بنگلہ دیش روہنگیا پناہ گزینوں کو غیر آباد جزیرے پر منتقل کرے گا

  • ہفتہ 05 / دسمبر / 2020
  • 6210

بنگلہ دیش نے کچھ روہنگیا پناہ گزینوں کو بھاسن چار کے متنازعہ جزیرے پر بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ یہ عمل روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی بحریہ اور فوج کی سات کشتیاں کاکس بازار کے پناہ گزیں کیمپ سے 1600 روہنگیا پناہ گزینوں کو لے کر جمعے کی سہ پہر بھاسن چار پہنچیں۔ دیگر دو کشتیوں میں خوراک اور پناہ گزینوں کی ضرورت کا سامان  تھا۔ ایک حکومتی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کئی ہزار مزید پناہ گزین آئندہ کچھ دنوں میں بھاسن چار پہنچا دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم اس مرحلے میں 2500 پناہ گزینوں کو بھاسن چار پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں کئی ہزار پناہ گزین بھاسن چار منتقل ہو جائیں گے۔ وزیر خارجہ اے کے عبدل مومن نے جمعرات کو کہا تھا کہ کسی بھی پناہ گزین کو بھاسن چار منتقل ہونے کے لئے مجبور نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف انہی پناہ گزینوں کو بھاسن چار منتقل کیا جا رہا ہے جو اس پر آمادہ ہیں۔  کاکس بازار کے کیمپ میں پناہ گزینوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس سے وہاں انہیں کئی مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ بھاسن چار میں ان کی زندگی زیادہ بہتر ہو گی۔

انسانی حقوق کے متعدد گروپوں نے بنگلہ دیش پر زور دیا تھا کہ وہ پناہ گزینوں کو بھاسن چار منتقل کرنے کا عمل روک دے اور غیر جانبدار ماہرین کو اس جزیرے کے معائنے کی اجازت دے تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا یہ جزیرہ پناہ گزینوں کے قیام کے لیے مناسب ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا طویل عرصے سے موقف رہا ہے کہ خلیج بنگال میں واقع یہ جزیرہ قدرتی آفات کے حوالے سے غیر محفوظ ہے اور انسانی آبادکاری کے لیے مناسب نہیں ہے۔

فورٹی فائی رائٹس نامی ادارے کے ریجنل ڈائریکٹر اسماعیل وولف کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو پناہ گزینوں کی منتقلی کا یہ جلدبازی والا عمل روک دینا چاہیے۔ اس وقت تک ایک بھی پناہ گزیں کو وہاں منتقل نہ کیا جائے، جب تک انسانی حقوق سے متعلق تمام تحفظات دور نہیں ہو جاتے اور اس ضمن میں مہاجرین کی حقیقی رضامندی حاصل نہیں ہو جاتی۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت روہنگیا پناہ گزینوں کو بھاسن چار منتقل کر کے اقوام متحدہ کے ساتھ کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ان کے بقول اگر حکومت اس جزیرے پر انسانی زندگی کے لیے صحیح معنوں میں پر اعتماد ہوتی تو وہ اقوام متحدہ کی جانب سے تکنیکی جائزے میں رکاوٹ پیدا نہ کرتی۔

روہنگیا کمیونٹی کے ایک راہنما نور حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بعض مہاجرین رضاکارانہ طور پر اس جزیرے میں منتقل ہو رہے ہیں۔