بھارت: اتر پردیش میں ’لو جہاد مخالف قانون‘ کے تحت 10 افراد گرفتار

  • سوموار 07 / دسمبر / 2020
  • 7530

بھارتی ریاست اتر پردیش میں جبری تبدیلی مذہب یا مبینہ 'لو جہاد' کے خلاف قانون وضع کیے جانے کے بعد پہلے ہفتے میں ہی ریاستی پولیس نے چھ ایف آئی آرز درج کیں اور 29 افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ پولیس نے 10 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

یہ قانون مبینہ طور پر لالچ، زبردستی یا دھوکے سے مذہب کی تبدیلی اور 'جبراً' بین المذاہب شادیوں کے واقعات روکنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت کی جانے والی کارروائی میں ضمانت بھی نہیں ہوسکتی۔ اس قانون کے تحت پہلی ایف آئی آر قانون منظور ہونے کے ایک روز بعد ہی ضلع بریلی میں درج کی گئی اور ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔  دیگر چار اضلاع سیتاپور، مراد آباد، مئو اور مظفر نگر میں بھی ایک ایک رپورٹ درج کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق اس قانون کے تحت گرفتاریاں سیتاپور، بریلی اور مراد آباد میں ہوئی ہیں۔ پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق سیتاپور میں سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جب کہ مراد آباد پولیس نے جمعے کو دو مسلم بھائیوں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک ہندو خاتون کے ساتھ ہونے والی شادی کو رجسٹر کرانے رجسٹرار آفس جا رہے تھے۔ مراد آباد میں ہونے والی گرفتاریاں خاتون کے اہلِ خانہ کی شکایت پر کی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تمام معاملات میں لڑکے مسلم اور لڑکیاں ہندو ہیں۔ حالاں کہ لڑکیوں نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ لیکن پولیس نے مذکورہ قانون کے تحت کارروائی کی ہے۔ اترپردیش مین نافذ کئے گئے اس قانون کو بی جے پی کے مسلمان دشمن ایجنڈے کا حصہ کہا جاتا ہے۔