نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ٹی وی پر براہ راست دکھانے کی اجازت دی جائے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر اضافی نظرثانی درخواست داخل کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے آئینی عہدے سے ہٹانے کے لیے ایف بی آر کو کنٹرول کیا گیا۔‘

انہوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ غیر واضح ہے کہ آیا وزیر اعظم عمران خان، حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ نے اپنی بیرون ملک جائیدادوں کو پاکستان میں ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا ہے یا نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی اپیل 31 صفحوں پر مشتمل ہے اور اس میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے کنڈکٹ کو بدنیتی پر مبنی اور غیر شفاف قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی اپنی ’آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے‘ اور ریفرنس دائر کرنے کا تمام عمل قانون و آئین کے خلاف تھا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسی کیس میں نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں جس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ کرے گا۔ اس کیس میں جسٹس فائز عیسی، سیرینا عیسی اور بار کونسلز نے نظرثانی دراخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ خیال رہے کہ تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ نظرثانی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا بنچ اپنا فیصلہ تبدیل کرے۔

جسٹس فائز عیسی کے مطابق ان گھر کے دروازے پر نوٹس چسپاں کیے گیے جیسے وہ کوئی اشتہاری ملزم ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس عمل سے ایف بی آر نے ان کے ڈرائیور، مالی، گارڈ، خانسامے، ججز کالونی میں ہر آنے جانے فراد کے سامنے ’ان کی توہین ہوئی۔‘  درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کیس میں آئندہ ’سماعت ٹی وی پر لائیو نشر کرنے کا حکم دیا جائے‘ کیونکہ ان کا موقف ہے کہ ’سرکاری عہدے داروں نے میرے اور اہل خانہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی ہے۔‘

درخواست میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیی آفریدی کو بنچ کا حصہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔  جسٹس فائز عیسیٰ چاہتے ہیں کہ ’19جون 2020 کے فیصلے کے پیرا گراف دو تا گیارہ پر نظر ثانی کرکے واپس لیا جائے۔‘  ان کا کہنا ہے کہ ’فیض آباد دھرنا کیس کے بعد ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے اپنی درخواستوں میں مجھے جج کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔‘ جسٹس فائز عیسی نے درخواست میں کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے کئی عہدے داروں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں۔ ’علم نہیں کہ انہوں نے پاکستان میں اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا یا نہیں۔‘

درخواست گزار جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق ایف بی آر نے ان کی اہلیہ کا موقف نہیں سنا اور یک طرفہ فیصلہ دیا جو آئین میں فیئر ٹرائل کی نفی ہے۔ ’مقدمے میں اہلیہ فریق ہی نہیں تھیں اور انہیں اس غلطی کی سزا دی گئی جو انہوں نے کی ہی نہیں تھی۔‘  ’18 اپریل کو نوشین جاوید کو ایف بی آر چیئرمین تعینات کیا گیا۔ 19 جون کو مختصر فیصلہ آیا اور 4 جولائی کو انہیں تبدیل کر کے پاکستان کسٹمز کے جاوید غنی کو ایف بی آر کے چیئرمین کا اضافہ چارج دے دیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس دن ان کی تبدیلی کے احکامات جاری ہوئے اس دن ہفتہ وار تعطیل تھی۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایف بی آر کے ایک اہلکار جہانزیب خان کو شہزاد اکبر نے اس لیے تبدیل کیا کہ انہوں نے درخواست گزار اور ان کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ دینے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ’(وزیر قانون) فروغ نسیم اور (وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب) شہزاد اکبر ایف بی آر کو کنٹرول کر رہے ہیں جس کا مقصد انہیں اپنے آئینی عہدے سے ہٹانا ہے۔

’آئین کا آرٹیکل 184 تھری سپریم کورٹ کو بااختیار بناتا ہے، تاہم درخواست گزار کی بیوی کو اس حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔‘ وہ لکھتے ہیں کہ ’ایف بی آر کے چیئرمین اسی وقت سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنی رپورٹ پیش کر سکتے ہیں جب سپریم جوڈیشل کونسل انہیں ایسا کرنے کا حکم دے۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ ’ایف بی آر کی رپورٹ سے میں اور میری اہلیہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایف بی آر کی رپورٹ نہ مجھے اور نہ میری اہلیہ کو فراہم کی گئی۔‘

’ایف بی آر کی رپورٹ بھی صدارتی ریفرنس کی مانند میرے اور میری اہلیہ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کے لیے میڈیا کو لیک کی گئی۔‘

پٹیشن میں جسٹس فائز عیسی لکھتے ہیں کہ ایف بی آر کے ٹیکس کمشنر ذولفقار احمد، جو ان کی اہلیہ سرینہ عیسی سے تحقیقات کر رہے تھے، وہی شخص تھے جنہوں نے ریفرنس دائر ہونے سے قبل بغیر قانونی اجازت ٹیکس ریکارڈ کی تحقیقات کی لہذا 'نئی تحقیقات کے لیے بھی ان کا انتخاب بدنیتی پر مبنی تھا۔' 'وزیر قانون فروغ نسیم اور (معاون خصوصی برائے احتساب) شہزاد اکبر نے ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طور پر حاصل کیا اور ایف بی آر کو میرے خلاف رائے دینے پر مجبور کیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے سرینا عیسیٰ کی رپورٹ فراہم کرنے سے انکار کیا لیکن رپورٹ میڈیا کو لیک کر دی گئی۔'

جسٹس فائز عیسی کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف صدارتی ریفرنس میں جتنی بھی سماعتیں ہوئیں انہیں اس کا حصہ نہیں بنایا گیا جبکہ ’صرف اُس وقت کے اٹارنی جنرل کو سن کر انہیں جواب طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا۔‘  ان کا کہنا ہے کہ ’ریفرنس کی کاپی سے متعلق اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے درخواست کی کہ کاپی فراہم کی جائے تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے سپریم کورٹ کی عمارت کے لان میں ان کے ساتھ ٹہلتے ہوئے نجی طور پر رازداری سے ریفرنس کے بارے میں بتانے کا مقصد ’مجھ سے استعفیٰ لینا تھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب کے بارے میں میری درخواست کے دوسرے حصے کی سماعت ہی نہیں کی۔‘ اس درخواست میں ان کا موقف ہے کہ 19 جون کے فیصلہ سے عدلیہ کی آزادی کو ایگزیکٹو کے ہاتھ میں دے دیا گیا جو کہ ’آئین کے خلاف ہے۔‘

ان کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس کی کاپی انہیں سپریم جوڈیشل کونسل نے فراہم نہیں کی جبکہ اسے بھی 'لیک کیا گیا۔' یاد رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں صدارتی ریفرنس پر سماعتوں کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ جاری کیا تھا۔ دس رکنی بینچ میں سے سات ججز نے یہ معاملہ ایف بی ار کو بھیجنے پر اتفاق کیا تھا جبکہ دو ججز نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ ایک جج نے جسٹس فائز عیسی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

پہلے نظر ثانی کی درخواست مختصر فیصلے کے بارے میں تھی لیکن  تفصیلی فیصلے کے بعد مزید گراؤنڈز پر اضافی نظرثانی کی درخواست داخل کی گئی ہے۔  صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت سے قبل جسٹس فائز عیسی کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے کنڈکٹ پر بھی بات کریں گے لیکن سماعت کے دوران اس بارے میں انہوں نے دلائل نہیں دیے تھے۔ سماعتوں کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل کے کنڈکٹ پر جسٹس فائز عیسی کے وکلا نے دلائل دیے نہ عدالت نے اس بارے میں ان سے دلائل مانگے تھے۔