بھارت کے خلاف پاکستانی شواہد کو دنیا سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے: آئی ایس پی آر
- جمعرات 03 / دسمبر / 2020
- 4330
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی ریاستی دہشت گردی سے متعلق پیش کیے گئے شواہد کو عالمی برادری بہت سنجیدگی دیکھ رہی ہے۔
ایک انگریزی نیوز ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کو جب بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیٖثیت واپس لی گئی تو اس کے بعد سے پریس میں بھارت کو بہت منفی ردعمل ملا۔ اس مسئلے کو پاکستانی حکومت نے مختلف عالمی فورمز پر اٹھایا۔ تاہم جب یہ ڈوزیئر آیا تو ساری سچائی دنیا کے سامنے آگئی۔ اس میں بھارتی معاونت سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کے تمام ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ بھارتی کوششوں کے باوجود عالمی برادری کی جانب سے اس ڈوزیئر کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا اور وہ اس پر بات کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے عالمی سطح پر اس ڈوزیئر کے مواد پر کی جانے والی بحث اہم پیش رفت ہے اور ہم اسے آگے لے کر جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ڈویزیئر کے پیش کیے جانے کے بعد اسے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھی پیش کیا گیا۔ ہم اسے ہر ممکنہ فورم پر لے کر جائیں گے اور اس سلسلے میں بہت سی کوششیں کی گئی ہیں۔
سی پیک سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک خطے کے لیے گیم چینجر ہے اور یہ پورے خطے کو جوڑنے کی پیشکش کرتا ہے۔ اس سے پاکستان پورے خطے کے لیے رابطے کا مرکز ہوگا۔ اس منصوبے میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اس خطے میں خوشحالی لائے گا۔ پاکستان کے لیے یہ بنیادی طور پر ایک اقتصادی منصوبہ ہے۔ اسی لئے اس کا نام چین پاکستان اقتصادی راہداری ہے۔
سی پیک کو بھارت سے لاحق خطرات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمیں سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور ہمارے اطراف بہت زیادہ دہشت گردانہ سرگرمیاں ہورہی ہیں۔ اس منصوبے اور اس کے مختلف مراحل کے اطراف سیکیورٹی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ بھارت منصوبہ میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے کہ بھارت خطے کی خوشحالی کے خلاف ہے اور وہ اس وجہ سے سی پیک کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ بابر افتخار کا کہنا تھا کہ کیونکہ وہ اس منصوبے میں پیش رفت کے خواہاں نہیں ہیں تو اس وجہ سے وہ یہ سب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بابر افتخار کا کہنا تھا کہ سی پیک کو محفوظ بنانے کے لیے ہم نے سیکیورٹی کے لیے 2 ڈویژن بنائے ہیں۔
اس کے علاوہ جن علاقوں سے یہ منصوبہ گزر رہا ہے وہاں 8 سے 9 رجمنٹس کو تعینات کیا ہوا ہے۔ پیراملٹری دستے بھی تعینات ہیں۔ ہم اس منصوبے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ ہمارے چینی شراکت دار بھی سیکیورٹی اقدامات سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جب سی پیک کو ہدف بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اصل میں یہ پاکستان کی بین الاقوامی تصویر کو ہدف بناتے ہیں۔ اس منصوبے پر حملے کے لیے جو دہشت گرد استعمال ہورہے وہ مسلسل اس منصوبے میں شامل چینی افرادی قوت کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگریزی اور عزائم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کے اندر کیا ہورہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کررہا ہے اور اس سسلے میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں جو شدت آرہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
بابر افتخار کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی مقامی سیاسی قیادت بھی یہ کہہ چکی ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو وہ دنیا کا سب سے زیادہ عسکری علاقہ کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزی سے کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاک فوج سے متعلق غلط معلومات اور جعلی خبروں، خاص طور پر حالیہ دنوں کراچی میں خانہ جنگی سے متعلق ٹوئٹر ٹرینڈ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ سوشل میڈیا پر جو کچھ ہوتا ہے اس سے نمٹنے کا بہتر حل شفافیت ہے۔ معتبر معلومات کو آگے پہنچائیں اور ہم یہی کوشش کر رہے ہیں۔