مراکش نے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے

  • جمعہ 11 / دسمبر / 2020
  • 4580

مراکش نے بھی اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے اور تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کی معاونت سے مراکش اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

قبل ازیں تین دیگر عرب ممالک بحرین، سوڈان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) حالیہ چند ماہ کے دوران اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ٹوئٹر پر اسرائیل اور مراکش میں ہونے والے معاہدے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسے مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کی جانب ایک تاریخی اور بڑی پیش رفت قرار دیا۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے یہودیوں کے تہوار 'ہنوکا' کی آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے شمالی افریقہ کی مملکت سے تعلقات کے قیام کی جانب پیش رفت کو 'امن کے لیے ایک اور روشنی' قرار دیا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں اور سفارتی مشن بھیجنے کی قیادت کر سکتے ہیں۔

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے صدر ٹرمپ سے جمعرات کو ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس گفتگو میں انہوں نے اسرائیل سے سیاحوں کی آمد کے لیے دو طرفہ براہِ راست پروازوں کے آغاز کی تصدیق کی۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے پورے 'مغربی صحارا' پر مراکش کی حکمرانی کو تسلیم کیا ہے۔ اس خطے پر کسی زمانے میں اسپین کی حکمرانی تھی۔ طویل عرصے سے اس علاقے کی حکمرانی کا تنازع چل رہا ہے۔ تاہم مراکش اس خطے کو اپنا جنوبی صوبہ قرار دیتا ہے۔

مراکش کی شاہی عدالت نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت واشنگٹن مغربی صحارا میں اپنا قونصل خانہ قائم کرے گا۔ دوسری جانب مراکش کے پڑوسی ملک الجزائر کے جنوب میں موجود عسکریت پسند گروہ 'پولیساریو فرنٹ' مغربی صحارا کی آزادی کی جنگ میں مصروف ہے۔

مغربی صحارا کے حوالے سے واشنگٹن کے اعلان پر سفارت کار حیرت کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجیرک نے صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی ادارے کو بھی باقی دنیا کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ کے ذریعے اس پیش رفت کا علم ہوا۔

مغربی صحارا کی حاکمیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مؤقف اس معاملے پر تبدیل نہیں ہوا۔ اس معاملے کا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ہونا چاہیے۔ مغربی صحارا کے لوگوں کے لیے پیغام کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسے اقدام سے دور رہنا ہو گا جس سے تناؤ کی صورتِ حال  بدتر ہو جائے۔