نئے زرعی قوانین کے خلاف بھارتی کسانوں کی ’بھارت بند‘ ہڑتال

  • منگل 08 / دسمبر / 2020
  • 6300

بھارت کے کسان میں کسان زرعی شعبے میں مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی اصلاحات کی مخالفت میں ملک گیر ہڑتال کر رہے ہیں۔

ستمبر میں جب سے زراعت کے شعبے میں نئے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں۔ اس کے بعد سے کسان ان کی مخالفت کر رہے ہیں اور گذشتہ 12 دنوں سے وہ ہزاروں کی تعداد میں دارالحکومت دہلی میں داخل ہونے والے مختلف راستوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ کسانوں کی اکثریت کا تعلق شمالی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ سے ہے۔ یہ ملک کی امیر ترین زرعی برادریاں ہیں۔ ان کی مہم کو سوشل میڈیا پر انڈین پنجاب اور سمندر پار موجود انڈینز کی حمایت حاصل  ہے۔

پنجاب اور ہریانہ کو انڈیا میں خوراک کی فراہمی کے لیے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کے عمر رسیدہ کسانوں پر سخت سردی میں آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال کی تصاویر سے انہیں زبردست عوامی ہمدردی حاصل ہوئی ہے۔  حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ناکام ہونے کے بعد اس ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور نو دسمبر کو متوقع ہے۔

کسانوں کی ہڑتال کو ملک کی 24 مختلف پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے پاس کوئی مسئلہ نہیں رہا تو وہ کسانوں کے مسئلے میں کود پڑی ہے۔  حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا مؤقف ہے کہ زرعی شعبے میں زیادہ نجی کردار کی اجازت دینے والی ان اصلاحات سے کسانوں کی آمدنی متاثر نہیں ہو گی بلکہ یہ ان کی بھلائی کے لیے ہے۔  لیکن کسان ان دلائل سے متفق نہیں ہیں اور انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں بھارت کی مختلف ریاستوں سے پیدل اور ٹریکٹرز پر دارالحکومت نئی دہلی کا رخ کیا۔

کسان تنظیموں کے مطابق اب تک انہیں آٹھ دسمبر کی ہڑتال کے لیے مجموعی طور پر 24 پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔  کسانوں کے مطالبات کو درست ٹھہراتے ہوئے حزب اختلاف کی اہم پارٹی کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے علاقائی سطح پر مضبوط پارٹی ڈی ایم کے، ٹی آر ایس، ایس پی، بی ایس پی، آر جے ڈی، شیو سینا، این سی پی، اکالی دل، عام آدمی پارٹی، جے ایم ایم اور گپکر اتحاد نے ’بھارت بند‘ کی حمایت کی ہے۔

پیر کی شام میڈیا سے بات کرتے ہوئے کسان یونین (انقلابی) کے صدر درشن پال سنگھ نے کہا کہ ’ہم تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے مطالبات کی حمایت کی، انہیں جائز سمجھا۔ لیکن ہم ان سے اپیل کریں گے کہ جب وہ منگل کے روز ’بھارت بند‘ کی حمایت میں آئیں تو وہ اپنے پرچم اور بینر گھر پر ہی چھوڑ کر آئیں اور صرف کسانوں کی حمایت کریں۔‘

دریں اثنا وزارتِ داخلہ نے منگل کو ’بھارت بند‘ کے دوران تمام ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے اور تحمل برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ کووڈ 19 کے رہنما اصولوں پر عمل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

متنازع اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، قیمت اور ذخیرہ کرنے کے حوالے سے موجود قواعد کو نرم کریں گے۔ کسان ان قواعد کی وجہ سے دہائیوں تک آزادانہ مارکیٹ کی قوتوں سے محفوظ رہے ہیں۔  نئے قوانین سے نجی خریدار بھی مستقبل میں فروخت کے لیے ضروری اجناس ذخیرہ کر سکتے ہیں جو کہ اس سے پہلے صرف حکومت سے منظور شدہ ایجنٹ ہی کر سکتے تھے۔