وزارت دفاع کو سینئر عسکری افسران کی آمدنی و اثاثوں کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت
- بدھ 09 / دسمبر / 2020
- 5790
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وزارت دفاع کو آگاہ کیا ہے کہ مسلح فورسز کے افسران کی آمدنی، انکم ٹیکس، اثاثوں، مراعات، ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد اور الاٹ کیے جانے والے پلاٹس سے متعلق معلومات حساس نہیں بلکہ عوامی معلومات ہیں۔
کمیشن کی جانب سے وومن ایکشن فورم (ڈبلیو اے ایف) کے ایکٹوسٹ اور کچھ شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی 34 اپیلوں پر فیصلہ کرتے ہوئے وزرات دفاع کو یہ گائڈلائنز جاری کی ہیں۔ ان اپیلوں میں وزارت دفاع سے مذکورہ بالا معلومات طلب کی گئی تھیں لیکن وزارت نے اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اس کے بعد درخواست گزاروں نے انفارمیشن کمشنر کو ان معلومات کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کروائی تھیں۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے وزارت دفاع کو بتایا ہے کہ نامزد ’پبلک انفارمیشن آفیسر‘ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جانب سے معلومات تک رسائی کے قوانین 2019 کے رول 3 کے تحت دائر کی گئی درخواستوں پر جواب دے۔
انفارمیشن کمیشن نے وزارت دفاع کو یہ ہدایت دی کہ وہ درخواست گزاروں کی جانب سے مانگی گئی معلومات 10 دنوں میں فراہم کرے۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ افسر پر جرمانہ کیا جائے گا۔ پی آئی سی کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی افسر کے عدم تعاون یا تاخیری ردعمل کے نتیجے میں تاخیر ہوتی ہے یا کوئی اور شکایت آتی ہے تو کارروائی کی جائے گی۔
وومن ایکشن فورم نے ایک بیان میں پی آئی سی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فورم نے وزارت دفاع سے فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرلز، میجر جنرلز اور بریگیڈیئرز، ایئرفورس کے ایئرچیف مارشل، ایئر مارشلز، ایئر وائس مارشلز اور کموڈورز اور نیوی کے ایڈمرل، وائس ایڈمرل، ریئر ایڈمرل اور کموڈورز سے متعلق معلومات مانگی تھیں۔ وزارت دفاع سے انکار کے بعد درخواست گزاروں نے پی آئی سی سے رجوع کیا تھا۔