں جاری 19 سالہ طویل جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ فریقین کسی معاہدے پر تحریری شکل میں متفق ہوئے ہیں۔ تین ماہ کے مذاکرات کے بعد بدھ کو فریقین آئندہ ہونے والے مذاکرات کے طریقۂ کار پر راضی ہوئے ہیں جس میں وہ بین الافغان امن مذاکرات کے لیے ایجنڈا ترتیب دیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت فریقین کی جانب سے لچک کا مظاہرہ دکھانے کے بعد ہی سامنے آئی ہے۔ افغانستان کے قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ترجمان فریدون خوزون نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت کو خوش آمدید کہتے ہیں اور یہ پیش رفت افغان عوام کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ فریقین جلد بین الافغان امن مذاکرات میں کسی نتیجے پر پہنچ کر افغانستان کی سر زمین سے جنگ کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اُن کے مطابق جوں جوں مذاکرات آگے بڑھتے ہیں افغان عوام کی توقعات میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے اور وہ ان تمام دوست ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس پیش رفت میں افغانستان کی مدد کی۔

فریدون خوزون کہتے ہیں فریقین بین الافغان امن مذاکرات کے لیے ترتیب دینے والے ایجنڈے میں مکمل آزاد ہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیامِ امن کے حصول کے لیے جنگ بندی بہت ضروری ہے۔ دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے حالیہ پیش رفت سے متعلق اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امن مذاکرات میں شامل ٹیموں کی موجودہ بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ پائیدار امن کے حصول کے لیے افغانوں میں باہمی رضا مندی پائی جاتی ہے اور فریقین افغانستان میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔