بین الافغان مذاکرات میں پیش رفت
- سوموار 07 / دسمبر / 2020
- 4120
افغانستان میں امریکہ کے قائم مقام سفیر راس ولسن نے کہا ہے کہ طالبان یہ توقع کر رہے ہیں کہ دسمبر کے وسط تک افغان حکومت ان کے مزید سات ہزار قیدی رہا کر دے گی۔
امریکی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین مذاکرات کے ایجنڈے پر متفق ہو گئے ہیں۔ افغانستان کے مختلف ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفارت کار نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔
ان کے بقول طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ دوحہ معاہدے کے مطابق دسمبر کے وسط تک ان کے قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں پیش رفت ہو گی۔ امریکی سفارت کار نے واضح کیا کہ امریکہ، طالبان معاہدے کے مختلف حصے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ لہذٰا دیگر معاملات میں پیش رفت کے بغیر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک معاملے پر الگ سے عمل ہو۔
دوسری طرف افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی دوحہ میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر سمیت طالبان وفد سے ملاقات میں باقی ماندہ طالبان قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ہوئی ہے۔ اُن کے بقول اقوامِ متحدہ کی جانب سے بعض طالبان رہنماؤں کے نام دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے پر بھی تبادل خیال ہوا ہے۔
پیر کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایک سرکاری ترجمان نے کہا تھا کہ دوحہ مذاکرات میں کسی پیش رفت سے پہلے مزید طالبان قیدیوں کی بات کرنا قبل از وقت ہے۔