کچھ ممالک اپوزیشن کی پشت پر ہوسکتے ہیں: وزیر اعظم عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن اتحاد  پی ڈی ایم کے بارے میں کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے پیچھے کچھ ممالک ہوں جن کی وجہ سے اپوزیشن کو اعتماد مل رہا ہے۔

منگل کو صحافیوں سے ملاقات میں انہوں نے حکومت کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر تفصیل سے بات کی ہے۔ بی بی سی نے اس ملاقات میں شریک چند صحافیوں سے بات کی ہے۔ سینیئر صحافی راؤ خالد کے مطابق جب وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیا گیا کہ اپوزیشن کے اعتماد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کچھ ملکوں کا اتحاد پاکستان کو تگڑا نہیں دیکھنا چاہتا۔‘ عمران خان نے خدشہ کا اظہار کیا کہ یہ ممالک پاکستان کا بھی وہی حال کرنا چاہتے ہیں جو لیبیا اور عراق کا ہوا ہے۔ یہی ممالک سعودی عرب اور ایران کو لڑانے کی سازش کرکے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے مطابق یہ سب کچھ ایک منصوبہ کے تحت ہورہا ہے۔ جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے اس کے پیچھے بھی ایک سورس ہے۔

راؤ خالد کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’ہمیشہ سے کچھ قوتیں ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں اور وہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔‘  ملاقات میں شریک صحافیوں کے مطابق عمران خان نے اس حوالے سے کسی ملک کا نام نہیں لیا مگر یہ ضرور کہا ہے کہ اگر اپوزیشن کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے تو اپوزیشن کو دیکھ کر ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

عمران خان نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپوزیشن کو لاہور جلسے کی اجازت نہیں دیں گے مگر وہ انہیں روکیں گے بھی نہیں۔ اپوزیشن ہمیں جال میں پھنسانا چاہتی ہے لیکن ہم طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے استعفوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان استعفوں کے بعد وہ انتخابات کروا دیں گے۔

محمد عادل کے مطابق 92 اخبار کے ایڈیٹر راؤ خالد کے سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کسی نے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت آنے سے قبل ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ ان تعلقات سے پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ پاکستان کے ہمیشہ سے ان ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انڈیا ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ تاہم عمران خان نے انڈیا کے آرمی چیف کے سعودی عرب کے دورے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جب عمران خان سے سوال کیا گیا کہ اپنی حکومت کی ناکامیوں اور کامیابیوں کے بارے میں بتائیں تو عمران خان نے کہا کہ ’میری حکومت کی پہلی ناکامی: آئی ایم ایف کے پاس دیر سے جانا ہے‘۔  صحافیوں کے مطابق عمران خان نے کہا ان کی حکومت کی دوسری بڑی ناکامی یہ ہے کہ ’ہم وقت پر ادارہ جاتی اصلاحات نہ کر سکے۔ اس حوالے سے انہوں نے خاص طور پر پاکستان سٹیل ملز کا حوالہ دیا ہے۔

عمران خان نے کہا بروقت فیصلہ سے ملک کے اربوں روپے بچائے جا سکتے تھے۔

تاہم وزیر اعظم نے اس کے فوراً بعد اپنی حکومت کی کامیابیاں بھی گنوانا شروع کر دیں اور کہا کہ اب ہم معاشی اعتبار سے ٹھیک فیصلے کر رہے ہیں۔  مشکلات کے باوجود کافی چیزیں ہم نے بہتر کر لیں اور اور آگے چل کر مزید بہتر کر لیں گے۔  راؤ خالد کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس بات کی پروا کیے بغیر کے ہم کتنے عرصہ حکومت میں رہیں گے، اب ہم نے طویل المعیاد منصوبے شروع کر دیے ہیں۔

ان منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دو بڑے ڈیم اور دو نئے شہر آباد کرے گی۔

موجودہ  شہروں کو جدید بنایا جائے گا۔ ہم ہر شہر کا ماسٹر پلان بنا رہے ہیں تاکہ یہ شہر اب مزید نہ پھیلیں۔ اب شہروں میں متوازی کے بجائے عمودی ترقی ہو گی یعنی گھروں کے بجائے کثیر المنزلہ فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے۔

اسلام آباد میں روزنامہ دنیا کے ایڈیٹر محمد عادل نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان نے واضح کیا ہے کہ فوج نے پوری طرح انہیں سپورٹ کیا ہے۔ ان کے مطابق فوج نے ہماری خارجہ پالیسی کو سپورٹ کیا ہے۔ عمران خان نے فوج کے متعلق کہا کہ ’میرے ساتھ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘ میں چاہتا تھا کہ افغانستان میں بات چیت ہو کیونکہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ’فوج نے افغانستان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت پر بھی ساتھ دیا۔‘

محمد عادل کے مطابق عمران خان نے کہا کہ وہ اپریل میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے اور اگر اپوزیشن نے استعفے دیے تو پھر خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔

ایکسپریس نیوز کے اسلام آباد میں بیورو چیف عامر الیاس رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ 'شہباز شریف پر ایک کیس بنایا ہے جو ایسٹ ریکوری یونٹ نے بنایا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کے دور میں بننے والے کیسز کو میں ختم کردوں، تو وہ نہیں ہوگا۔ مشرف نے تو غداری کی تھی کہ حدیبیہ دستاویزات پر چُپ کرگئے تھے، سوئٹزرلینڈ کے کیسز میں چُپ کرگئے تھے۔ وہ ان کی ملک سے غداری تھی جو میں نہیں کروں گا۔

عامر الیاس رانا نے بتایا کہ  ہم نے ان سے بارہا کہا کہ آپ کو راستہ دینا چاہیے۔ آپ بڑے ہیں اور حزبِ اختلاف سے بات کریں۔ تو وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں قومی لیول پر بات کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن کرپشن پر میں کوئی بات نہیں کروں گا۔