کرسی چھوڑ دوں گا این آر او نہیں دوں گا: عمران خان

  • ہفتہ 05 / دسمبر / 2020
  • 4660

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو زیر بحث لانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان انہیں این آر او دے دے۔

نجی چینل ’ہم نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک معاشرہ چوروں اور عام لوگوں میں فرق نہیں کرے گا تب تک ترقی نہیں ہوسکتی۔ عمران خان نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا لیکن اپنی صفائی میں 9 مہینے عدالت میں صفائی دیتا رہا اور میں نے عدالت میں منی ٹریل دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر این آر او دینا ہے تو سب سے پہلے مجبوری کی حالت میں لاکھوں روپے کی چوری کرنے والے زیر حراست کمزور افراد کو دیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر وزارت عظمیٰ کی کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دوں گا لیکن این آر او نہیں دوں گا۔

عمران خان نے میڈیا پر محتاط انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا ہاؤس اور کچھ صحافی ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو بچانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور وہ عدالت میں چلے گئے اور استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم کو تقریر کا موقع دیا جائے۔ میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں نے اسے آزادی اظہار قرار دیا جبکہ عدالت نے نواز شریف کو سزا سنائی اور وہ مجرم ہیں جس کے لیے مخصوص میڈیا اپنی وفاداری ظاہر کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر جس کسی نے جلسے کے انتظامات میں حصہ لیا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ لیکن ہم اپوزیشن کو جانے سے نہیں روکیں گے۔  ہم نے بھی وبا کے باعث اپنے جلسے منسوخ کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ریپ جرائم کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ موبائل فون کے غلط استعمال سے معاشرے میں تباہی مچ گئی ہے۔  میڈیا میں بہت کم لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ میڈیا میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی لیکن لوگوں کو متبادل اور موثر نشریات دی جاسکتی ہے جس سے باعث معاشرے کی اصلاح ہو۔  

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دے دی ہے اور انہیں مرکزی دھارے میں لے آئے ہیں۔  فاٹا کے لیے فنڈز میں اضافہ کردیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں کبھی اتنا پیسہ خرچ نہیں ہوا جتنا ہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں اوپر اٹھے۔