نیب کو عالمی سطح پر بلیک لسٹ کرواؤں گا: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

  • اتوار 06 / دسمبر / 2020
  • 4200

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے قومی احتساب بیورو پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے منظر عام پر لانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے میں کوشش کروں گا کہ نیب صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بلیک لسٹ ہو۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سفیر، دنیا بھر میں ہر پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی سے رابطہ کروں گا اور انہیں نیب کی انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں بتاؤں گا۔ نیب بدنام ہے، ان کے بیانیے پر لوگ ہنستے ہیں کہ ان کا بس یہی کام ہے کہ وہ ہیڈ کوارٹر میں میٹنگ کرتے ہیں اور کسی کو بھی گرفتار کو کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ جس کو مرضی گرفتار کریں لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کی عزت نہ بیوروکریسی میں ہے، نہ عدلیہ میں نہ سول سوسائٹی میں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب نے ظلم کیا ہے اس کی کسٹڈی میں لوگ مرے ہیں، لوگوں نے خود کشی تک کی ہے۔ یہ سلیم مانڈوی والا اور نیب کا  معاملہ نہیں۔ یہ معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے ایک ایک سینیٹر کا ہے۔ وہ ہر حالت میں اسے روکنا چاہتے ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ہم نیب کے اسٹاف کی تعیناتی اور ڈگری چیک کریں گے اور پہلی مرتبہ نیب کا احتساب ہوگا۔ پہلی مرتبہ سینیٹ آف پاکستان ان لوگوں کی آمدن سے زائد اثاثوں کو چیک کرے گی۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ اس طرح کا کام کرنے والے اداروں کا احتساب کیا جائے گا اور بتایا جائے گا کہ ان کے کتنے اثاثے ہیں۔ انہوں نے غوری ٹاؤن اور دیگر جگہوں پر سرمایہ کاری کی ہے، ہمیں معلوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لوگ پیغام بھیجتے ہیں کہ آپ پورے پاکستان کی عوام کے لیے جہاد کر رہے ہیں کہ انہیں نیب سے بچایا جائے۔ ہم جو اقدام کرنے جارہے ہیں یہ کسی ایک شخص کے لیے نہیں، پورے پاکستان سے ہر اس شخص کو بلایا جائے گا اور سامنے لایا جائے گا جس نے نیب کے ظلم کا سامنا کیا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اجلاس طلب کر رہے ہیں، اس میں یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔ کوشش کروں گا کہ اپوزیشن اور حکومت مل کر ایسی تحریک لائے جس سے نیب کے قانون میں ترمیم ہو اور وہ دونوں ایوانوں سے منظور ہو۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو خط لکھا ہے اور جلد آرمی چیف کو بھی خط مل جائے گا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کی پگڑی اچھالتے ہیں، سب کو ذلیل کرتے ہیں اور میڈیا ٹرائل کرتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ چیئرمین نیب کی کیا مجبوری ہے کہ وہ ان چیزوں کو روک نہیں سکتے۔ نیب کے افسران کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ ہم تمام پلی بارگین والوں کو بلائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ کس طرح انہیں پلی بارگین کے لیے مجبور کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ کون سینیٹ آف پاکستان کو نیب کا احتساب کرنے سے روکتا ہے۔ میں اب پورے پاکستان کے چیمبر آف کامرس کے صدور کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کروں گا۔ حکومت نے ریئل اسٹیٹ کو اتنا بڑا پیکج دیا مگر کراچی میں ایک پراپرٹی فروخت نہیں ہورہی کیونکہ لوگ ڈر رہے ہیں کہ نیب ان کے پیچھے پڑ جائے گی۔