انوکھا سماج انوکھے لوگ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 05 / دسمبر / 2020
- 8160
بارہا ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہم دنیا کی ترقی یافتہ مہذب اقوام جیسے کیوں نہیں ہیں؟ ایک طرف ہماری خود پسندی، انا یا نام نہاد خودی کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی امامت کے حق دار صرف اور صرف ہم ہی ہیں۔
جوبائیڈن اور میکرون کو ہم سے پوچھ کر اپنی قومی یا عالمی پالیسیاں تشکیل دینی چاہیں، ان کے سماجی بندھن یا طبقاتی رویے کیسے ہونے چاہئیں؟ اس کیلئے بھی انہیں ہمارے کسی خادم حسین کو بلا کر ہدایت اور رہنمائی لینی چاہیے کیونکہ۔۔۔ دوسری طرف درون خانہ حالت یہ ہے کہ جتنا فکری و نظری انتشار اپنی تمامتر منافرتوں کے ساتھ ہماری قوم میں ہے شاید ہی کسی دوسری قوم میں ہو گا۔ دنیا کی کسی بھی مہذب قوم کے حالات ملاحظہ فرما لیں بچہ جب تھوڑا سا بڑا ہوتا پڑھنے کے لئے سکول بھیجا جاتا ہے تو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرے گا۔ آگے چل کر اس نے فارن سروس میں جانا ہے یا جو بھی مخصوص کیریئر اپنانا ہے اس کی مناسبت سے دوسری جونسی زبان وہ سیکھنی چاہتا ہے حسب ذوق یا ضرورت وہ سیکھ سکتا ہے۔ جبکہ ہماری صورتحال روز اول سے انوکھی ہے۔
ہمارا بچہ چاہے پنجابی ، سندھی، بلوچ یا پختون ہے، اس معصوم نے چھوٹی سی عمر میں جونہی سکول کا رخ کرنا ہے تو اس کی بسم اللہ اس زبان سے ہونی ہے جو اس کی مادری زبان نہیں ہے۔ پورے پاکستان کے کسی ایک صوبے کی بھی وہ ماں بولی نہیں ہے۔ اسے بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری قومی رابطے کی زبان ہے۔ اس کے ساتھ ہی مولوی صاحب کے پاس سپارہ پڑھنے کے لئے بھیج دیا جائے گا جو یہ بتائے گا کہ تو مسلمان بچہ ہے تیرے لیے لازم ہے کہ تو نماز اور قرآن پڑھ اور یہ سب کچھ عربی زبان میں ہے۔ لہٰذا بچے تو یسرالقرآن یا پٹی سے آ با ثا شروع کر اور عربی کی فلاں فلاں سورتیں خوب رٹا لگا کر حفظ کر اور دیکھ اگر تو صحیح قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے تو پھر پہلے عربی زبان کو سیکھ یا سمجھ۔
یہ معصوم جونہی ذرا بڑا ہوتا ہے تو دین اور قومی زبان کی عقیدتوں کے رس اس کے کانوں میں گھولنے والے کارنر ہونے لگتے ہیں زیادہ حقیقت پسند لوگ اس کے پاس آتے ہیں۔ اور یہ بتانا شروع کرتے ہیں کہ دیکھ بیٹا اگر تو نے ترقی کرنی ہے زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنا ہے ، سماجی عزت و توقیر کے ساتھ پڑھا لکھا کہلانا ہے تو تو شروع سے ہی انگلش زبان پر دسترس حاصل کر لے۔ ورنہ زندگی بھر روتا رہے گا اور نکو بن کر رہ جائے گا۔ دوسری جانب قومی زبان والے چونکہ پروپیگنڈے کے بادشاہ ہوتے ہیں اور نمک مصالحے کا استعمال بھی خوب جانتے ہیں اس لئے وہ موقع بے موقع اس معصوم کی برین واشنگ کے لئے تاڑ میں رہیں گے۔
درویش کو کسی تعلیمی ادارے میں منعقدہ قومی زبان کی کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں تقریباً تمام مقررین قومی زبان کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے گویا سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔ اور یہ کہ غلامی کی یادگار اس انگریزی زبان سے چھٹکارے کا وقت آ چکا ہے۔ اے قوم کے نونہالو! اس غلامانہ ذہنیت سے نکلو پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہوئے انگریزی کی جگہ قومی زبان کو اپنا لو۔ کچھ نوجوانوں نے اس ناچیز سے پوچھا کیا واقعی ہمیں انگریزی کی بجائے، قومی زبان کو فوقیت دینی چاہیے؟ عرض کی میرے بچو! آپ اردو ضرور پڑھیں لیکن اگر آپ نے مقابلے کا امتحان دینا ہے تو آپ لوگ یقیناً فیل ہو جائیں گے اگر آپ کو انگلش پر دسترس نہ ہو گی۔ اسی طرح اگر آپ نےمیڈیکل، انجینئرنگ یا قانون میں جانا ہے وہاں بھی تمام موٹی موٹی کتابیں انگریزی میں پڑھنی پڑیں گی۔ اس لئے آپ ان ڈرامے بازوں کے پروپیگنڈے میں بالکل نہ آئیں۔ مگر کیا کریں یہاں تو انوکھے پن کا یہ عالم ہے کہ ہمارے بابا جی نے اس زبان کی محبت میں ملک تڑوانے کی باضابطہ بنیادیں رکھ دی تھیں جس زبان کا خود انہیں ایک فقرہ بولنا یا ایک لائن پڑھنا نہیں آتی تھی۔
زبان یا مادری زبان کے مسئلے کو کچھ زیادہ ہی رگید دیا ہے۔ بات شروع ہوئی تھی کہ ہم دیگر ترقی یافتہ مہذب اقوام کے ہم پلہ کیوں نہیں ہیں؟ کہنے کو تو ہم اسلامی جمہوریہ ہیں مگر ہمارے اندر رتی بھر اسلام ہے نہ جمہوریت۔۔۔
اسلام ہے کیا؟ اسی پر اتنا زیادہ فکری و نظری انتشار ہے کہ الامان و الحفیظ۔ نعرے کی حد تک تو یہ واقعی بڑا خوبصورت ہے لیکن ذرا آگے بڑھو قتل و غارت گری اور خون خرابے کی وہ لہر اٹھے گی کہ جان کی اماں پانا مشکل ہو جائے گا۔ چلیں سارے رولے سے بچنے کے لئے ہم کہے دیتے ہیں کہ اعلیٰ اخلاقیات کا نام ہی مذہب یا دین ہے۔ اب سماجی طور پر ہم جائزہ لیں جتنا زیادہ اس کا رولا یاشور ہے، سماج میں اتنی ہی باہمی منافرت ہے، جھوٹ، فراڈ، بے ایمانی اور منافقت ہے۔ حاجی صاحب نماز پڑھنا بھولتے ہیں، نہ خالص اشیا میں ملاوٹ کرنا۔ اس ایشو پر کہنے کو ہمارے اندر ایک طوفان ہے لیکن سامنے جبر کا سانپ یا جن کھڑا ہے۔ وہ ہمیں ڈس لے گا اور پھر اس کے کاٹے کا دنیا میں کہیں کوئی تریاق نہیں۔ سب کہتے ہیں سلامتی اسی میں ہے کہ مذہب کے حوالے سے کچھ بھی مت بولایا لکھا کرو۔
رہ گئی بیچاری جمہوریت اس معصومہ کو یہاں ’طاقتوروں‘ نے اپنی لونڈی یا راکھیل بنا کر رکھا ہوا ہے جب عوامی احتجاج کا طوفان اٹھتاہے تو اسے نہلاتےدھلاتے ہوئے گھر کی مالکہ بنا کر چبوترے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ’وہی حیلے ہیں پرویزی‘ یا ایوبی۔ جس سماج میں سیاست کو گالی بنا کر پیش کیاجائے اور سیاستدانوں کو چور یا بدعنوان ثابت کرنے کے لئے باضابطہ عسکری مہمات تشکیل دی جائیں وہاں جمہوریت کیا خاک پنپے گی؟ جہاں مخصوص طاقتور محکموں کو مقدس گائے کی حیثیت حاصل ہو وہاں احتسابی نعرہ سوائے فراڈ کے اور کیا کہا جانا چاہیے۔ مگر نہیں جناب یہاں آپ کی حب الوطنی اور ملک و قوم سے غداری کاایشو کھڑا ہو جائے گا، توبہ کریں:
بھرم کھل جائے ہے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پُر پیچ وخم کاپیچ وخم نکلے
یہاں قومی بربادی کاسب سے بڑا نشان ملے گا جس کا نام ہے آزادی اظہار کا فقدان۔ یہاں دو عدد مقدسات یاطبقات ایسے ہیں جن کے متعلق زبان کھولنا جرم قابل گردن زدنی ہے۔ آج اکیسویں صدی کے گلوبل ویلیج میں گھٹن کے شکار سماج کو کس جبر کے ساتھ قائم رکھا جا رہا ہے، اس کا ادراک ہر وہ صاحب شعور کر رہا ہے جس کی جبری قوتوں سے پنجہ آزمائی ہے۔ جسے اس دلدل سے نکلنے نہیں دیا جا رہا۔ وہ ہر لمحہ افسردگی و بےبسی کے ساتھ یہ سوچتا ہے کہ آخر ہماری جمہوریت پولیو زدہ یا کورونا وائرس کی شکار کیوں بنا دی گئی ہے؟ کہنے کو یہ ماسی بھی جمہوریت ہی ہے لیکن بدترین آمریت یا مارشل لاؤں کے تمام ’اوصاف حمیدہ‘ بدرجہ اتم اس میں کیوں موجود ہیں؟
باضمیر لکھاری رو رہے ہیں کہ ایسی جبری گھٹن تو مشرف کی عسکری آمریت میں بھی نہ تھی۔ ہاتھ اٹھا کر زبانی طور پر کچھ کہیں نہ کہیں لیکن سینے کی ہوک یا جلن مناجات بن کر اٹھ رہی ہے کہ پروردگار اس گھٹن اور جبر سے اہل وطن کی جان کب چھوٹے گی؟ جنتا کو روتے اور آہیں بھرتے سات دہائیاں گزر گئیں آخر کب آئین، جمہوریت اورانسانی حقوق کی حرمت و ناموس بحال ہو گی۔ آخر کب ہم دنیا کی ترقی یافتہ و مہذب اقوام کی مانند نارمل اور پرسکون زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے۔ بظاہر ماں، ماں ہی ہوتی ہے چاہے حقیقی ہو یا سوتیلی مگر کرتوت مختلف ہوتے ہیں۔