انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 09 / دسمبر / 2020
- 11850
آج بشمول پاکستان پوری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ 10 دسمبر 1948 کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 30 شقوں پر مشتمل اس تاریخ ساز دستاویز یا آفاقی منشور کی منظوری دی جسے انسانی تہذیبی ترقی اور شعوری عظمت کی معراج قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ 1215 کے میگنا کارٹا، امریکی اعلان آزادی، انقلاب فرانس یا روسو کے افکار ہی نہیں، صدیوں پر محیط شعور انسانی کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ یہ واحد دستاویز ہے جو تیار تو فرانسیسی اور انگریزی میں کی گئی تھی مگر اس کے تراجم دنیا میں سب سے زیادہ یعنی پانچ سو سے بھی زائد زبانوں میں کئے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کرنے والے ممالک جب اس عالمی میثاق انسانیت پر دستخط کرتے ہیں تو گویا اقوام عالم کے سامنے یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے ممالک اور اقوام میں ان ارفع و برتر انسانی اقدار کی پاسداری کریں گے۔
اس مختصر کالم میں تیس شقوں کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔ اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ انسانی حقوق، انسانی وقار اور آزادیوں میں کوئی نسلی، مذہبی یا جنسی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ تمام انسان آزاد اور عزت و حقوق کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں، انہیں ضمیر اور عقل و شعور ودیعت کئے گئے ہیں۔ کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ انہیں لونڈی غلام بنا کر رکھے یا بردہ فروشی کرے یا امتیازی رویہ اپنائے یا تذلیل کرے یا جان و مال کو نقصان پہنچاۓ۔ ہر انسان کو آزادی فکر، آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا حق حاصل ہے۔ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ جونسا چاہے مذہبی عقیدہ رکھے یا اسے تبدیل کر لے یا اسے ترک کر دے یا کوئی بھی عقیدہ نہ رکھے۔ ہر انسان کو پرامن طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات اور عقائد پر عمل کر سکے اور ان کی تبلیغ و تشہیر کر سکے یا پرامن طور پر تنظیم سازی کر سکے۔
ہر انسان کو تعلیم، صحت روز گار اور بنیادی انسانی سہولیات کا حق حاصل ہے۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے انسانی حقوق اور آزادیوں میں رخنہ ڈالے یا انسانی آزادیوں میں تخریب کاری کرے۔ تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی پوری نشوونما ہو گا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام میں اضافے کا ذریعہ ہو گا۔تعلیم، اقوام عالم اور نسلی و مذہبی گروہوں کے درمیان باہمی مفاہمت، رواداری اور دوستی کو ترقی دے گی اور امن عالم کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔ اس طرح رائے کی آزادی یا ووٹ کی عزت کو اتنا ہی تقدس بخشا گیا ہے جتنا انسانی جان ومال اور آبرو کو۔
اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کرنے والی اقوام نے اس بات کا بھی عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں انسانی حقوق کے اس عالمی چارٹر پر نہ صرف خود عمل پیرا ہوں گی بلکہ ان اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنے عوام میں رائج و راسخ کرنے کیلئے ان کی کماحقہ تشہیر کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے دنیا بھر میں بالعموم اور غریب ممالک میں بالخصوص بچوں سے لے کر بزرگوں تک بلاتمیز نسل، جنس یا مذہب بھوک، ننگ ، بیماریوں یا قدرتی آفات میں مدد کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔ جنگوں میں بھی جنیوا کنونشنز کے مطابق انسانی آبادیوں، ہسپتالوں یا انسانی فلاحی مقامات پر انسانی بچاؤ یا بہبود کیلئے تن دہی سے تگ و دو کرتے ہیں۔ یو این کی کامیابیوں یا ناکامیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن انسانی عظمت و وقار کو آگے بڑھانے کا ہمارے پاس اس سے بہتر متبادل کوئی نہیں۔
یو این ہیومن راٹس چارٹر کا اولین تقاضا یہ ہے کہ تمام اقوام اپنے اپنے ممالک میں سوسائٹی کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین، بچوں اورمذہبی اقلیتوں کے حقوق کا سہارا بنیں۔ انہیں برابر کے شہری و انسانی حقوق دلانے کیلئے ہر نوع کے امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ ہر سوسائٹی کا میڈیا نہ صرف خود اپنی آزادی کے حق کو منوانے کیلئے پوری یکجہتی و طاقت کے ساتھ ڈٹ جائے بلکہ دبے ہوئے کمزور طبقات کی زبان اور سہارا بنے۔
درویش اگر ان ارفع انسانی اصولوں اور آدرشوں کی روشنی میں اپنی سوسائٹی یا سماج کا جائزہ لے تو سخت مایوسی اور دکھ میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ کیا کہیں سے ایسی کوئی مضبوط آواز اٹھ رہی ہے کہ یو این ہیومن رائٹس چارٹر کو ہر سطح پر ہمارے تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہیے؟ اگر آج کے دن تک ایسے نہیں ہو سکا تو اس کا مجرم کون ہے؟ اس کے برعکس ہمارا تعلیمی نصاب اور میڈیا مختلف النوع تعصبات کے تحت انسانوں کے درمیان منافرت کو پروموٹ کرتے پائے جاتے ہیں۔
ہماری بربادی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم حال میں نہیں ماضی میں جی رہے ہیں۔ ایک امریکی مدبر نے کہا تھا کہ ’مرے ہوئے لوگوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ زندوں پر حکومت کریں‘۔ لیکن ہماری تو ساری باگیں ہی فوت شدگان کے پاس ہیں۔ یہاں اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے مقدس ناموں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کائنات میں انسانی جان سے زیادہ حرمت والی کوئی چیز نہیں مگر افسوس اس مملکت خدا داد میں انسانی خون و وقار سے ارزاں کوئی چیز نہیں رہی ہے۔ جب انسانی جان کی ناموس و حرمت نہیں ہو گی تو پھر اس کی رائے اور سوچ کی بھی ایسی ہی تذلیل ہو گی جیسی 70 سالوں سے یہاں روا رکھی جا رہی ہے۔
آج آپ ماضی کی کوتاہیوں سے تائب ہو کر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ کاش یہاں بوٹ اور لٹھ کی بجائے عقل و شعور کو اس کا مقام کماحقہ حاصل ہو سکے۔ کاش خواتین اور کمزور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین اور رویوں کاخاتمہ ہو سکے جو فی الواقع ہمارے آئین، قوانین اور رویوں میں دیمک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔