سویلین بالادستی کا خوا ب

سویلین بالا دستی کا خواب تو اچھا ہے مگر یہ کب حقیقت بنے گا یہ کہنا عبث ہے۔ کیونکہ اس مقصد کے لئے نعرہ زن ہونے والے ہمیشہ اس خواب کی تعبیر کے راستے کا پتھر بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔

پی ڈی ایم کے ملتان والے جلسے کو جو لوگ ہولا لے رہے ہیں ان کی آنکھوں پر تعصب کی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ ہاں مگر اتنے بڑے اژدہام کو کیا پیغام دیا گیا ؟ اس پربات ہونا ضروری ہے جو سب کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ کیا پی پی پی کے لئے آصفہ زرداری کی رونمائی بڑا مقصد تھا؟ کیا مریم نواز کے پاس باپ بچاؤ بیانئے کے سوا کوئی موضوع نہیں اور سابق وزیرعظم کے لئے اپنے خاندان پر کی جانے والی بربریت پر سخن آفرینی کے سوا اور تھا ہی کیا۔ رہے مولانا ان کا تو ایک ہی غم وہ اسی پر ماتم کناں رہتے ہیں ۔ عام آدمی کے دکھوں کے ساتھ کسے واسطہ ہے ؟

سیاست کسی بے رحم شے کا نام تھا تو نہیں مگر بے رحم بن کر رہ گئی ہے ۔ یہ جن لوگوں کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے وہ سیاستدان نہیں جلاد ہیں جو موت کے ہتھیار لئے نگر نگر گھوم رہے ہیں ۔ وہ حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں ، انہیں اس آدمی کی کچھ خبرنہیں جو دس بیس روپے کاماسک لینے کی سکت نہیں رکھتا کہ اتنے پیسوں کی تو دو روٹیاں آجاتی ہیں جو اس کے گھر کے دو افراد نمک کے پانی میں بھگو کر شکم کی آگ بجھالیتے ہیں ۔

حکمرانوں کے علم میں ہے ہی نہیں کہ مہنگائی کتنی بڑھ گئی ہے ، بے روزگاری کا گراف کس  قدر اوپر ہو گیا ہے ۔حکومت اقتدار کی ہلتی ہوئی چولوں کو مضبوط کرنے میں مگن ہے اور اپوزیشن کو ایک ہی غم کھائے جا رہا ہے کہ حکومت کو گرانا کیسے ہے۔  محرومیوں کے شکار طبقات کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ۔ مجبوریاں لوگوں کو بچے بیچنے پر مجبور کریں یا غربت وافلاس سے بھرے پرے آگن اجڑیں ، پرسانِ حال کوئی نہیں ۔ قومی وسائل لوٹ کر فرار ہونے والوں کی اولادیں کتنی دیدہ دلیری سے ان کے بیانئے کو خوشحال پاکستان کی ضمانت ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ انہوں نے تو جمہوریت کی راہ میں جانی تو کیا کوئی مالی قربانی بھی نہیں دی اور اس کوشش میں ہیں کہ جمہوری اقدار کے پاسبان بن جائیں اور یہ جن کے خاندان کی جمہوریت کی راہ میں لہو کی قربانیاں ہیں وہ بھی عوام کش قوتوں کے بغیر جدوجہد کی راہ نہیں پا رہے۔ وہ بھی اپنے بڑوں کے فکری اور نظریاتی وارث بننے کی بجائے ان سے کھلی بغاوت پر اترے ہوئے ہیں ۔

بدترین حالات میں اپوزیشن شہروں شہروں بڑے بڑے جلسے تو کرتی پھرتی ہے ، جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرنے والوں کو اپنی قوت قرار دیتی ہے مگر اس قوت کے اصلی مسائل پر سرسری بات کرتی ہے ۔ سماجی عدل کا قیام جو فسطائیت کے خلاف عوامی تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت ہے اس کا ان کی تقاریر میں ذکر تک نہیں ہوتا۔ دولت کی امتیازی تقسیم پر کسی سیاستدان نے کوئی بھاشن کبھی نہیں دیا ، معاشرے کے وہ طبقات جنہیں توجہ کی ضرورت ہے ، ان کی طرف کسی کا دھیان نہیں۔ ستم رسیدہ لو گ حکومت یا اپوزیشن دونوں کے لئے قابل اعتنا نہیں ۔ ہرصاحبِ اختیار سماجی عمل سے گریز پا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ قومی وسائل معاشرے کے تشکیلی طبقات میں منصفانہ تقسیم کرنے کا نظام بااختیار اور حامل اقتدار قوتوں کے خواب و خیال سے بھی ماورا لگتا ہے ۔

حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں فسطائی طرز فکر کی راہ پر گامزن ہیں ۔ قومی سطح پر عوام کی بھلائی کا کوئی مصدقہ معیار یا لائحہ عمل طے ہی نہیں کیا گیا کہ جس کے حصول کی کوئی کوشش کہیں ہوتی ہوئی محسوس ہو ۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ مقاصد کی فہرست بنائے بغیر کسی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کی منزل پائی ہی نہیں جا سکتی۔ تعمیر ملت کا کوئی خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک اس اس خواب کی تعبیر کے راستے کے کانٹے چننے والے اخلاص کی دولت سے مالا مال نہ ہوں ۔

پی ڈی ایم کا ملتان سیاسی شو کامیاب رہا ، بہت ہی کامیاب مگر چند لوگوں میں کورونا بانٹ کر تمام ہوا۔ ٹکراؤکی کوئی صورت دکھائی نہیں دی۔ اس کا کریڈٹ حکومت کو قطعاً نہیں جاتا کہ اس نے آخری وقت تک ہجوم کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز نہیں کیا ۔ وہ سارے ہتھیار جو گزشتہ حکومتیں استعمال کرتی رہیں وہ سب آزمائے گئے۔ مختلف اضلاع سے منگوائی گئی پولیس فورسز کو عوام کے سامنے دیوار کے طور پر کھڑی کرنے کی بے سود کوششیں بھی رائیگاں ٹھہریں تو آ خر کو آئی جی پنجاب کے حکم پر ہی رکاوٹیں ہٹادی گئیں ۔

اس وقت حکومت پنجاب کے وزیر اعلیٰ بکل مار کر کسی کنجِ عافیت میں جاچھپے کہ کہیں ان کے خلاف بھی ماڈل ٹاؤن لاہور جیسا کوئی مقدمہ قائم ہو کر داخل دفتر نہ ہوجائے جس کی پاداش میں چند سال بعد وہ بھی مجرم ٹھہرائے جائیں ۔ آئی جی پنجاب انعام غنی قابل ستائش ہیں کہ انہوں وزیر اعلیٰ کے کسی حکم کے بغیر خود فیصلے کا بوجھ ا پنے کندھوں پر لیا۔ اور غریب سیاسی کارکنوں کے بچے تو یتیم ہونے سے بچائے ہی، اپنی فورس کے کسی اہل کار کی لاش گرانے کا موقع بھی کسی کو فراہم نہ کیا۔

اگر ایسا ہوجاتا تویقیناً حکومت مخالف قوتوں کے گھر گھی کے چراغ جلتے، حکومت گرانے کا ایک اورجواز ان کے ہاتھ آجاتا۔ سویلین بالادستی کا خواب کچھ اور دور ہوجاتا۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)