خانہ جنگی کا نظام

جی ہاں، اِسلام امن کا دین ہے لیکن ہم اس امن کے دین پر نہیں ہیں۔ ہم نے ایک اپنا متبادل دین گھڑ رکھا ہے جس میں  ہر کُفر جائز اور ہر شرک مباح ہے۔ ہر لاقانونیت روا ہے۔  ان دنوں ٹی وی چینل کی کھڑکی میں بیٹھ کر  پاکستان کے آنگن میں جھانکیں تو عجیب تماشا برپا لگتا ہے۔ 

میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک ملازمہ لڑکی  ہے جس کو گھر کے بڑے چھوٹے، مرد عورتیں مل کر مار رہے ہیں ، اُس کے بال کھینچ رہے ہیں، اُس کو کوسنے دے رہے ہیں۔ کیا مہذب معاشروں میں ایسا ہوتا ہے؟  مہذب معاشرے کو چھوڑیے یہاں تو اُس معاشرتی قافلے کی بات ہے، جو مہنگائی، کرونا وائرس اور  لاقانونیت کے موسم میں پیدل مدینے کی طرف گامزن ہے۔ کیا محمد ﷺ  کی  شریعت پر قائم معاشرت میں یہ سب زیب دیتا ہے ؟  وہ نبی جو رحمت اللعالمین ہیں، اُن کے ماننے والے اتنے، سفاک، ظالم اور بے رحم کیوں ہیں۔  کم سن گھریلو ملازموں کو بے رحمی سے مارنے کی روایت اب بہت پرانی ہو چکی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک جج صاحب بہادر کے گھر میں اُن کی ملازمہ سے اسی قسم کا سلوک ہوا  تھا، جس پر بڑا شور مچا لیکن وہ بات آئی گئی ہوگئی  اور پھر لوگ اپنی پرانی روش پر آ گئے۔ 

بچوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک  پاکستان معاشرت کا ایک تاریک پہلو ہے۔ اس پر کئی دانشور کہہ سکتے ہیں، کہ ایسا تو امریکہ میں بھی ہوتا ہے،  اگر پاکستان میں ہوتا ہے تو کوئی غیر معمولی بات نہیں۔  لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ امریکہ میں کس نبی کی شریعت چلتی ہے اور کیا امریکہ کا حوالہ  اور اُس کے نظام کا مقابلہ یا موازنہ شرعِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  سے کرنا گستاخی کی ذیل میں نہیں آتا؟ آتا ہوگا۔ ہم اب اُس دور میں تھوڑی رہتے ہیں۔ اس دور میں الف  سے اللہ نہیں الف سے امریکہ ہے۔ مدینے کی جمہوریت میں ایک بدو  خلیفہ وقت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قمیض کا حساب طلب کرسکتا تھا لیکن اس وقت کے پاکستانی اسلام میں کسی عام آدمی کہ یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی شیخ الاسلام، کسی مفتی، کسی علامہ اور کسی مولا نا تک سے یہ سوال کر سکے کہ حضور، آپ کے پاس یہ گاڑیاں، کوٹھیاں، زمینیں، پٹرول پمپ کہاں سے آئے؟ ایسا سوال اُٹھانے پر مولانا کے محافظ سوال کرنے والے کا قیمہ بنا کر  نان میں بھر کر اپنے کُتوں کو کھلا سکتے ہیں ۔

 جی ہاں ہم اتنے ہی رحم دل ہیں اور ہم نے اس رحم دلی کی روایت کو  سختی سے نافذ کر رکھا ہے ۔ کسی میں اتنی مجال کہاں کہ وہ  کسی مولوی  کو عمر ؒ سمجھ کر اُس سے حساب مانگے۔ ہمارے یہاں قارون کی سُنت پر چل کر دولت سے دنیا بھر کی تجوریاں اپنے نام سے بھر کر رکھنے کی کھلی اجازت ہے۔ ہمارے لیے دولت فضل الرحمانِ ربی ہے۔  اور  اللہ جسے چاہتا ہے  بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔  بغیر حساب کے رزق  کا تصور بھی عجیب ہے۔  کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ جسے چاہے بغیر حِساب کے رزق دیتا ہے ، حالانکہ اللہ کے ہاں تو ایک ایک چیز کا حساب ہوگا۔ صوفیا کی تفسیر کے مطابق بغیر حساب کے رزق کا مطلب یہ ہے کہ  بندے کو حسبِ ضرورت پاکیزہ رزق دیا جاتا ہے، اور اس رزق پر حساب لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہے ہی ضرورت کے مطابق۔  اور جو چیز ضرورت کے مطابق ہوتی ہے وہ  فطری تقاضوں کو پورا کرتی ہے اور  فطرت پہلے ہی سب حساب کر کے کسی کو  اُس  کا حصہ الاٹ کرتی ہے اور  اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود  سے تجاوز کرنے والے  لوگ مدینے کی ریاست کے شہری نہیں، کفر گڑھ کے  رسہ گیر اور اُٹھائی گیرے ہوتے ہیں۔ لیکن زمین پر دولت کی پوجا کرنے والے مشرک اور  کفار اسلام کے بنیادی تصور کر ملیا میٹ کرنے کے بعد اپنی  قارونیت  قائم کر دیتے ہیں جس سے  فطرت کے مقاصد کی نگرانی  کا امکان غارت ہو جاتا ہے۔ مجھے اچانک اقبال یاد آ گئے۔ کہتے ہیں:

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندہ  ء صحرائی، یا  مردِ کہستانی

پہاڑ اور صحرا فطرت کے وہ مظاہر ہیں جو اس زمین کی اویجنلٹی کے  استعارے اور اشارے ہیں۔ اس زمین پر ہم نے کلچر کے نام پر جو کچرا کُنڈیاں تعمیر کی ہیں، ان سے زمین کی شان میں گستاخی ہوئی ہے کیونکہ ان میں  سب انسانوں کو برابر کے حقوق کا  اہل نہیں سمجھا گیا۔ چنانچہ انسان کے دل میں صحرا کی وسعت اور ہمالہ کا شکوہ  نہ ہو ہو تو وہ فطرت کا بیتا نہیں ہے حالانکہ صاحبِ   اُم الکتاب کی شریعت  کہتی ہے کہ ہر بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن ہم اُسے  فطرت کی بانہوں سے جدا کر دیتے ہیں۔ بچے سے ماں کا دودھ چھین کر بوتل کا دودھ لگا دیتے ہیں جو ڈبے کا دودھ ہے۔ تب بچے ماں باپ کی فطرت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی کہتے ہیں:

طفل سے بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی

دودھ  تو ڈبّے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

لیکن اس دور میں کچھ ایسی وارداتیں رونما ہونے لگی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ انسان اب اپنی اصل  فطرت پر رہا ہی نہیں۔ جب یہ خبر نشر ہوتی ہے کہ ایک سفاک باپ نے اپنے چارکم سن  بچوں کو ہلاک کر کے دریا برد کردیا تو دل کانپ جاتا ہے کہ اگر اس عہد کے باپ اتنے سنگدل ہیں  تو پدری شفقت کہاں چلی گئی ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں اور بچیوں  کو نہر میں پھینک کر خود کُشی کر لیتی ہے۔ ایک  شخص رشتے کے تنازعے پر اپنے سگے رشتہ داروں کو خون میں نہلا دیتا ہے۔ ایک عدالت کے احاطے میں دو مخالف پارٹیاں ایک دوسرے پر آتشیں اسلحے سے حملہ کرتی ہیں  اور اپنے مخالفین کو خون میں نہلا کر عدل و انصاف کو بھی کفن پہنا دیتی ہیں۔ پھر خبر آتی ہے کہ وکلانے بار کے الیکشن میں کامیابی پر ہوائی فائرنگ کی ہے۔ ایک وکیل نے ایک خاتون جج کو عدالت میں گالیاں دی ہیں۔  کیا ساری واداتیں کسی مہذب معاشرے کی گواہی بن سکتی ہیں؟

میں نہیں جانتا، میں تو ایک عام آدمی ہوں  اور پاکستانی معاشرے میں کسی عام آدمی کی کوئی جگہ نہیں۔ وہاں تو نہلوں دہلوں اور اندھوں کے کانے راجاؤں کی  اجارہ داری ہے۔ وہاں نونیوں، انصافیوں، پیپلیوں،  جمعیت علما کے  شیوخ  اور  سکہ بند مفتیوں کا سکہ چلتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ کوئی کسی کے ساتھ نہیں۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کھڑا تو اپنے مفاد کے لیے ورنہ وہ قومی اخلاقیات کا پابند نہیں۔ یہاں جو کچھ ہورہا ہے وہ خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے۔  حکومت حزبِ اختاف سے لڑ رہی ہے، شیعہ سنی سے مزاحم ہیں، ئختمِ نبوت کے سپاہی، قادیانیوں پر بندوقیں تانے ہوئے ہیں،  مہاجر اور مقامی کے درمیان امن و آشتی کی فضا بہتر سال میں قائم نہیں ہو سکی۔  بریلوی دیو بندیوں کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں کی باہمی آویزش گھر کو میدانِ جنگ بنائے ہوئے ہے  اور بچے اس  خانہ جنگی میں پل کر جوان ہورہے ہیں اور خانہ جنگی سیکھ رہے ہیں لیکن اس باوجود ہمارا ایمان ہے کہ اسلام امن کا دین۔ جی ہاں ضرور ہے۔ کسی نے  خواجہ بہاؤالدین نقشبندی سے پوچھا کہ اسلام اور مسلمان کہاں ہیں؟ تو خواجہ ء نقشبند  علیہ رحمت نے جواب دیا کہ اسلام کتابوں میں ہے اور مسلمان قبروں میں۔ الا ماشا اللہ

اب پچھلے دو سال سے پاکستان جس سیاسی کانہ جنگی  میں مبتلا ہے وہ اس ستر سالہ فوجی اور سول آویزش کا نتیجہ ہے  جو اس ملک میں اُس  دن سے جاری ہے جس دن پاکستان کے گلے پر جسٹس منیر نے چھری چلائی تھی  اور ملک کو  بربادی کی راہ پر ڈالا تھا۔ جب  سے اب تک چار مارشل  لاؤں ور  سقوطِ ڈھاکہ کے زخم سہہ کر یہ قوم  اپنے ہوش و حواس کھو چکی ہے اور  ایک ایسی خانہ جنگی  میں مبتلا ہو چکی ہے جس کا  علاج نہ اہل نظر کے پاس  ہے اور نہ ہی  فوج کے پاس، اور اب یہ ملک کسی طورچوتھے مارشل کا  متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور یہاں وہ  رہبرِ کامل نظر نہیں آرہا  جو اِس  قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو ہچکولوں سے بچا سکے اور پار  لگا سکے:

اے خاصہ ء خاسانِ رُسل وقتِ دعا ہے

اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے