برطانیہ میں کورونا ویکسین لگانے کا آغاز ہوگیا
- منگل 08 / دسمبر / 2020
- 3840
برطانیہ میں آج پہلی بار کووڈ۔19 ویکسین لگائی گئی۔ اس طرح وبا کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کے عالمی پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے۔
پہلی خوراک آج صبح برطانیہ کے ایک ہسپتال میں دی گئی جہاں پروگرام کے ابتدائی مرحلے کو 'وی ڈے' کا نام دیا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں صرف انہی لوگوں کو ویکسین سی جائے گی جنہیں کووڈ۔19 کا زیادہ خطرہ ہے۔ طبی عملہ اس سلسلے میں خود لوگوں سے رابطہ کرے گا اور پروگرام میں توسیع تک زیادہ تر لوگوں کو اگلے سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے چیف ماہر افسر شمعون اسٹیونس نے کہا کہ ہم منگل کے دن کو کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن موڑ کی حیثیت سے دیکھیں گے۔ جن خاتون کو ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی وہ اگلے ہفتے 91 سال کی عمر کو پہنچنے والی ہیں۔ انہیں یہ خوراک یونیورسٹی ہسپتال کوونٹری میں دی گئی۔
کینن کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو باعث اعزاز سمجھتی ہیں کہ وہ پہلی شخص ہیں جنہیں کووڈ-19 کی ویکسین دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سالگرہ سے قبل دیا گیا سب سے بہترین تحفہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نئے سال پر اپنے گھر پر خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکتی ہوں۔ ابتدائی 8 لاکھ خوراکیں نرسنگ ہوم کے کارکنوں اور 80 سال سے زائد عمر کے افراد کو دی جائیں گی۔
بکنگھم پیلس نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ 94 سالہ ملکہ الزبتھ دوم اور ان کے 99 سالہ شوہر شہزادہ فلپ کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ تاکہ عوام کو یہ مثال دی جا سکے کہ یہ محفوظ ہے۔ برطانیہ کی میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر جون رائن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا مقصد مکمل طور پر آبادی کے ہر فرد کی حفاظت کرنا ہے اور یقیناً شاہی خاندان بھی اس کا حصہ ہے۔
برطانیہ نے 2 دسمبر کو امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمنی کی بایو ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کو ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی اجازت دی تھی۔ امریکا اور یورپی یونین حکام فائزر کے علاوہ کمپنی موڈرنا اورآکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
ہفتے کے روز ماسکو کے درجنوں مراکز پر ہزاروں ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر لوگوں کو روسی ویکسین لگانا شروع کی۔ اس پروگرام کو مختلف طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ روس نے گزشتہ موسم گرما میں اسپوٹنک پن کو صرف چند درجن افراد پر تجربہ کرنے کے اجازت دی تھی۔