نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا؟

حقیقت پسندی یا حقائق نگاری کتنی اعلیٰ چیز ہے، بارہا من چاہتا ہے کہ اس کو پوری طرح اپنا لیا جائے لیکن کیا کریں مجبوری ہے کہ سچ بھی اتنا ہی بولا جا سکتا ہے جتنا ہضم ہو جائے۔ بصورت دیگر آپ کو کارنر کر دیا جائے گا یا غائب۔

اگر کسی کا ایجنڈا یہ ہو کہ وہ اپنی سوسائٹی کو اپنے آدرشوں یا اعلیٰ وچاروں کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے تو یہ تبھی ممکن ہے جب وہ کسی نہ کسی صورت سٹیج پرموجود رہے۔ ورنہ فارغ ہو جانا یا رتبہ شہادت پر فائز ہو جانا کون سا مشکل عمل ہے۔ کسی دن سہواً بھی بے اعتدالی سے سوفیصد سچ بول دو تو یہ رتبہ جلیلہ آپ کے قدموں میں ہو گا۔ درویش نے ہیومن ہسٹری یا اسلامی تاریخ کا جتنا بھی مطالعہ کیا ہے۔ اسے جہاں اپنی محبوب شخصیات کے قتل یا شہادتوں کا ہمیشہ صدمہ رہا ہے وہیں وہ یہ غور کرتا رہا ہے کہ وہ کامل سچائی سے تھوڑا انحراف کر لیتے کچھ مصلحت یامصالحت سے کام  لیتے اگر آپ پر ایک راہ بند کی جا رہی ہے تو آپ فوری متبادل راہ تلاشیں یا تراشیں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ:

مصیبت کا پہاڑ آخر اک دن کٹ ہی جائے گا

مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

بلاشبہ زندگی میں چند مراحل ایسے بھی آ سکتے ہیں جہاں پیچھے مڑنا یا بزدلی دکھانا آپ کے مشن یا بڑے آدرشوں کو برباد کر سکتا ہے ایسے مواقع پر انسان یہی کہہ سکتا ہے کہ ’’یہ بازی عشق کی بازی ہے‘‘۔ یا یہ کہ ’’جان تو آنی جانی ہے‘‘۔ چند برس مزید جی کر اگر انسان اپنے اعلیٰ وچاروں کو بے توقیر کر بیٹھے تو پھر وہ تاریخ میں مر گیا تو یہ اس شخص کی موت نہ ہوئی، اس کے مشن کی موت ہوئی۔ ایسی صورت میں وقار کے ساتھ یہ کہتے ہوئے پھندے یا گولی کو چوم لینا بھی عشق کی شان ہے: ’’جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی۔۔۔‘‘

اس نظریہ عشق کے باوجود اپنی نئی نسلوں کے نام درویش کا یہ پیغام ہے کہ شہادتوں کا شوق کبھی مت پالئے۔ آزمائشوں یا امتحانوں سے بڑی ہستیوں نے بھی پناہ مانگی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گلے پڑا ڈھول بجانا پڑتا ہے لیکن آپ ہمیشہ زندگی سے پیار کیجیے زندہ رہنے کی تراکیب سوچیے حکم دیا گیا ہے کہ ’’خود کو ہلاکت میں مت ڈالو‘‘۔ خود کشی کیوں لعنت قرار پائی ہے اس لئے کہ زندگی سے محبت کرنے والے کبھی اس طرح کی منفی اپروچ کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے وہ ہمیشہ یہی گنگناتے ہیں۔ اے دل! تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا۔۔۔۔ جو تیرے ہو چکے ہیں تو ان کو پکارنا۔۔۔ نہ منہ چھپا کے جیو اور نہ سرجھکا کے جیو، غموں کا دور بھی آئے تو مسکرا کے جیو۔

ہمارے ایسے دوست بھی ہیں جو ہرپل یہ گاتے رہتے ہیں کہ ’’زندگی بے وفا ہے ایک دن ٹھکرائے گی/ موت محبوبہ ہے اپنے پاس لے کر جائے گی‘‘۔ دوسرے لفظوں میں موت دکھوں سے چھٹکارا دلانے والی چیز ہے اور ہمارے صوفیا تو ہمیشہ سے موت کو خوش آمدید کہتے ہوئے وصال کے معنوں میں لیتے رہے ہیں۔ یعنی اس کی برکت سے وہ اپنے محبوب سے شرف ملاقات کرتے ہیں، شاید اسی لیے شب عروسی کی طرح ہر سال ان کی موت کا جشن یعنی عرس منایاجاتا ہے۔ لیکن ہمارا ماڈریٹ فرقہ تصوف شاہکار الٰہی یعنی انسانیت سے اس قدر عشق و محبت رکھتا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، اس لئے وہ زندگی سے بھرپور پیار کرتے ہیں کہ وہ اپنے پیارے عزیزوں اور دوستوں کی طرح اپنے محبوب آدرشوں کے پھیلائو سے جدائی یا ہجر نہیں چاہتے۔

 ان کی نظروں میں موت ایک وحشت ہے، ایک ڈائن ہے جو اپنوں کے محبت بھرے لمس یا محفل خوباں سے چھین کر اندھیری کال کوٹھڑی میں لے جاتی ہے۔ اسی ا لجھن اور کشمکش میں ایک دن بابا جی اشفاق احمد سے کہا: ’بابا جی لوگ کہتے ہیں مومن کبھی موت سے نہیں ڈرتا لیکن سچ تو یہ ہے کہ بندہ باوجود تمامتر درویشی کے اس ڈائن سے ڈرتاہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ یہ مومن نہیں ہے۔ اس حوالے سے آپ کی جینوئن کیفیات معلوم کرنا مطلوب ہیں‘۔ بابا جی بولے ’کہنے والے جو مرضی کہتے رہیں لیکن ریحان میاں بات آپ کی سچ ہے میں جتنا بھی صوفی ہوں جو بھی ہوں، پوری سچائی یہی ہے کہ اندر سے چاہتا میں بھی ہوں کہ یہ ڈائن ذرا دور ہی رہے، ذرا ہٹ کے رہے‘۔

ناچیز کو جس طرح اپنے عزیزوں کے کھو جانے کا دکھ بچپن سے لے کر اب تک ہر پل رہا ہے اور زندگی ان کی یادوں میں آنسو بہاتے گزری ہے، اسی طرح تاریخی حوالوں سے اپنی محبوب ہستیوں کی شہادتوں یا بے وقت قتل کا صدمہ بھی ہمیشہ رہا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا جہاں سے انسانی غلامی کا بالفعل خاتمہ کرنے والی عظیم الشان ہستی اولوالعزم امریکی صدر ابراہم لنکن کو جس بے دردی سے قتل کیاگیا، بارہا غور کیا کہ کاش اس رات وہ تھیٹر دیکھنے یا ان کی حوصلہ افزائی کرنے نہ جاتے۔ لیکن ماحول جیسا بن چکا تھا جس نوع کی دھمکیاں آ رہی تھیں، یہ نہ ہوتا تو کوئی اور سانحہ یا وقوعہ ہو جاتا۔ شاید ہونی نے ہو کر ہی رہنا تھا۔ جس نوع کی خانہ جنگی ہورہی تھی کیا وہ ملکی و قومی سلامتی پر سمجھوتہ کر لیتے؟ اور کیوں کر لیتے؟ کیا وہ اپنے آدرشوں کو چھوڑ دیتے اور کیوں چھوڑ دیتے؟

ناچیز مہاتما گاندھی کے متعلق سوچتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی حمایت میں اس قدر آگے تک نہ چلے جاتے وہ اپنی ہندو میجارٹی کے شدت پسندوں کو اپنے سے اس قدر نالاں و ناراض نہ کرتے، سچائی بڑی اچھی چیز ہے مگر سو فیصد سچائی خطرناک ہوتی ہے۔ جیسس 33 سالہ زندگی میں بارہا یہ کہتا بھی رہا لیکن نہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ سچائی میں بہت آگے تک چلا گیا،کیوں چلا گیا؟ اپنے آدرشوں کی خاطر کچھ تو سوچتا۔ خاکسار کے دو ہیروز پرعزم انسان یا انسانیت کا فخر وزیراعظم اضحاق رابن اور صدر انور سادات تو ابھی کل کی بات ہیں جو حق و صداقت اور امن و سلامتی کے سفر میں اس قدر آگے بڑھے کہ گاندھی جی کی طرح اپنی ہی اقوام کی متشدد سوچ (گولیوں) کا نشانہ بن گئے۔ انہیں کوئی بیچ کی راہ نکالنی چاہیے تھی۔ پھر سوچتا ہوں کہ کیسے نکالتے؟ کیا سچائی کے مقدس مشن کو چھوڑ دیتے؟

کچھ ایسی ہی کیفیات شریمتی اندرا گاندھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے ہیں۔ ہر دو عظیم شخصیات اپنے قومی مقاصد یااعلیٰ آدرشوں پر قربان ہوگئیں۔ لیکن خاکسار کا خیال ہے کہ دونوں کو اپنی سکیورٹی اور وچاروں کے حوالے سے احتیاط کرنی چاہیے تھی جس میں دونوں نے کافی حد تک لاپرواہی سے کام لیا اور خوامخواه دہشت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

ایک دن درویش کی ایک ممتاز صحافی دوست کے ساتھ دو وزرائے اعظم بھٹو اور نواز شریف کے حوالے سے بحث ہوئی جو ایک کے جوش و جنوں کو بہادری اور دوسرے کے ہوش و خردمندی کو بزدلی گردان رہے تھے۔ عرض کی جس طرح جوش اور حماقت میں زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا، اسی طرح آپ دانشمندی کو بزدلی کا نام دے سکتے ہیں لیکن سچائی کے ساتھ حکمت و تدبر یہی ہے کہ انسان اپنے آدرشوں کی خاطر اور اپنے پیاروں کی خاطر موت پر زندگی کو ترجیح دے۔ شہادت حاصل کرنا ذرا مشکل کام نہیں ہے انسان کو معمولی غلطی پر آؤٹ ہوتے دیر نہیں لگتی لیکن حکمت عملی کے ساتھ کریز پر رہیں گے تو قوم کے لیے سکور کر سکیں گے یہ مشکل اور صبر آزما اننگز کہلاتی ہے:

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب