علاماؤں سے معذرت کے ساتھ

علامہ جیسے لقب کی جتنی قدومنزلت میرے دل میں ہے اتنی ہی میری کھوجی طبیعت کو یہ دھن تھی کہ اس لقب کے عطا کرنے کے ماخذ جان سکوں۔ وکی پیڈیا جو ایسی تحقیق پر ہمیشہ ہی دھوکہ دے جاتا ہے، نے یہ کہہ کر چپ سادھ لی کہ یہ ایک بہت بڑا ایشیائی ملکوں میں دیا جانے والا اعزاز ہے اور بس۔

ہمارے محلے کے ایک مولوی صاحب جو خود بھی علامہ صاحب زادہ جیسے لمبے لقب اٹھائے پھرتے تھے، سے میں نے ایک دن سوال کرڈالا کہ مولانا صاحب کیا آپ کو یاد ہے کہ یہ جو آپ علامہ کہلائے جاتے ہیں تو اس لقب کو آپ کو کس نے اور کب دیا تھا۔ مولوی صاحب داڑھی کھجانے لگے، پھر اپنی پگڑی اتار کر گود میں رکھتے ہوئے سوچ میں پڑگئے۔  چند لمحوں بعد کہنے لگے تم نے بھی کیا کھوجی طبیعت پائی ہے۔ جاؤ کل آنا میں سوچ کر بتاؤں گا۔
موجودہ دور میں جب کہ کوئی بھی کسی بھی شعبے کا ماہر بن جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ اخبارات و رسائل میں لکھتے چھپتے عمر بتا دیتے تھے، کتابیں لکھتے زندگی تمام کردیتے تھے مگر نہ وہ خود کو صحافی و مصنف کہتے، نہ ہی انہیں کوئی مشہور و معروف کہتا تھا۔ پھر وہ دور آیا کہ جو جرنلزم میں ایم اے کرلے وہی صحافی۔ کتابوں کا مصنف البتہ وہی جو کتابیں چھاپ دے۔ بڑے بڑے اثرورسوخ والوں نے کتابیں لکھوا کر اپنے نام سے چھپوا دیں اور اپنے عہدوں کو بروئے کار لاکر 'بیسٹ سیلر' فہرست میں خود کو درج کروالیا۔ مگر باراک اوبا ما کا مسئلہ اور ہے۔

ایم اے سے نکل کر بات ڈاکٹریٹ تک پہنچ گئی اور ڈاکٹریٹ کے حصول میں بھی گھٹالہ نکل آیا۔ آج کل جرمنی کی وزیر خاندانی امور بھی اپنے ڈاکٹر کے ٹائٹل سے جان چھڑانے کے درپے ہیں۔ ڈاکٹر کا ٹائٹل نہایت نازک اور معترض ہے۔ ہمارے یہاں تو ہر ایم بی بی ایس پاس ڈاکٹر صاحب کہلاتا ہے۔ کبھی کوئی پی ایچ ڈی والا خود کو ڈاکٹر لکھتا ہے۔ بلکہ بے شمار اعزازی ڈاکٹر گھومتے پھرتے ہیں۔ اور نقل کرکے ڈاکٹر بننے والوں میں جرمنی کے کئی ایک سیاسی مدبر شہرت پا چکے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں ایک موبائل فون سے آپ جرنلسٹ، ٹی وی اینکر اور صحافی، سیاست داں، مدبر اور علامہ سب کچھ بن سکتے ہیں۔ کچھ نہ ہو نے کے باوجود۔ میری تحقیق ادھوری رہ گئی اور میں یہ پتہ چلانے سے قاصر ہی رہ گیا کہ وہ کون سا ادارہ ہے جو علامہ کا لقب جاری کرتا ہے۔
ہمارے گھروں میں جب کوئی بچہ بہت بولتا ہو اور اپنے بڑوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہو اور وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ بچہ جو باتیں کررہا ہے، اس کی اسے سمجھ نہیں تو ایسے میں کہتے ہیں اچھا زیادہ علامہ نہ بنو۔ بس علامہ بننے کا یہ واحد مستند ماخذ ہے۔ جس طرح کسی یونیورسٹی میں پڑھاتے پڑھاتے بندہ خودبخود پروفیسر کہلانے لگتا ہے، اسی طرح موجودہ دور میں کوئی بھی علامہ کہلائے جانے کا مستحق ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ میی اپنی کھوجی طبیعت کے ہاتھوں کافی نالاں ہوں اور مجھے گمان ہے کہ بچپن میں مجھے بھی میرے گھروالوں نے ضرور کبھی نہ کبھی یہ کہا ہوگا کہ تم تو چپ ہی رہو بالشت بھر کے علامہ۔

چونکہ مجھے یاد ہے بہت قبل جب میں ابا سے ایک روز پوچھ بیٹھا کہ ابا یہ ابو جہل کو ابو جہل کیوں کہتے ہیں۔ توابا بولے خاموش رہو زیادہ بولنے سے بھی جہالت جھلکنے لگتی ہے۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ، علم کے ماخد پروفیسر صاحبان، اچھے لکھاری اور قابل اعتماد صحافیوں کی طرح علامہ کی فہرست میں بھی سچ مچ بے شمار حقیقی علامہ کے ساتھ یقیناً کچھ لوگ مجھ ایسے جہالت کے بھی علامہ ہوں گے۔ اور نہیں تو گالم گلوچ کے علامہ تو ہوں گے ہی۔

طالب علمی کے زمانے میں، گو طلب علم تو اب بھی باقی ہے، میں نے ایک کئی روزہ سمینار میں حصہ لیا تھا، جس کا عنوان تھا: غیر مرئی قوت۔ اور یہ غیر مرئی قوت جادو وغیر نہیں بلکہ موجودہ سائنسی شعبدے کی قوت پر بات تھی۔ جس میں انسان کی مختلف اشتہاہ اور نفسانی خواہشات کے ابھار کے ذریعہ کس طرح لوگوں کو گمراہ کیا جاسکتا ہے۔ یا حیرت کے سمندر میں ڈبویا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال اشتہارات ہیں جو بالکل غیر متعلقہ تصاویر یا فلم کے چھوٹے سے ٹکڑے سے انسانی خواہشات کو ابھارتے اپنی مصنوعات بیچ ڈالتے ہیں۔

یہ دور ایسی ہی جادوئی اور سحرانگیزی کا دور ہے۔ انسان حیران کن حد تک سحر میں گرفتار رہنے اور لایعنی بات پر یقین رکھنے کا علامہ بن چکا ہے۔