بھارت کےکسان 8 دسمبر کو ملک گیر ہڑتال کریں گے
- ہفتہ 05 / دسمبر / 2020
- 7140
بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج گزشتہ 10 دن سے جاری ہے۔ کسانوں نے دارالحکومت نئی دہلی سے متصل ریاستوں ہریانہ اور اتر پردیش (یو پی) کی سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت نے نئے زرعی قوانین واپس لے۔ اناج منڈیوں کو ختم نہ کرے اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اناج کی کم سے کم سپورٹ پرائس کو قائم رکھنے کے لیے قانون وضع کیا جائے۔ حکومت اور کسانوں کی 34 تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تین ادوار ناکام ہو چکے ہیں۔ ہفتے کو مذاکرات کے چوتھے دور سے متعلق بات چیت ہو رہی ہے۔
کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو رواں ماہ 7 دسمبر کو معروف شخصیات، دانشور، فنکار اور کھلاڑی اپنے سرکاری ایوارڈز واپس کر دیں گے۔ اور 8 دسمبر کو مکمل بھارت بند ہڑتال کی جائے گی۔ جس کے بعد پارلیمنٹ کا گھیراؤ ہو گا۔ کسان رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت بند کے دوران پورے ملک کی چنگیوں پر قبضہ کر لیں گے اور حکومت کو ٹول ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
کسان رہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں وہ دودھ، پھل، سبزی اور دوسری اشیا کا دہلی میں آنا روک دیں گے۔ خیال رہے کہ کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے اس وقت بھی ان اشیا کی دہلی آمد متاثر ہوئی ہے جب کہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ تینوں نئے زرعی قوانین کسان مخالف اور صنعت کاروں اور کارپوریٹ کمپنیوں کے مفاد میں ہیں۔
کسانوں کا ماننا ہے کہ ان قوانین سے کنٹریکٹ فارمنگ کا دور شروع ہو جائے گا۔ جو کسانوں کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ زرعی شعبے پر کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور انہیں اپنی فصلوں کی کم قیمت ملے گی۔ چند ایک ریاستوں میں جہاں ایم ایس پی کو ختم کیا گیا ہے۔ وہاں کے کسان بہت پریشان ہیں اور انہیں اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا۔ تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے مفاد میں ہیں اور ان کے نفاذ کے بعد کسانوں اور خریداروں کے درمیان ایجنٹوں سے کسانوں کو نجات مل جائے گی۔ کسان اپنی من پسند قیمت میں اپنی فصلیں فروخت کر سکیں گے۔
حکومت کسانوں سے یہ تحریری وعدہ کرنے کے لیے تیار ہے کہ ایم ایس پی کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ لیکن کسان قوانین کو منسوخ کرنے کے علاوہ کسی اور فارمولے پر تیار نظر نہیں آتے۔ حکومت نے رواں سال ستمبر میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود ان قوانین کو منظور کیا تھا۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ حکومت انہیں پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کرے۔ لیکن حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔
دہلی اور ہریانہ کی سرحد سنگھو کے مقام پر میلوں تک کسانوں کے ٹریکٹر کھڑے ہیں۔ انہوں نے سڑکوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی طرح دہلی اور اتر پردیش کی سرحد غازی آباد میں بھی میلوں تک کسان دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ دہلی میں داخل ہونے والے تمام پانچوں راستے کسانوں کے قبضے میں ہیں جس کی وجہ سے دہلی اور مضافات میں نقل و حمل اور ٹریفک کی روانی میں زبردست رکاوٹ آ رہی ہے۔
دوسری طرف کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کی جانب سے بھارتی کسانوں کے احتجاج کی حمایت پر بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی چپقلش دیکھنے میں آئی ہے۔ جسٹن ٹروڈو نے 30 نومبر کو سکھ مت کے بانی گرو نانک کے 551 ویں یوم پیدائش پر ایک ورچوئل میٹنگ میں سکھوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا پُر امن احتجاج کے حق کا حامی ہے۔ وہ اس حق کی ہمیشہ حمایت کرے گا۔
اس بیان پر بھارت نے سخت اعتراض کیا اور 4 دسمبر کو کینیڈا کے ہائی کمشنر کو وزراتِ خارجہ میں طلب کر کے ناراضگی ظاہر کی گئی۔ کینیڈا کے وزیرِ اعظم اور وہاں کے بعض ارکین پارلیمنٹ کے بیانات کو بھارت کے اندرونی امور میں مداخلت اور نا قابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔