کرپشن او ربدعنوانی کی سیاست اورسیاسی و سماجی شعور
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 06 / دسمبر / 2020
- 4600
کرپشن او ربدعوانی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے بھی اس بیماری کی لپیٹ میں ہیں۔ ملک میں ہمیشہ سے احتساب و شفافیت کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے ہر حکومت بڑے بڑے سیاسی دعوے کرتی ہے۔لیکن عملی طور پر ہم اس مسئلہ سے نمٹنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
یہ مسئلہ ہمارے مجموعی ریاستی، سیاسی، انتظامی نظام سے جڑ گیا ہے۔کرپشن او ربدعنوانی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی تو موجود ہے مگر ان پالیسیوں یا قوانین پر عملدرآمد میں بڑی رکاوٹ سمجھوتوں کی سیاست ہے۔خاص طو رپر حکمران یا طاقت ور طبقات نے اس مرض سے نمٹنے کی بجائے اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ نودسمبر کو قومی احتساب بیورو ملک بھر میں ’انسداد بدعنوانی دن‘ منارہا ہے۔ اس دن کا مقصد کا ملک میں مختلف لوگوں کے درمیان عملی طور پر کرپشن او ربدعنوانی کے خلاف سیاسی و سماجی شعور کی آگاہی دینا ہے۔اس وقت بڑے شہروں میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے کرپشن او ربدعنوانی کے خاتمہ کے لیے مختلف بینرز مختلف نعروں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر نعروں میں لوگوں کو ترغیب دی جارہی ہے کہ کرپشن او ربدعنوانی سے بچنا چاہیے اور یہ معاشرتی ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔اس مہم کا بڑا مقصد نوجوانوں میں یہ پیغام پہنچانا ہے کہ وہ خود کو نہ صرف کرپشن یا بدعنوانی سے دور رکھیں بلکہ ایسے لوگوں کی بھی حوصلہ شکنی کریں جو کرپشن کی سیاست کا عملی طور پر شکار ہیں۔اس مہم میں شاعری، اصلاحی ڈرامے، پینٹگز، تقریری مقابلے، پوسٹرز، وال پینٹنگ، سیمینارز، ورکشاپس کا انعقاد اور تعلیمی اداروں کو بنیاد بنانا اچھی حکمت عملی حصہ ہے۔
قومی احتساب بیورو اپنی تشہیری مہم سے اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے ساتھ شعور کی آگاہی کے مختلف پروگرامز بھی کررہا ہے۔ نئی نسل میں اس اہم او رسنجیدہ مسئلہ پر جو ایک بڑا قومی بحران کوبھی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے پر فکری آگاہی کا دیا جانا اہمیت رکھتا ہے۔نیب کا یہ نعرہ کہ وہ ’شفاف پاکستان‘ کا حامی ہے اور لوگ نیب کا ساتھ دیں۔مسئلہ محض نیب کا نہیں بلکہ یہ ایک قومی ایجنڈا ہے اور ریاست و حکومت معاشرہ کی بنیادی ذمہ داری یا ترجیحات ایک شفافیت پر مبنی پاکستان سے ہی جڑی ہونی چاہیے۔
وزیر اعظم عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کا خاتمہ تھا۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف یہی بیانیہ استعمال کرتے ہیں۔ البتہ اڑھائی برسوں میں ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کا سیاسی شور او رہنگامہ تو ہمیں بہت سننے یا دیکھنے کو مل رہا ہے۔لیکن اس کا عملی نتیجہ کافی کمزور نظر آتا ہے۔ سیاسی اور قانونی سقم او رترجیحات میں کمزوری یا ادارہ جاتی مسائل کی موجودگی میں بڑے او رطاقت ور لوگوں کے خلاف احتساب کا عمل کافی کمزور ہے۔مسئلہ محض سیاست دانوں یا حکمران طبقات تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر تمام اداروں میں ہمیں کرپشن کا پھیلاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایک زمانے میں کرپشن اور بدعنوانی کا عمل پس پردہ یا چھپ کر ہوتا تھا او راس مسئلہ کو سماجی قبولیت بھی حاصل نہیں تھی اور نہ ہی ایسے لوگوں کی کوئی پزیرائی تھی۔لوگوں میں بڑا ڈر اور خوف ہوتا تھا۔لیکن آج بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کرپشن کو نہ صرف سماجی قبولیت حاصل ہوگئی ہے بلکہ اس کے مختلف جواز بھی ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ جان بوجھ کر او راپنے مخصوص مفادات کے تحت ادارہ جاتی عمل کو کمزور رکھے گا تو کرپشن کا خاتمہ یا احتساب کا عمل بھی نہ صرف کمزور ہوگا بلکہ یہ ایجنڈا ہی کرپشن کو فروغ دے گا۔
قومی احتساب بیورو کے خلاف بھی ایک باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے او ریہ بیانیہ پھیلایا جاتا ہے کہ اس کو ختم کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی متبادل ادارہ بنانے میں بھی ہمیں سیاسی ترجیحات کا فقدان نظر آتا ہے۔ حکمران طبقہ اس ادارہ کو مضبوط اور خود مختاری دینے کی بجائے اسے اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت ہی چلانا چاہتا ہے۔ اداروں کی خود مختاری کو حکمران طبقہ اپنے لیے ایک سیاسی خطرہ سمجھتا ہے اور ان جیسے اداروں کو متنازعہ بنانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ مکمل نہیں ہوتا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری پیدا کرنی چاہیے۔لیکن جب احتساب عدم ترجیحات کا شکار ہو تو پھر اداروں پر ہونے والی تنقید سیاست کا حصہ بن جاتی ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے کرپشن او ربدعنوانی کے خلاف ایک دن کا اہتمام کرنا او رلوگوں میں اس کا شعور دینا اچھی بات مگر اس سے کیا ہم اپنے ریاستی نظام کو منصفانہ اور شفاف بنالیں گے۔ معاشرے محض تقاریر یا واعظوں سے نہیں بدلتے بلکہ اس کے لیے ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی، خود مختاری،مربوط، اور شفافیت سے ہونا چاہیے۔ تبدیلی سماجی یا سیاسی شعور سے آتی ہے وہیں تبدیلی کی بنیاد اپنے نظام میں اداروں کو کلی خودمختاری اور عدم سیاسی مداخلت ہوتی ہے۔ جب تک ہم ملک میں مربوط، منصفانہ او ربے لاگ سطح پر احتساب کے نظام کو مضبوط نہیں بنائیں گے، کچھ نہیں ہوسکے گا۔ لوگوں کو عملی طور پر احتساب کا عمل واضح اور شفا ف نظربھی آنا چاہیے۔ یہ ہی وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت ہم احتساب کی سیاسی، سماجی و قانونی ساکھ قائم کرسکیں گے۔
پاکستان کو شفافیت پر مبنی نظام کے لیے ایک مضبوط سیاسی بیانیہ ضرورت ہے۔اول حکمران اور طاقت ور طبقا ت کی جانب سے سیاسی کمٹمنٹ ہو۔ دوئم لیسیوں، قانون سازی اور احتساب کے نظام کو مربوط، خود مختاراور آزدانہ بنیادوں پر کام کرنے اور سیاسی مداخلت سے پاک رکھنا، قانونی سقم کا خاتمہ ممکن ہو۔ سوئم ادارہ جاتی نظا م میں اصلاحات اور شفافیت قائم کرنے کا ایک جامع سطح کا منصوبہ یا پروگرام، چہارم تعلیم و تربیت کے درمیان توازن قائم کرنا اور اپنے تعلیمی اور نصابی نظام میں موثرتبدیلی، پنجم نئی نسل میں شعور ، ششم کرپشن کی سماجی قبولیت کے خاتمہ کے لیے مربوط بنیادوں پر آگاہی مہم جس میں رائے عامہ تشکیل دینے والے افراداو راداروں یا سول سوسائٹی کی شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔
کرپشن او ربدعنوانی کی سیاست ایک قومی ایجنڈا ہونا چاہیے او ریہ کام کسی بھی صورت میں سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔ اس کے لیے تمام سیاسی، انتظامی، قانونی اداروں، میڈیا بالخصوص سوشل میڈیاا ورسول سوسائٹی کی سطح پر ایک مربوط حکمت عملی درکار ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب تمام فریقین ثابت کریں گے کہ وہ واقعی شفافیت پر مبنی نظام چاہتے ہیں۔