دنیا کو کورونا کے نقصان کے ازالے میں کئی برس لگ جائیں گے: اقوامِ متحدہ
- جمعہ 04 / دسمبر / 2020
- 7170
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہونے والا نقصان صرف ویکسین کے آنے سے ختم نہیں ہو گا بلکہ اس میں کئی برس یا شاید عشرے لگ جائیں گے۔
جمعرات کو کورونا وائرس پر عالمی ردِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی وبا سے پیدا ہونے والا نقصان بہت بڑا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جنرل اسمبلی کی دو روزہ ویڈیو سمٹ سے 80 کے قریب ممالک کے سربراہ خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ سائنس دان، ماہرین، اقوامِ متحدہ کی متعدد ایجنسیوں کے سربراہ اور عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل بھی خطاب کریں گے۔
اقوامِ متحدہ نے جمعرات کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں برس کورونا وائرس سے اب تک تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد شدید غربت کی جانب چلے گئے ہیں۔ اس کے ازالے کے لئے اقوام متحدہ نے لاکھوں لوگوں تک امداد پہنچائی ہے۔ انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر کی پیداوار کے 10 فی صد پر مبنی امدادی فنڈ مقرر کیا جائے جس سے متاثرہ ملکوں کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث قرضوں کے بوجھ تلے ملکوں کو بھی ریلیف کی ضرورت ہے۔
کورونا وائرس کی پہلی منظور شدہ ویکسین کی ترسیل آئندہ ماہ متوقع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے تمام ملکوں میں ویکسین کی منصفانہ ترسیل پر بھی زور دیا ہے۔ رواں برس اپریل میں عالمی ادار صحت کی جانب ویکسین کے ٹیسٹ، علاج اور ویکسین کی منصفانہ ترسیل کے لیے کوویکس کے نام سے نیا ادارہ بنانے کا کام شروع کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق اس منصوبے کو فوری طور پر 28 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے صدر چارلس مائیکل نے کہا کہ دنیا کوو وبا کے معاملے پر ایک عالمی معاہدہ کرنا چاہیے جس سے کسی بھی وبا کے ردِعمل کو بہتر بنایا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا مقصد پہلے سے بہتر ردِعمل ظاہر کرنا ہے۔ اور ان جگہوں پر بہتری لانا ہے جہاں باہمی تعاون کے ذریعے کام کی ضرورت ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 15 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ساڑھے چھ کروڑ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔