گلزارِوفا
- تحریر
- ہفتہ 05 / دسمبر / 2020
- 8660
’میں اتنی آسانی سے آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ آپ کو ہر صورت آنا ہوگا، یہ میرا نہیں چوہدری رحمت علی کا فنکشن ہے، ان کے یوم پیدائش پر اسکول کے بچوں نے اتنا عمدہ پروگرام ترتیب دے رکھا ہے۔ آپ ایسے مہمان اگر شریک نہیں ہوں گے تو بچوں کو کو پیغام جائے گا‘۔ فون پہ دوسری طرف اس بزرگانہ تاکید اور اصرار کے بعد ہمارے پاس حامی بھرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا۔
یہ بزرگ دوست چوہدری گلزار محمدتھے جو چوہدری رحمت علی مرحوم کے عاشق تھے، عمر بھر اسی مشن کے ساتھ جئے کہ ان کے کام اور تاریخ میں ان کے جائزمقام سے عوام کو روشناس کرایا جائے۔ چوہدری رحمت علی پاکستان کی تاریخ کے ان چند کرداروں میں شامل ہیں جنہیں تاریخ میں ان کا جائز اور صحیح مقام نہ مل سکا۔ لفظ پاکستان کے خالق تھے اور تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے یہی ان کی پہچان ا ور کارنامہ ٹھہرا۔ مگر کسی بھی بڑے تاریخی کام کے سرزد ہونے کی مانند لفظ پاکستان یونہی اتفاقاٌ ان کے ذہن میں اچانک دھم سے وارد نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے ایک عرصہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت، ان کے پرشکوہ ماضی اور ممکنہ پر آشوب مستقبل کے بارے میں اپنے زمانے کے حساس لوگوں کی مانند طویل غور وخوض کیا۔ وہ بہت جلد اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کے لئے ہندوستان سے الگ مسلم اکثریتی ریاستوں کے حصول کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ سوچ اور عملی جدوجہدان کی زندگی کا مقصد ٹھہری اور یوں انہوں نے 1933 کے لگ بھگ اپنا تاریخی پمفلٹ’اب یا کبھی نہیں‘ لکھا۔
اس سوچ اور عملی جدو جہد کی منہاج لفظ پاکستان کی تخلیق تھی، اس لفظ کا انہوں نے تواتر سے اپنی تحریروں، خطوط اور لٹر یچر میں استعمال کیا۔1940 میں لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخ ساز اجلاس میں پیش کی گئی۔ قراردادِ لاہور میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے حصول کا خاکہ تو تھا مگر اس کے لئے تب تک کوئی نام تجویز نہیں کیا گیا تھا۔ اس وقت کے ہندو اور انگریز حمایتی پریس نے اگلے روز اس قرار داد کا ذکر لفظ پاکستان کے ساتھ شہ سرخیوں میں کیا تو یہ نام ایسا زباں زدِ عام ہوا کہ دوست دشمن سب کی زبان پر جاری ہوگیا۔ مسلم لیگ نے بعد ازاں اس نام کی پریس اور عوام میں بے مثل مقبولیت کے سبب استعمال کرنا شروع کیا۔
تحریک پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہوئی مگر اس تحریک میں دامے درمے بلکہ جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے بہت سے کارکن اور لیڈرز بعد ازاں نظر انداز کر دئے گئے یا پھر محض ایک یاد بن کر رہ گئے۔ بالخصوص ہندوستان میں رہ جانے والے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے باعث تحریک پاکستان کے صفِ اول کے بیشتر بنگالی رہنما تاریخ میں دھیرے دھیرے فراموش کر دئے گئے۔ چوہدری رحمت علی لفظ پاکستان کے خالق ہونے کی وجہ سے تاریخ کے حافظے سے نکالے تو نہ جاسکے مگر ان کو متنازع بنانے کے کوششیں مسلسل ہوتی رہیں۔
وہ مسلم لیگ میں شامل نہ تھے بلکہ پاکستان نیشنل موومنٹ کے نام سے ایک تحریک کے بانی تھے۔پاکستان بننے کے بعد انہوں نے نئی مملکت میں حالات کو توقعات کے مطابق ڈھلتے نہ پاکر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ ان کے مخالفین نے ان تحفظات کو بنیاد بنا کر ان کو متنازع بنانے کی کوششیں کیں مگر ان کے خلوص اور لفظ پاکستان بنانے کا افتخار انہیں آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اللہ بھلا کرے معروف اور مستند تاریخ دان کے کے عزیز کا کہ انہوں نے پندرہ سال کی طویل اور عرق ریزی کے بعد ان پر ایک مبسوط کتاب لکھ کر سیاہ و سفید کو تاریخ کا ریکارڈ بنا کر ان کا مقام کو واضح کر دیا۔ کے کے عزیز کی یہ کتاب انگریزی میں تھی، اسے اردو کے عام قاری تک پہنچانے کے لئے چوہدری گلزار محمد نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر اسے اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی ٹھانی۔ معروف قانون دان اور مترجم اقبال الدین احمد نے اس کتاب کا انتہائی سلیس اورعمدہ ترجمہ کیا جسے چوہدری گلزارمحمد اور ان کے دوستوں نے چھپوا کر مفت تقسیم کیا۔ تین سال کے دوران اس کے دو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ چوہدری رحمت علی کے پمفلٹ اور ان کی کتاب ٌ پاکستان۔ پاک قوم کا آبائی وطن ٌ بھی شائع کروائیں۔
چوہدری گلزار محمد ان خاموش مگر ہر دم مصروف لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے لئے زندگی صر ف کردی۔ وہ چوہدری رحمت علی کی یاد میں قائم کئے گئے ٹرسٹ کے اصل محر ک ڈاکٹر واسطی کے ساتھ ڈاکٹرچوہدری عبدا لرشید (فاؤنٹین ہاؤس کے بانی) شامل تھے۔ اس ٹرسٹ کے تحت لاہور میں ایک ہسپتال، دو اسکولز، ایک گرلز کالج اور مسجد قائم کی گئی جس سے علاقے کے لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں۔ آخری دم تک وہ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری کے طور پر باقاعدگی سے وقت دیتے رہے۔ خرابی صحت کے باوجود انہوں نے خدمت کے مشن سے کوتاہی نہ برتی۔
پانچ سال قبل ان کے جواں سال بیٹے کے انتقال نے انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے اس غم کے بعد ٹرسٹ کو زیادہ وقت دینا شروع کردیا۔ ٹرسٹ کے ساتھ ساتھ انہوں نے چوہدری رحمت علی میموریل سوسائٹی بھی تشکیل دی جس کے تحت وہ باقاعدگی سے چوہدری رحمت علی کی برسی یا سالگرہ پر سیمینارز منعقد کرواتے۔ ٹرسٹ کے اسکولز میں چوہدری رحمت علی کی برسی یا سالگرہ پروگراموں میں معروف سماجی شخصیات کو مدعو کرتے تاکہ طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی ہو اور چوہدری رحمت علی کا نام اور کام عام کیا جاسکے۔ چوہدری رحمت علی کے جسدِ خاکی کو کیمبرج کے قبرستان سے سرکاری اعزاز کے ساتھ پاکستان لانے کی تحریک میں بھی وہ متحرک رہے مگر یہ خواب پورا نہ ہوسکا جس کا انہیں مرتے دم تک قلق رہا۔
تقریباٌ پچاسی سال کی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد گزشتہ ہفتے ان کا انتقال ہوگیا۔ عمومی اور اپنی گوجر برادری کے فلاحی کاموں میں عمر صرف کرنے والے اس خاموش مجاہد نے خدمت خلق سے وفا کو تادمِ مرگ نبھا یا۔ نفسا نفسی اور حرص کی دوڑ میں خدمت خلق اور چوہدری رحمت علی سے وفا کرنے والوں میں ایک عمدہ انسان کی کمی ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔