حکومت لاہور کے جلسے سے خوف زدہ ہے: مریم نواز

  • اتوار 06 / دسمبر / 2020
  • 4980

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ حکومت لاہور کے جلسے سے خوف زدہ ہے لیکن جسلہ ہو کر رہے گا۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ جب مین نے چند برس قبل اس کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو سوشل میڈیا ونگ ایک چھوٹا گروپ تھا لیکن آج پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں ایک قدآور دخت بن چکا ہے۔ یہ سوشل میڈیا سیل اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہے بلکہ میں پاکستان میں جہاں بھی جاتی ہوں ہر جلسے اور جلوس کی پہلی صفوں میں سوشل میڈیا کے کارکن ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی موجودگی میں کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کے بیانیے کو سوشل میڈیا نے جگہ جگہ پہنچایا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔ جو ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے۔ ریاست کے کئی ستون ہوتے ہیں۔ جب نواز شریف کو ایک اقامے کی بنیاد پر حکومت سے بے دخل کیا گیا اور 2018 کے انتخابات چوری کیے گئے اور ایک نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کو ہمارے سروں پر مسلط کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک صفحے پر ہونے اور دھکے لگانے کے باوجود یہ بس چل نہیں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس آ نہیں رہی لیکن ہزاروں کا بل آرہا ہے۔ کون کہتا تھا کہ سبز پاسپورٹ کی عزت کرواؤں گا، آج مختلف ممالک میں پاکستان کی پروازوں پر پابندی عائد ہے۔ سائیکل پر چلنے والا وزیراعظم کہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں آکسیجن گیس نہ ملنے کی وجہ سے کورونا کے 7 مریض انتقال کر گئے۔ کوئی اس سے پوچھنے اور آئینہ دکھانے والا ہے کہ آپ کے بڑے بڑے دعوے کہاں گئے۔ اس حکومت نے ایک ہسپتال نہیں بنایا اور ہسپتالوں میں لکھ کر لگایا گیا ہے کہ اسڑیچر چاہیے تو 20 روپے ادا کریں۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ دعوے کرتا تھا کہ میں 90 دنوں میں کرپشن ختم کروں گا لیکن اب میں عاصم سلیم باجوہ کا نام لوں گی تو میڈیا اس کو میوٹ کردے گا۔ کل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنین پٹیشن میں کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ کی 13 کمرشل اور 5 رہائشی جائیدادیں امریکا جیسے ملک میں ہیں۔

نیب چیئرمین کہتا تھا کہ میں فیس نہیں کیس دیکھتا ہوں اب انہیں عاصم سلیم باجوہ کا فیس نظر نہیں آرہا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ یہ حکومت بڑی چالاک ہے، جس نے ایک میڈیا ہاؤس کو دوسرے میڈیا ہاؤس اور اینکرز کو آپس میں لڑا دیا۔ آج میڈیا اتنا بھی آزاد نہیں ہے کہ ایک ریٹائرڈ افسر کا نام ٹی وی پر چلا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو چینلز دباؤ کا سامنا کرنے سے انکار کرتے ہیں، ان کے سربراہان کو نیب کے سیل میں ڈالا جاتا ہے۔ جیو کے سربراہ کو بند کردیا گیا، آج کل جیو ہمارے بہت خلاف ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ ان پر اوپر سے دباؤ ہے۔ سب چینلز آج جو سبق پڑھایا جاتا ہے، یا لکھا ہوا آتا ہے اور چھوٹے سے افسر کا فون آجاتا ہے تو اس کو ماننا پڑتا ہے اور مجھے پتہ وہ مجبور ہیں۔

میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا سے بھی درخواست کرتے ہیں کب تک ہاتھ جوڑ کر مار کھاتے رہوگے۔ کب تک یہ برداشت کروگے کہ حق سچ بات کہنے کے لیے تمھارے گھروں سے دن دہاڑے تمہیں گھسیٹ کر لے جائیں اور بعد میں آپ کو کہنا پڑے کہ میں شمالی علاقے کی سیر کے لیے گیا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ میڈیا بھی کسی کا آلہ کار بنے سے انکار کردے۔ چینل اکٹھے ہوجائیں تو کون ان میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام یہ جنگ جیت چکے ہیں اور 13 دسمبر کو اعلان ہونا باقی ہے۔ پی ڈیم ایم 8 دسمبر کو بڑے فیصلے کرےگی۔ اگر اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ ہوا تو تمام منتخب اراکین اس پر عمل کریں۔ اگر کوئی رکن دباؤ میں آیا تو عوام اس کا گھیراؤ کریں گے۔