شام کی جنگ میں حصہ لینے والے دو افراد کراچی سے گرفتار
- جمعرات 10 / دسمبر / 2020
- 10280
پاکستانی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں لوگ جاتے رہے ہیں۔ جن میں زینبیون بریگیڈ بھی شامل ہے۔
سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دو ایسے انتہائی مطلوب افراد کو پکڑا ہے جن کا تعلق کالعدم شدت تنظیم سپاہ محمد کے زینبیون بریگیڈ سے ہے۔ پولیس کے مطابق یہ دونوں مذہبی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ جن میں ایک درجن سے زائد افراد کے قتل ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق ان ملزمان پر ڈاکٹروں، کالعدم تنظیموں یا سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، تاجر اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے الزامات ہیں۔ پولیس کے دعوے کے مطابق ملزمان سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان ملزمان نے پڑوسی ملک ایران سے تربیت حاصل کی۔ اس میں اسلحہ چلانے کے ساتھ بارودی مواد، خودکش جیکٹس تیار کرنے، خودکش حملوں، اینٹی ائیر کرافٹ گن چلانے اور کاؤنٹر سرویلینس ٹریننگ شامل ہے۔ دونوں ملزمان سے مزید تفتیش بھی کی جارہی ہے۔ ایران نے اب تک دہشت گردوں کی تربیت کے ان الزامات پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔
پاکستانی پولیس یہ تصدیق بھی کی ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں لوگ جاتے رہے ہیں۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سندھ پولیس عمر شاہد حامد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زینبیون بریگیڈ حقیقت ہے اور یہ گروپ ان رضاکاروں کے لئے بنایا گیا تھا جو پاکستان سے شام میں جا کر لڑتے رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور فاطمیون بریگیڈ نامی گروپ ان افراد کے لئے بنایا گیا تھا جو شام میں لڑنے کے لئے افغانستان سے رضاکاروں کو لے کر جاتے ہیں۔
یہ دونوں گروپس شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ملیشیا بتائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض سُنی گروپس کے بارے میں بھی یہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ صدر بشار الاسد کے مخالف گرہوں کے ساتھ مل کر وہاں برسر پیکار رہے ہیں۔ عمر شاہد حامد کے مطابق اس لڑائی میں جانے والے بہت سے پاکستانی اپنے وطن میں بھی پہلے کسی دہشت گرد تنظیم یا عسکری گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے ایک ماضی میں ایم کیو ایم اور کالعدم سپاہ محمد میں رہا ہے۔ جب کہ دوسرا گرفتار ملزم بھی کالعدم سپاہ محمد سے وابستہ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جیسے دیگر لڑکے شام میں لڑنے کے بعد مزید تربیت یافتہ ہو جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں دہشت گردی اور شدت پسند واقعات پر کام کرنے والے تحقیقاتی ادارے جیمز ٹاون فاؤنڈیشن کی جانب سے شائع شدہ ایک آرٹیکل کے مطابق زنیبیون بریگیڈ شام میں پیغمبر اسلام کی نواسی سیدہ زینب کے مزار کو داعش اور دیگر سنی شدت پسند گروپس سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی سے یہ خطہ بُری طرح متاثر ہوا ہے اور پاکستان کو کسی حد تک اب بھی اس عفریت کا سامنا ہے۔